کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) عافیہ موومنٹ کی رہنما ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کہا ہے کہ اس دستخط مہم کا مقصد پاکستان کے حکمرانوں اور ارباب اختیار تک قوم کے جذبات پہنچانا ہے۔ وزیر اعظم دیکھ لیں کہ عوام، چند گھنٹوں میں ہزاروں کی تعداد میں دستخط کر کے ان سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ڈاکٹر عافیہ کو واپس لانے کا وعدہ پورا کریں۔ وزیر اعظم عمران خان جس طرح عافیہ پر خاموش ہیں تو وہ اس بات کو سمجھ لیں کہ کہیں وہ اپنی سیاست کو دفن کرنے کے لئے گڑھا تو نہیں کھود رہے ہیں؟۔ وہ اپنے سے پہلے کے حکمرانوں کو بھی دیکھ لیں۔ زیادہ دور نہیں اپنے سے پہلے کے صرف دو حکمرانوں کو ہی دیکھ لیں کہ انہوں نے عافیہ پر خاموشی اختیار کی تو آج ان کی سیاست دفن ہو چکی ہے۔ وہ پاکستان کی سیاست میں واپسی کے لئے بہت ہاتھ پیر مار رہے ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ آپ بھی اقتدار سے نکلنے کے بعد انہی کی طرح پاکستان کی سیاست میں واپسی کے لئے ہاتھ پیر مار رہے ہوں۔ عافیہ رہائی دستخطی مہم کے سلسلے کا تیسرا پروگرام، شہر کراچی کے تیسرے معروف چوراہے پر ہو رہا ہے جس میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔ ہر دستخطی مہم میں بس یہی ایک پکار ہے کہ عافیہ کو رہا کروایا جائے۔ جنگ ختم ہوگئی ہے۔ امریکہ دہائی دے رہا ہے کہ اپنے قیدی لے جاؤ۔ لیکن حکمرانوں نے اپنے کان کیوں بند کر رکھے ہیں۔ ان کی غیرتیں کہاں چلی گئی ہیں؟ عافیہ رہائی کے معاملے میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے؟ ملک کے نوجوان ملک و قوم کا قیمتی اثاثہ ہیں۔ ڈاکٹرعافیہ کا مشن اور مقصد اپنے ملک کے نوجوانوں کو اقوام عالم کے ہم پلہ بنانا تھا۔ اسامہ بھی نوجوان اور قوم کا اثاثہ تھا جو پی ایس ایل کی بندشوں میں، ڈکیتوں کی گن کے نشانے پر آ گیا۔ پی ایس ایل کی بندشیں اس کی جان لے گئیں۔ ان خیالات کا اظہارعافیہ موومنٹ کی رہنما ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے اسحٰق آباد، غریب آباد میں منعقد ہونے والے، عافیہ رہائی مہم کے سلسلے کے تیسرے پروگرام میں کیا۔ جس میں مختلف سیاسی و سماجی، انسانی حقوق کی تنظیموں اور پی ایس ایل میچوں کے دوران لٹیروں کی گن کا نشانہ بننے والے اسامہ سعید بندھانی کے خاندان کے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی اس کے علاوہ اسحٰق آباد، شریف آباد، غریب آباد اور کریم آباد کے عوام نے اسامہ شہید کے والدین سے اظہار یکجہتی کیا اور عافیہ دستخطی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے مزید کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ صرف ان قوموں اور تہذیبوں نے ترقی کی ہے، جن کی لیڈرشپ ”غیرت مند“ تھی۔ جب ایک بھارتی خاتون کو نیویارک میں امریکی قوانین کی خلاف ورزی پر مقامی پولیس نے گرفتار کیا تو فوری طور پر انڈیا میں گویا ایک بھونچال آگیا۔ وہاں کی حکومت، اپوزیشن، فوج، ریاستی ادارے، سول سوسائٹی اور عام آدمی قومی یکجہتی کے ساتھ سراپا احتجاج ہوئے۔ یہاں تک معاملہ امریکہ سے سفارتی تعلقات توڑنے کی حد تک پہنچ گیا۔ جس پر امریکیوں کو گھٹنے ٹیکنے پڑ گئے۔ اس وقت دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت میں انڈیا کا تیسرا نمبر ہے۔ مسلمانوں کی تاریخ میں عظیم جرنیل محمد بن قاسم و طارق بن زیاد، عباسی حکمران معتصم باللہ اورعثمانی سلطنت کے فرماں روا سلطان محمد فاتح نے بیٹیوں کی حفاظت کے لئے تاریخ اور جغرافیہ تبدیل کیا ہے۔ الحمدللہ ڈاکٹر عافیہ کی رہائی اور وطن واپسی کے لئے سیاسی، دینی، سماجی رہنماؤں، اساتذہ، وکلاء، الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا سے تعلق رکھنے والے صحافی، ایڈیٹرز، کالم نویس، اینکر پرسن، رپورٹر، فوٹو گرافر، کیمرہ مین، مزدور، کسان، طلبہ و طالبات غرض ہرشخص قومی غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے حصے کا فرض ادا کررہا ہے۔ اگر کہیں کمی نظر آئی ہے تو وہ ہمارے حکمرانوں، سیاسی قائدین اور پارلیمنٹ کے ایوانوں کے کردار میں نظر آئی ہے۔