اپر کوہستان (رپورٹ: عتیق سلیمانی) اتوار کی رات ضلع اپر کوہستان میں ٹی ایم اے کے دفتر میں نامعلوم وجوہات کی بنا پر آگ بھڑک اٹھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے آگ نے ساری عمارت کو لپیٹ میں لے لیا۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیم، پولیس اور مقامی افراد موقع پر پہنچ گئے۔ آگ بجھانے کے لیے تین گھنٹے ریسکیو آپریشن جاری رہا۔ آگ نے ٹی ایم اے دفتر کوجلا کر راکھ کا ڈھیر بنا دیا۔ اسی عمارت میں نادرا اور اے سی سب ڈویژن سیو کا دفتر بھی ہے۔ ٹی ایم اے کے دفتر میں آگ بھڑک اٹھنے کی خبر پھیلتے ہی کوہستان کے عوام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ رات سے ہی ٹی ایم اے کے دفتر میں آگ لگنے پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ باخبر زرائع کے مطابق 2014 سے 2018 تک ٹھیکوں کی مد میں ٹی ایم اے کو 22 کروڑ روپے کے قریب بچت ہوئی تھی۔ اور ٹی ایم اے کے دفتر میں کھڑی جیپ نمبر 1052 جو کافی عرصے سے خراب کھڑی ہے ریکارڈ میں اس جیپ کو مسلسل پٹرول مل رہا ہے اور متعدد بار تو اس کے فیول ٹینک کی گنجائش سے زیادہ پٹرول کے بل بھی سامنے آئے ہیں۔ سماجی کارکن عبدالحفیظ نے رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت ڈپٹی کمشنر اپر کوہستان کو ریکارڈ کے لیے درخواست بھی دی مگر ٹال مٹول سے کام لیا جاتا رہا۔ زرائع نے مزید بتایا کے سماجی کارکن عبدالحفیظ عوام کے ہمراہ ٹی ایم اے دفتر کے دروازے پر احتجاج کرنے والے تھے کہ ٹی ایم اے دفتر میں آگ بھڑک اٹھی اور سب جل گیا۔ جس پر کوہستان کے عوام نے دفتر میں آگ لگنے پر سوالات اٹھائے ہیں۔ سوشل میڈیا پر کوہستان کے عوام نے دل کی بھڑاس نکالتے ہوئے کہا کہ 1052 کے ریکارڈ دنیا فانی میں نا رہے۔ کوئی کہتا ہے عمارت آخری ڈر تھا عمارت نا رہی تو ڈر کیسا۔ کسی نے کہا ان کی مرضی ہے جتنا چاہیں جہاں لگا دیں۔ کوئی کہتا ہے عمارت جلاؤ کرپشن بچاؤ۔ کسی نے کہا پبلک ہیلتھ کی عمارت کے ساتھ بھی یہی ہوا تھا اگر اسکی تفتیش ہوتی تو ایسی نوبت نا آتی۔ کوئی کہتا ہے کہ شاید اب یہ اعزاز سی اینڈ ڈبلیو کے حصے میں آئے گا۔ کوہستان کے عوامی حلقوں نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ سطح پر انکوائری کی جائے اور زمہ داران کو کڑی سزا دی جائے تاکہ آئندہ ایسا نا ہو۔ گزشتہ روز کوہستان کے سماجی کارن حفیظ الرحمان، عبدالجبار، عبیدالرحمان، قاری گل آمان، فضل الرحمان اور دیگر عوام نے ٹی ایم اے دفتر کے باہر پریس کانفرنس کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ انکوائری رپورٹ تک ٹی ایم او اویس خان کو عہدے سے ہٹایا جائے۔ آئندہ بدھ تک ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا ہے کہ شفاف افسران کے ساتھ شفاف انکوائری شروع کی جائے بصورت دیگر احتجاج کا راستہ اپنایا جائے گا۔ ڈپٹی کمشنر اپر کوہستان نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کردی ہے۔ کمیٹی میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر و ایڈشنل اسسٹنٹ کمشنر ریونیو کوہستان اور واپڈا کا ٹیکنیکل سٹاف شامل ہے کمیٹی واقعہ کی تحقیقات کر کے سفارشات ڈپٹی کمشنر کوہستان کے پاس جمع کرے گی۔