کراچی (نوپ نیوز) سی پیک پاک چین دوستی کا اہم جز ہے لیکن دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ اور بزنس کمیونٹی کے مابین تعلقات اس سے کہی زیادہ گہرے ہیں۔پاکستان کے کم آمدنی والے طبقے کے حالات دیکھ کر افسوس ہوتا ہے، لیکن کوشش ہے کہ کسی طرح پاکستان کو معاشی مشکلات سے نکالیں۔ ان خیالات کا اظہار چین کے قونصل جنرل لی بیجیان نے کورنگی ایسو سی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے دورے کے موقع پر کیا۔ تقریب میں کاٹی کے صدر سلمان اسلم، سینئر نائب صدر ماہین سلمان، نائب صدر سید فرخ قندھاری، سابق صدور دانش خان، فرخ مظہر، جوہر قندھاری، احتشام الدین، مسلم محمدی سمیت دیگر ممبران بھی موجود تھے۔ چین کے قونصل جنرل نے مزید کہا کہ سی پیک کے بیشتر منصوبے مکمل ہوچکے ہیں، گوادر کی خطہ میں اہمیت مزید بڑھ گئی ہے،ایئر پورٹ، ٹریننگ سینٹر، گوادر پورٹ سمیت متعدد منصوبوں میں چین نے سرمایہ کاری کی ہے۔ خوشی ہے کہ سی پیک کے باعث پاکستان میں بجلی کے بحران کا خاتمہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ گوادر ایئر پورٹ کا ترقیاتی کام 90 فیصد مکمل ہوچکا ہے، امید ہے کہ 2023 تک گوادر ایئر پورٹ آپریشن کا آغاز کر دیگا۔ قونصل جنرل چین لی بیجیان نے کہا کہ گوادر میں اسپتال بھی تعمیر کیا جارہا ہے، توقع ہے کہ اسپتال بھی آئندہ سال سے کام شروع کردے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی صنعتکاروں، سرمایہ کاروں کیلئے چین میں تجارت کے بے پناہ مواقع موجود ہیں۔ چین میں 50 کروڑ کی آبادی مڈل کلاس ہے جو پاکستان کیلئے بڑی مارکیٹ ثابت ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان چین کو پھلوں اور سبزیوں کی برآمدات کر سکتا ہے، جبکہ چین میں چاول، مچھلی سمیت سمندری غذا کی بڑی مارکیٹ موجود ہے جس سے پاکستان کے ایکسپورٹرز بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان آئی ٹی اور الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری میں تعاون مزید بڑھایا جاسکتا ہے۔ قونصل جنرل کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے مابین تجارت میں پاکستان کے برآمدی حجم کو بڑھانے کیلئے کاٹی کے اشتراک سے حکمت عملی مرتب کر سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کے صنعتکار دونوں ممالک کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے سے فائدہ اٹھائیں۔ اس سے قبل کاٹی کے صدر سلمان اسلم نے چین کے قونصل جنرل کو کاٹی آمد پر خوش آمدید کرتے ہوئے کہا کہ چین پاکستان کا برادر ملک ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بہت مضبوط ہے۔انہوں نے کہا کہ سی پیک منصوبہ دونوں ممالک کی معیشت کیلئے اہم ہے۔ صدر کاٹی نے کہا کہ چین کو برآمدات میں اضافہ کیلئے اپنی تجاویز سے آگاہ کریں گے ۔ اس موقع پر سابق صدر دانش خان نے تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ چین کے سرمایہ کار پاکستان میں صنعتیں لگائیں ۔ انہوں نے زور دیا کہ چین سے پاکستان کی مصنوعات کے فروغ کیلئے مشترکہ طور پر تجارتی نمائشوں کا انعقاد کیا جائے ۔ فرخ مظہرکا کہنا تھا کہ ہر پاکستانی سی پیک منصوبہ کو اہم سمجھتا ہے، تاہم منصوبہ تعطل کا شکار ہو رہا ہے جس پر تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک منصوبے میں ایم ایل ون بھی شامل کیا گیا جس پر تاحال کام کا آغاز نہیں کیا جاسکا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی سرکلر ریلوے کو بھی سی پیک میں شامل کرنا خوش آئند ہے۔