کراچی (نوپ نیوز) پرائیویٹ اسکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن پسماء کے چیئرمین دانش الزماں نے اپنے جاری بیان میں کہا ہے کہ بین الصوبائی وزراء کانفرنس میں تعلیمی اداروں کو معمول کے مطابق کھلے رکھنے کا فیصلہ خوش آئند ہے۔ گزشتہ دو سالوں میں کورونا وباء کے دوران تعلیمی ادارے متواتر بند رہنے کی وجہ سے طالبعلموں اور تعلیمی اداروں کا ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے۔ جس کے اثرات تعلیمی اداروں اور طالبعلموں پر ابتک نمایاں نظر آرہے ہیں۔ گزشتہ دو سالوں میں طالبعلموں اور تعلیمی اداروں کو پہنچنے والے نقصانات کو مکمل طور پر پورا کرنا تو نا ممکن ہے لیکن ماضی کی غلطیوں کو نہ دوہرا کر ملک پاکستان کا مستقبل محفوظ کیا جا سکتا ہے۔ جس طرح پاکستان کی معاشی صورتحال میں مکمل لاک ڈاؤن لگانا نقصان دہ عمل تھا اسی طرح ملک میں تعلیم کی انتہائی مخدوش صوتحال پر تعلیمی ادارے بند کرنا بھی نقصان دہ عمل ہے۔ نجی تعلیمی ادارے ملک پاکستان کے تعلیمی دھانچے میں ریڑھ کی ہڈی کے مانند ہیں جن میں اکثریت کم ماہانہ فیس وصول کرنے والے تعلیمی اداروں کی ہے جوکہ 80 120 اور 200 گز کی عمارتوں پر قائم ہیں اور ان ہی اداروں میں کثیر تعداد میں طالبعلم زیر تعلیم ہیں۔ کورونا وباء کی ہنگامی صورتحال کے بعد نجی تعلیمی اداروں کو حکومت کی جانب سے ٹیکسز رینول ریجسٹریشن فیس یوٹیلیٹی بل طالبعلموں کی امتحانی اور انرولمنٹ فیس میں رعایت دی جائے اور آئے روز کے ایسے احکامات سے گریز کیا جائے جن سے معیاری تعلیم کو عام کرنے میں رکاوٹیں پیدا ہوں۔ اس وقت شرح تعلیم کی صورتحال کے مطابق تعلیمی اداروں میں کھیل کود کے میدان ہونا ضروری نہیں بلکہ تعلیمی معیار بہتر کرنا اور تعلیمی اداروں سے باہر بچوں کو واپس اداروں میں داخل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ جہالت کا اندھیرا ختم کر کے گھر گھر علم کا چراغ روشن کیا جائے۔ وزیر تعلیم سندھ سردار شاہ صاحب سے پسماء یہ فوری مطالبہ کرتی ہے کہ لاکھوں طالبعلموں کے بہتر مفاد میں جاری کئے گئے ایسے تمام احکامات کو واپس لیا جائے جن سے صوبہ سندھ میں ہزاروں تعلیمی ادارے بند اور لاکھوں طالب علموں کا تعلیم سے محروم ہونے کا خدشہ ہے۔