Home/اہم خبریں/ایم کیو ایم نے کراچی کی مردم شماری پر سودے بازی کی جبکہ پیپلز پارٹی واحد جماعت ہے جو آخری دم تک لڑ رہی ہے۔ وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی
ایم کیو ایم نے کراچی کی مردم شماری پر سودے بازی کی جبکہ پیپلز پارٹی واحد جماعت ہے جو آخری دم تک لڑ رہی ہے۔ وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی
کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) وزیر اطلاعات و محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم نے کراچی کی مردم شماری پر سودے بازی کی جبکہ پیپلز پارٹی واحد جماعت ہے جو آخری دم تک لڑ رہی ہے۔ کراچی کے عوام نے لسانی سیاست جتنی قیمت چکائی ہے اب مزید برداشت نہیں کریں گے۔ پیپلز پارٹی اب کراچی میں ایم کیو ایم یا ان کی بگل بچہ دیگر نام نہاد جماعتوں کو کراچی میں لسانی سیاست کی کسی صورت اجازت نہیں دے گی۔ بلدیاتی قانون پر ہم نے اسمبلی میں بھی اپوزیشن جماعتوں کی ترامیم پر بات کرنے کا کہا تھا لیکن انہوں نے بائیکاٹ کیا اور آج بھی ہم اس پر بات کرنے کو تیار ہیں۔ لیکن بلدیاتی قانون کی آڑ میں کسی کو لسانی سیاست کی اجازت نہیں دیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کی شام اپنے کیمپ آفس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی کے سنئیر نائب صدر مرزا مقبول، نجمی عالم، سردار خان اور دیگر بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ سعید غنی نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کے دوستوں نے نفرتوں کی باتیں کی جن کا جواب دینا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ الطاف حسین سے لاتعلقی کرتے ہیں پراسی طرح زہریلی باتیں کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مصطفی کمال بھی اسی طرح کی باتیں کرتے ہیں اور وہ خود را کے ایجنٹ بنے ہوئے تھے اور آج کہتے ہیں کہ وزیروں کو اٹھاؤ ان کے بچوں کو اٹھاؤ۔ یہ کون سی سیاست ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ ایم کیو ایم جب ہماری اتحادی تھی چار مرتبہ پیٹرول قیمتوں میں اضافے پر حکومت سے علیحدہ ہونے کا اعلان کرتی رہی جبکہ اس وقت عالمی مارکیٹ میں پیٹرول کی قیمتیں بڑھ رہی تھی اور آج انہوں نے اس پر سودے بازی کرلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کراچی میں گیس نہیں ہے، سندھ سب سے زیادہ گیس پیدا کرتا ہے اس پر بھی ایم کیو ایم خاموش ہے۔ انہوں نے ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی کو مخالب کرتے ہوئے کہا کہ اس شہرمیں لسانی قتل وغارت غیری آپ نے کی۔ شہرمیں پٹھانوں سندھیوں کو آپ نے مارا اور آج ہم پر سندھو دیش کا الزام لگا رہے ہو جبکہ سب سے زیادہ آپ قوم پرستوں کے تعلقات میں رہے اور الزام ہم پر لگاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کراچی کے شہریوں نے ان کو اوقات دکھائی ہے اور این اے 239 کا الیکشن ہو یا پھر حالیہ کنٹونمنٹ کے الیکشن ہوں ان کو عوام نے ان کی اوقات یاد دلا دی ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ ایم کیو ایم اپنا محاسبہ کریں پانچویں چھٹے نمبر پر آرہے ہو بلدیہ میں تمہارا کیا حشرہوا۔ انہوں نے کہا کہ یہ الطاف والا طرز سیاست مسترد ہوگیا جب مائیں بیٹوں سے اور بہنیں شوہروں سے محروم ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ مصطفی کمال کہتے ہیں الطاف حسین نے یہ سب کیا تو اس وقت تم تو ان کے ساتھ تھے۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ اپنے کرتوتوں پر پردہ ڈال رہے ہیں لیکن عوام اب ان کے لسانی سیاست کو مسترد کرچکی ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ کراچی کی مردم شماری کا انہوں نے سودہ کیا۔ ہم نے اسمبلی میں عوام کو ریلیف دینے کے لئے قرارداد پیش کی تو ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی اس قانون کی مخالفت کر رہی ہے جس سے متاثرین کو ریلیف ملے مجھے بتائیں کہ بھائی یہ غیر قانونی آبادیاں تم نے قائم نہیں کی تو کسی نے کی تھی۔ سعید غنی نے کہا کہ یہ کہتے ہیں میئر کا انتخاب شو آف ہینڈ سے کریں، ہم کرسکتے ہیں اس میں کون سی بڑی بات ہے۔ ہم نے اس قانون میں کسی سے کوئی اختیارنہیں لیا بلکہ اختیار دیا ہے، قانون اٹھاکر پڑھو تو سہی صرف بغز پیپلز پارٹی میں ہی سیاست کرنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون میں پہلے بھی کچرا اٹھانے کا کام لوکل گورنمنٹ اداروں کے پاس ہے، ہم نے سالڈ ویسٹ کو کسی پر مصلت نہیں کیا۔ یہ ہر چیز کو تعصب کی بنیاد پر دیکھتے ہیں۔ اصل میں ان کو بے سکونی ہے کہ لاشیں کیوں نہیں گر رہی ہے کیونکہ ان کے منہ کو خون لگا ہوا ہے، ان کی دکانداری خون ریزی پر چلتی ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ 4 سال پہلے تک کوئی ایم کیو ایم سے دوسری پارٹی میں جانے کا بھی نہیں سوچ سکتا تھا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اگر اس نے ایسا کیا تو مارا جائے گا اور آج ایم کیو ایم کے خوف کا شکار تھے وہ پیپلز پارٹی سمیت دیگر پارٹیوں میں جارہے ہیں اور یہی خوف ایم کیو ایم کو ہے کہ جن کو قبر میں ہونا چاہیئے دوسری پارٹیوں میں کیسے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم اصل میں اگلے الیکشن سے بھاگنا چاہتی ہے کیونکہ انہیں اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ ان کو آنے والے بلدیاتی انتخابات میں بھی امیدوار نہیں ملیں گے اور اگر مل بھی گئے تو ان کی ضمانتیں ضبط ہوجائیں گی اور اسی وجہ سے وہ ایک بار پھر اس شہر کو لسانیت کی سیاست کی جانب دھکیلنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب اس شہر کے عوام اور پیپلز پارٹی ان کو اس لسانی سیاست کی ہر گز اجازت نہیں دیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ گورنر کے پاس آئینی اختیار موجود ہے وہ اسمبلی سے منظور ہونے والے بل پر اعتراضی نقات لکھ سکتے ہیں اور بھیجے گئے بل یا آرڈیننس واپس کرسکتے ہیں۔ ہم ان کے اعتراض کو دیکھیں گے اس کے بعد بل کو دوبارہ اسمبلی سے منظور کروا کر بھیجے گے، جس پر وہ آئینی طور پر اعتراض نہیں کرسکتے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ جب ایم کیو ایم کا عروج تھا اس وقت بھی ہم کہتے تھے کہ ایم کیوایم کے سیاسی ونگ سے بات چیت کرنی چاہیئے، سیاسی لوگ ہماری پارٹی میں آسکتے ہیں۔ دہشتگرد اور سزا یافتہ لوگوں کو شامل نہیں کرنا چاہیئے۔ ایک سوال پر سعید غنی نے کہا کہ نفرت کی سیاست کو پیدا کرنے والے یہ ہیں۔ سندھو دیش بنانے والوں کے ساتھ الطاف حسین کی قربت رہی ہے۔ خالد مقبول صدیقی کے خطاب کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم ڈرامے بازیاں کرتی ہے۔ ہمیشہ علیحدہ صوبے کی بات کرتے ہیں لیکن آئین کے مطابق علیحدہ صوبے کے لئے اسمبلی سے قرارداد منظور کروانا ہوتی ہے، کیا آج تک ایم کیو ایم نے صوبائی اسمبلی میں ایسی کوئی قرارداد تولائی ہے وہ کبھی بھی نہیں لائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ لوکل اداروں میں صحت اور تعلیم میں ایم کیو ایم نے گھوسٹ ملازم بھرے تھے اور آج ان اداروں کا جو حال ہے وہ بھی سب کے سامنے ہے۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ سندھ کی تمام سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ سندھ میں دوسرا کوئی صوبہ نہیں بنے گا۔