تازہ ترین
Home / اہم خبریں / کراچی کو پیرس بنانے کے دعویدار منہ چھپائے بیٹھے ہیں۔ پی ٹی آئی اور پی پی پی کے دورمیں کراچی کی حالت بدترین ہو گئی ہے۔ وائس چیئرمین پی ڈی پی عبدالحاکم قائد

کراچی کو پیرس بنانے کے دعویدار منہ چھپائے بیٹھے ہیں۔ پی ٹی آئی اور پی پی پی کے دورمیں کراچی کی حالت بدترین ہو گئی ہے۔ وائس چیئرمین پی ڈی پی عبدالحاکم قائد

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے وائس چیئرمین عبدالحاکم قائد نے کہا ہے کہ کراچی کو پیرس بنانے کے دعویدار منہ چھپائے بیٹھے ہیں۔ شہر قائد کو کھنڈر بنا کر خود لندن، نیویارک اور دبئی جا کر بس گئے ہیں۔ تحریک انصاف کے تین سال اور پیپلز پارٹی کے پچاس سالوں میں کراچی کی حالت بدترین ہو گئی ہے۔ دنیا کے بڑے شہروں میں شامل کراچی کی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں نے عوام کا جینا محال کر رکھا ہے۔ جگہ جگہ سے ادھڑی ہوئی سڑکوں پر گاڑیاں بھی ڈگمگاتی ہوئی گزرتی ہیں، حادثات ہونا معمول کی بات ہے۔ غیر تعمیر شدہ سڑکوں پر اڑتی دھول اور مٹی سے فضائی آلودگی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ چھ ماہ پہلے مرمت کے نام پر کھودی جانے والی نارتھ کراچی پیلے اسکول کی سڑک کا حال بھی انتہائی بدتر ہے۔ جہاں کھدائی کے بعد مٹی اور پتھر ڈال دیئے گئے تھے۔ چھ ماہ گذرجانے کے باوجود کام ادھورا چھوڑ دیا گیا ہے۔ سارا دن دھول اور مٹی اڑتی رہتی ہے، جس کی وجہ سے سانس کے امراض میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سڑک کی مرمت اور ادھورے کام کو مکمل کرنے کے لئے متعدد درخواستیں انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کو بھیجی جا چکی ہیں۔ پاسبان انتظامیہ سے مطالبہ کرتی ہے کہ پورے شہر میں جابجا ٹوٹی پھوٹی اور کھودی جانے والی سڑکوں کی تعمیر و مرمت کا کام فوری کیا جانا چاہئیے۔ کراچی سے حاصل ہونے والے ٹیکس کا اگر 10 فیصد بھی ایمانداری کے ساتھ کراچی پر خرچ کیا جائے تو بہت سارے مسائل حل کئے جا سکتے ہیں۔ پاسبان پبلک سیکریٹریٹ میں پیلا اسکول نارتھ کراچی سے آئے ہوئے ایک عوامی وفد سے گفتگو کرتے ہوئے پی ڈی پی کے وائس چیئرمین عبدالحاکم قائد نے کہا کہ کراچی کی سڑکوں پر سفر کرنا ذہنی اذیت میں مبتلا کرتا ہے۔ ماس ٹرانزٹ منصوبے کے ادھورے کام کے سبب شہر کا ایک بڑا حصہ متاثر ہے۔ ٹوٹی ہوئی خستہ حال سڑکیں شہریوں کے لیے خطرہ بن چکی ہیں۔ سڑکوں پرنہ صرف پیدل انسانوں کا چلنا دشوار ہے بلکہ ٹریفک کے لئے بھی انتہائی دشواری کا باعث ہے۔ رہی سہی کسر جگہ جگہ ابلتے گٹر پوری کر رہے ہیں۔ خراب سڑکوں پرہروقت گاڑی الٹنے کا دھڑکا لگا رہتا ہے۔ سینکڑوں افراد سڑک حادثات میں اپنی جانوں کو گنوا بیٹھتے ہیں۔ کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ کو دنیا کا سب سے بدترین نظام قرار دیا ہے۔ اس نظام کی ایک بڑی وجہ کراچی کی ٹوٹی پھوٹی سڑکیں ہیں۔ کروڑوں روپوں کے سالانہ فنڈز مختص کئے جانے کے باوجود بلدیہ عظمی کراچی اور ضلعی بلدیات ٹوٹی پھوٹی سڑکوں اور گڑھوں کی استرکاری میں ناکام ہیں۔ ٹوٹی پھوٹی سڑکوں سے گاڑیوں کو نقصان پہنچنے کے علاوہ ایکسیڈنٹ، پٹرول، ڈیزل، سی این جی اور وقت کا نقصان ہوتا ہے جسے حکمران نہیں، عوام اور ملک کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ شاہراہ فیصل اور اس کے اطراف کی سڑکیں اس لئے ٹوٹی پھوٹی نہیں ہیں کیونکہ ان پر اشرافیہ سفر کرتی ہے جن کی نظروں میں عوام کی اوقات کیڑوں مکوڑوں سے زیادہ نہیں ہے۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے