Home / اہم خبریں / اسلام آباد ہائی کورٹ، ججز کو پلاٹس الاٹمنٹ منسوخی کے فیصلے کے لئے مبارکباد کی مستحق ہے۔ چیئرمین پی ڈی پی الطاف شکور

اسلام آباد ہائی کورٹ، ججز کو پلاٹس الاٹمنٹ منسوخی کے فیصلے کے لئے مبارکباد کی مستحق ہے۔ چیئرمین پی ڈی پی الطاف شکور

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے بیوروکریٹس اور ججز کو پلاٹس کی الاٹمنٹ کینسل کر کے عدلیہ کی ساکھ کو متاثر ہونے سے بچا لیا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ اس جرات مندانہ اور تاریخ ساز فیصلہ کے لئے مبارکباد کی مستحق ہے جس نے ججز کے احترام اور سالمیت کو مجروح نہیں ہونے دیا۔ حکومت میں موجود کرپٹ عناصر جس طرح ہر ادارے کو کرپٹ کرنا چاہتے ہیں، اسی طرح عدلیہ کے وقار کو مجروح کرنے کے لئے یہ ان کی ایک سازش تھی جسے اسلام آباد ہائی کورٹ نے ناکام بنا دیا۔ جب ججز اور سول سرونٹس کو سرکاری زمینیں یا پلاٹس الاٹ کرنے کی کوئی آئینی اور قانونی پالیسی موجود نہیں ہے اور پارلیمنٹ نے بھی کبھی ایسی کسی اسکیم کی منظوری نہیں دی ہے تو رشوت کا یہ سلسلہ اب تک کیوں جاری ہے؟ کیا حکومت معزز ججوں کو بدنام کرنا چاہتی ہے؟ 20 اگست کو اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے پلاٹوں کی الاٹمنٹ کو غیر قانونی قرار دینے کا معاملہ وفاقی کابینہ کو بھیجے جانے کے بعد اب تک وفاقی حکومت اور کابینہ پر چُپ کیوں طاری ہے؟ حکومت ایسی پالیسی نہیں بنا سکتی جس میں سرکاری وسائل معاشرے کے مخصوص اور بااثر افراد میں تقسیم کیے جائیں۔

پاسبان اسلام آباد ہائی کورٹ کو خراج تحسین پیش کرتی ہے جنہوں نے عدلیہ کی بالا دستی اور ججز کی ساکھ پر لگنے والے اس دھبے کو مٹا دیا۔ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں پی ڈی پی کے چیئرمین الطاف شکور نے مزید کہا کہ ججوں کا حکومت سے پلاٹس لینا غیر اخلاقی اور غیر آئینی عمل ہے۔ آئین اور قانون کے تحت کوئی بھی سرکاری عہدیدار سرکاری پلاٹ یا زمین کا ٹکڑا لینے کا حقدار نہیں ہے تاہم حکومت اس فیصلے کی خلاف ورزی میں ججوں کو مسلسل پلاٹس دیئے چلے جا رہی تھی اور وہ بھی انہیں قبول کئے چلے جا رہے تھے جو کہ عدالت عظمٰی کے اپنے فیصلے کی روشنی میں غیر قانونی ہے۔ ججوں کے لیے پلاٹ الاٹمنٹ ان کی بھرتی کی شرائط میں شامل نہیں جو صدارتی آرڈر میں لکھی ہیں اور جن کے تحت آئین میں ججوں کیلئے تنخواہ، پنشن اور سہولتوں کا ذکر ہے۔ ججز اُس حکومت سے پلاٹ کیسے لے سکتے ہیں جس کے کیسز تقریباً روزانہ ہی عدالتوں میں سماعت کیلئے پیش ہوتے ہیں۔ یہ عمل ججوں کے حلف کی خلاف ورزی ہے۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

جسٹس منیب اختر قائم مقام چیف جسٹس پاکستان مقرر عہدے کا حلف اٹھا لیا

کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین) سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس منیب اختر نے قائم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے