Home / اہم خبریں / امن ہر مذہب کی ضرورت ہے، کسی قسم کے تشدد اور بندوق کے نظام کو پاکستان میں قبول نہیں کریں گے۔ خواجہ غلام فرید کوریجہ

امن ہر مذہب کی ضرورت ہے، کسی قسم کے تشدد اور بندوق کے نظام کو پاکستان میں قبول نہیں کریں گے۔ خواجہ غلام فرید کوریجہ

ڈیرہ غازی خان (رپورٹ: قاضی انعام باری) امن ہر مذہب کی ضرورت ہے طالبان کو شدت پسندی ختم کرنا ہوگی کسی قسم کے تشدد اور بندوق کے نظام کو پاکستان میں قبول نہیں کریں گے افغانستان میں تمام طبقات کی حامی حکومت کو پاکستان سپورٹ کرے، ان خیالات کا اظہار جھوک فرید کوٹ مٹھن میں جانشین دربار فرید، سربراہ سرائیکستان قومی اتحاد فرید خواجہ غلام فرید کوریجہ کی زیر صدارت منعقدہ خواجہ فرید مینارٹی کانفرنس میں استحکام پاکستان میں اقلیتوں کا کردار کے موضوع پر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

خواجہ غلام فرید کوریجہ نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ مینارٹیز کو تحفظ دیکر ہم اپنی نسلوں کو مستحکم پاکستان دے سکتے ہیں شدت پسند سوچ نہ صرف انسانیت بلکہ خطے کی ترقی کیلئے بھی زہر قاتل ہے ہم وہ پاکستان چاہتے ہیں جس میں مسجد، امام بارگاہ، گرجا، گردوارہ اور مندر کو تحفظ حاصل ہو اقلیتوں کی عبادت گاہوں پر حملے کر کے پاکستان اور پاکستانیت کو کمزور کیا جا رہا ہے۔

شدت پسندی نے صرف مینارٹیز کو نشانہ نہیں بنایا شیعہ اور صوفی مسالک بھی نشانہ بنائے جا رہے ہیں اسی سوچ نے مندر گوردوارہ کے ساتھ سکول اور فوج کو بھی نشانہ بنایا قیام پاکستان کے وقت 28 فیصد مینارٹی آبادی تھی شدت پسند سوچ کے سبب یہ کم ہو کر 5 فیصد رہ گئی ہے اسی طرح سنی آبادی 80 سے کم ہو کر 60 فیصد ہو گئی ہے 40 ہزار شیعہ مسلمان شدت پسندی کا نشانہ بن چکے ہیں صوفیائے کرائم کے مزارات سب نشانے پر ہیں انہوں نے کہا کہ ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ تقسیم ہند میں اقلیتوں کے چار ووٹوں نے پنجاب کی پاکستان میں شمولیت کو یقینی بنایا تھا حقیقت میں شدت پسند نظریات کی حمایت میں ہم شدت پسند ہندوؤں کی سوچ کو پروان چڑھاتے ہیں۔

پیر آف کوٹ مٹھن خواجہ عامر فرید کوریجہ نے کہا کہ خلفائے راشدین کے دور میں مینارٹیز کو مکمل تحفظ حاصل تھا۔ سابقہ ایم پی اے کانجی رام، ارجن داس، وکرم دیال، بھنورو لعل، بسرو جی، بھیا رام، سربجیت سنگ انتھونی، اجمل داس، رانا گلزار، قاری خورشید احمد، جام فیض اللہ، محمد بخش میراٹھا، منظور حسین جتوئی، جام زاہد گھلیجہ، بلال نازکی اور راؤ اکبر نے کہا کہ شدت پسند سوچ کے خاتمے کیلئے متحد ہونا ضروری ہے۔

مینارٹی کانفرنس میں اقلیتوں کی گرائی گئی عبادت گاہوں کی دوبارہ تعمیر اور زمہ داروں کے خلاف سخت کاروائی، طالبان کا نظام مسترد کرنے، اغوا ہونے والے اقلیتی افراد کی بازیابی، اقلیتوں کو دوھریووٹ، سندھ میں ہندو طالبہ ڈاکٹر نمرتا کے قتل کی سپریم کورٹ کے جج سے تحقیقات کرا کر حقائق سامنے لانے، چولستان کی زمینوں میں اقلیتوں کا 5 فیصد کوٹہ، بھنگ مندر حملہ کی مزمت، پنجاب کے نصاب میں صوفی مشاہیر کی تعلیمات کو شامل کرنے اور پاکستان میں اقلیتوں کے تحفظ کے حق میں قراردادیں متفقہ طور پر منظور کی گئیں۔

کانفرنس میں سلطان رائے، چیتن داس بالاچ، اجیت کمار، دامرو مل، شنگن لال، مکیش کمار، دھرم داس، اشوک کمار، دھرمیندر نے شرکت کی کانفرنس میں سندھ، عمر کوٹ، سرائیکی وسیب، لاہور اور ننکانہ سے سکھ برادری کے وفود نے خصوصی شرکت کی۔ کانفرنس کا انعقاد سرائیکستان قومی اتحاد اور تحریک پاکستان نے کیا تھا۔روہی کے لوک فنکار آڈو بھگت اور مظہر فرید نے خواجہ فرید کا عارفانہ کلام پیش کیا۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

کراچی میں “کراچی میوزیم آف ہسٹری” کا سنگِ بنیاد رکھ دیا گیا

کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین) کراچی کے ساحلی علاقے کلفٹن میں بیچ ویو پارک کے مقام …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے