Home / اہم خبریں / آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس کا آل پارٹیز کے ساتھ مشاورتی اجلاس، ضلع اپر چترال کے تمام ملازمین کو اپنے ضلعے میں بھیجا جائے متفقہ قرارداد منظور

آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس کا آل پارٹیز کے ساتھ مشاورتی اجلاس، ضلع اپر چترال کے تمام ملازمین کو اپنے ضلعے میں بھیجا جائے متفقہ قرارداد منظور

چترال (رپورٹ: گل حماد فاروقی) تمام سرکاری ملازمین کی نمائندہ الائنس آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس (اے جی ای جی اے) لوئیر چترال کے زیر اہتمام ضلع لوئیر چترال کی تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت سابق رکن صوبائی اسمبلی مولوی عبد الرحمان کر رہے تھے۔

اجلاس کا بنیادی مقصد چترال کا دو ضلعوں میں تقسیم ہونے سے تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین کے ساتھ مشاورت کرنا تھا کیونکہ ضلع اپر چترال کے وجود میں آنے کے باوجود اس ضلعے کے بیشتر ملازمین اب بھی لوئیر چترال میں ملازمت کر رہے ہیں جس کی بدولت لوئیر چترال کے ملازمین کی حق تلفی ہو رہی ہے۔ اجلاس میں مقررین نے کہا کہ ضلع اپر چترال کے ملازمین کا لوئیر چترال میں تعیناتی کی وجہ سے 2030 تک بعض اداروں میں ترقی ممکن ہی نہیں ہے کیونکہ ان آسامیوں پر ضلع اپر چترال کے بھائی براجمان ہیں۔ اجلاس میں چترال سے منتحب صوبائی اور قومی اسمبلی کے اراکین پر بھی کڑی تنقید کی گئی کہ وہ سرکاری ملازمین کے اس دیرینہ مسئلے کو حل کرنے میں نہ صرف ناکام رہے ہیں بلکہ اس ضروری اجلاس میں بھی وہ شامل نہیں ہوئے۔

اجلاس میں متفقہ طور پر ایک قرارداد بھی منظور ہوئی جس کے تحت 1973 کے ریکروٹمنٹ اپوائنمنٹ، سنیارٹی اور پروموشن رولز کے چیپٹر-II کے رولز 53 کے کے تحت ضلع اپر چترال کے ڈسٹرکٹ کیڈر کے ملازمین کو اپنے ہی ضلع میں اور اپر چترال میں جو ملازمین لوئیر سے تعنیات ہیں ان کو یہاں ٹرانسفر کیا جائے۔ قرارداد کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ ضلع اپر چترال سے مزید ملازمین لوئیر چترال میں نہ بھیجے جائیں۔ دو شاخہ ہونے کی تکمیل تک تمام محکموں میں ڈسٹرکٹ کیڈر میں ہونے والے ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی ڈی پی سی کو بالخصوص محکمہ تعلیم میں ہونے یکم ستمبر کو ڈی پی سی کوملتوی کیا جائے۔ سابق ڈپٹی کمشنر نوید احمد کے نوٹیفیکیشن کی رو سے ڈومیسائل میں ترمیم کا سلسلہ ختم کیا جائے۔ محکمہ پولیس اور عدلیہ کے طرز پر ملازمین کے تقسیم کو یقینی بنایا جائے۔

قرارداد میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ دونوں اضلاع کے سرکاری ملازمین کی بفریکشن کے سلسلے میں محکمہ تعلیم اور صحت کے تاخیری حربوں کی وجہ سے دونوں اضلاع کے ملازمین اور عوام میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے جو کسی بھی وقت چترال کے مثالی امن کو خراب کرسکتا ہے۔ قرارداد میں تمام محکموں کے سربراہان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ جلد از جلد اپر چترال سے تعلق رکھنے والے ملازمین کو ضلع اپر چترال میں ٹرانسفر کریں اور اپر چترال میں تعنیات لوئیر چترال کے ملازمین کو واپس یہاں بلایا جائے۔ ملازمین کے بفریکیشن کے مسئلے کو ہنگامی بنیادوں پر حل کیا جائے۔ اجلاس عبدالرحمان کے دعائیہ کلمات کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔

اجلاس سے آل ٹیچرز ایسوسی ایشن کے صدر قاری محمد یوسف، آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس کے صدر امیر الملک، پی پی پی کے میر دولہ خان ایڈوکیٹ، جماعت اسلامی کے سابق امیر مولوی جمشید، سابق ضلع نائب ناظم مولوی عبدالشکور، پاکستان مسلم لیگ ن کے محمد کوثر ایڈوکیٹ، جماعت اسلامی کے وجیہ الدین، آل کونسلرز ایسوسی ایشن کے صدر سجاد احمد، عوامی نیشنل پارٹی کے صدر الحاج عیدالحسین، پاکستان تحریک انصاف کے ماسٹر امیر علی، اساتذہ تنظیم کے نثار احمد، سابقہ ایم پی اے اور جے یو آئی ف کے امیر عبدالرحمان اور دیگر نے اظہار خیال کیا۔ ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے تمام سرکاری ملازمین کی نمائندہ تنظیم کے قائدین نے متنبہ کیا کہ اگر ان کا جائز مطالبہ پورا نہیں ہوا تو وہ سڑکوں پر آنے، قلم چھوڑ ہڑتال اور جلسہ جلوس کرنے پر مجبور ہوں گے۔ اجلاس دعائیہ کلمات کے ساتھ احتتام پذیر ہوا جس میں کثیر تعداد میں ملازمین کے علاوہ مختلف سیاسی پارٹیوں کے قائدین نے بھی شرکت کی۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

ایچ بی ایل پی ایس ایل 11: 26 میچز کے بعد پوائنٹس ٹیبل نہایت دلچسپ مرحلے میں داخل

کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین/اسپورٹس رپورٹر) ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ 11 کے 26 میچز …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے