Home / اہم خبریں / افغان جنگ ختم ہو گئی لیکن ڈاکٹرعافیہ اس جنگ کی بھینٹ چڑھ گئی۔ افغان جنگ کے اسٹیک ہولڈرز اب تو رحم کریں اور عافیہ صدیقی کو رہا کردیں۔ الطاف شکور

افغان جنگ ختم ہو گئی لیکن ڈاکٹرعافیہ اس جنگ کی بھینٹ چڑھ گئی۔ افغان جنگ کے اسٹیک ہولڈرز اب تو رحم کریں اور عافیہ صدیقی کو رہا کردیں۔ الطاف شکور

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ افغان جنگ ختم ہو گئی لیکن ڈاکٹرعافیہ صدیقی اس جنگ کی بھینٹ چڑھ گئی۔ افغان جنگ کے اسٹیک ہولڈرز اب تو رحم کریں اور عافیہ صدیقی کو رہا کر دیں۔ افغان جنگ کے دوران اغوا کر کر کے عافیہ صدیقی پر بگرام میں ظلم و ستم ڈھانے والے عافیہ کو نہ بھولیں۔ عافیہ صدیقی کب تک جرم بے گناہی کی سزا کاٹے گی؟ ملک کی ایک ذہین ماہر تعلیم بیٹی کو راستے سے ہٹاکر ملک کو تعلیمی پسماندگی کے سپرد کر دیا گیا۔

پاکستان کے حکمرانوں کے لئے اب بھی موقع ہے کہ ماضی میں کئے گئے گناہوں کے داغ دھو لیں۔ قیامت کے دن حکمران عافیہ صدیقی پر سوال ہوا تو کیا جواب دیں گے؟ عافیہ صدیقی اٹھارہ سال سے قید میں ہے۔ اس کا چھوٹا بیٹا سلمان ابھی تک لاپتہ ہے۔ ہم اس امید پر سلمان کی سالگرہ کے کیک کاٹتے ہیں کہ شاید ایک دن سلمان اور اس کی ماں بچھڑے ہوئے خاندان کو مل جائیں۔ عافیہ صدیقی کی پر عزم ماں آخری سانسوں میں بھی اپنی بیٹی سے ملنے کے لئے پر امید ہیں۔ عافیہ صدیقی کی ماں آج بھی سب کو دعائیں دیتی ہیں۔ حکمران خوف خدا کریں۔ کہیں انہیں ایک بے بس ماں کی آہ نہ لگ جائے۔

پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں پاسبان کے چیئرمین الطاف شکور نے مزید کہا کہ عافیہ عالمی ضمیر پر سوالیہ نشان ہے۔ عافیہ امریکہ میں بند ہے اور ملک میں تحقیق کے ادارے بند کردئے ہیں۔ غلام حکمران خود آزاد ہونا چاہتے ہیں ناہی عوام کو آزاد ہونے دیتے ہیں۔ کیا حکومت بتائے گی کہ عافیہ کا چھ ماہ کا بیٹا سلمان کہاں ہے؟ قیدیوں کے تبادلے کا قانون عافیہ پر موثر کیوں نہیں ہے۔ دنیا جانتی ہے عافیہ پر لگائے گئے الزامات عدالت میں ثابت نہیں ہوئے۔ عافیہ پر حالیہ حملے کے بعد بھی حکومت نے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ وہ کون لوگ ہیں جو عافیہ کو مارنا چاہتے ہیں؟ عافیہ پر حملے کے بعد خاموشی اختیار کرنے والے ہی اصل مجرم ہیں۔ عافیہ کی اپنی فیملی سے رابطے کیوں ختم کروائے گئے؟ ظالم حکمران اپنی مجبوری قوم کو بتائیں۔

عافیہ کے بچوں کا جرم بتایا جائے جنہیں اپنی ماں سے ملنے اور بات کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ عافیہ کے لاپتہ بیٹے سلمان کو تلاش کرنا کس کی ذمہ داری ہے؟ عافیہ کی ماں کس سے فریاد کرے؟ ہمارے حکمران عافیہ اور اسکے بچوں پر ڈھائے جانے والے ظلم میں برابر کے شریک ہیں۔ عافیہ کے اوپر افغانستان میں گولیاں چلانے کا بے بنیاد الزام ہے جو درست ثابت بھی نہیں ہوا۔ اب جب سارے قاتلوں کو رہا کر دیا گیا ہے، جنگ ہی ختم ہو گئی ہے، امن قائم ہو گیا ہے تو عافیہ کو ابھی تک کس لئے بند کر رکھا ہے؟ بے گناہ عافیہ کو فوری رہا کیا جائے۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

ایچ بی ایل پی ایس ایل 11: 26 میچز کے بعد پوائنٹس ٹیبل نہایت دلچسپ مرحلے میں داخل

کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین/اسپورٹس رپورٹر) ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ 11 کے 26 میچز …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے