کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) دادا بھائی انسٹی ٹیوٹ آف ہائر ایجوکیشن (ڈی آئی ایچ ای) کو تعلیم مکمل کرنے والے طلبہ کو تعلیمی اسناد کے اجراء میں مسلسل تاخیر پر سندھ ہائی کورٹ میں دائر کردہ پاسبان کی آئینی درخواست پرسندھ ہائی کورٹ نے ڈگریوں کے اجراء کا حکم جاری کر دیا۔ پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے دائر کردہ آئینی درخواست ڈی- 2021/3814 کی سماعت چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ اور جسٹس یوسف علی سعید پر مشتمل دو رُکنی بینچ نے کی۔
جہاں دادا بھائی انسٹیٹیوٹ کے رجسٹرار پروفیسر ڈاکٹر گوبند ایم ہیرانی پیش ہوئے اور انہوں نے اپنا جواب جمع کرایا۔ انہوں نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ طلباء کے مسائل حل ہو گئے ہیں۔ واضح رہے کہ دادا بھائی انسٹیٹیوٹ کے طلبہ نے پاسبان کے چیئرمین الطاف شکور سے رابطہ کر کے انہیں بتایا تھا کہ متعلقہ ادارے نے سن 2015 میں طلبہ کو داخلہ دیا تھا۔ تعلیمی سلسلہ مکمل ہوجانے کے باوجود اب تک نہ تو ان طلبہ کے امتحانات کے نتائج کا اعلان کیا جا رہا تھا اور نہ ہی انہیں مارکس شیٹس اور ڈگریاں جاری کی جا رہی تھیں جس کے باعث یہ طلبہ این ای ڈی یونیورسٹی اور دیگر اعلی تعلیمی اداروں میں داخلہ لینے سے قاصر تھے۔ پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور کی ہدایت پر وکیل خرم لاکھانی ایڈووکیٹ نے دادا بھائی انسٹیٹیوٹ آف ہائر ایجوکیشن میں زیر تعلیم طلبہ کے نتائج اور اسناد روکنے کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں آئینی درخواست جمع کرائی اور عدالت سے استدعا کی کہ متعلقہ ادارے کے خلاف فوری قانونی کاروائی کے احکامات جاری کر کے ان طلبہ کو انصاف فراہم کیا جائے اور ان کا قیمتی وقت ضائع ہونے سے بچایا جائے۔ پاسبان کی آئینی درخواست پر عدالت نے متعلقہ ادارے کو نوٹسز جاری کر کے جواب طلب کر لیا تھا۔ میڈیا چوک پر صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے پاسبان کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا کہ آج کی سماعت میں ہونے والی کامیابی صرف پاسبان کی کامیابی نہیں بلکہ انصاف اور طلباء کی کامیابی ہے۔ غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہمارا تعلیمی سیکٹر زبوں حالی کا شکار ہے۔
میرٹ کی پامالی اور کوٹہ سسٹم کی وجہ سے نوجوان اچھی تعلیم حاصل کرنے سے محروم کر دیئے گئے ہیں۔ پاسبان مستقبل کے معماروں کی کامیابی کے لئے ہر میدان میں سرگرم عمل ہے۔ نوجوان نسل کی تعلیم اور مستقبل کے ساتھ کھیلنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔ طلبہ کے والدین اور اہل خانہ نے پاسبان کے چیئرمین الطاف شکور، وکیل ایڈووکیٹ خرم لاکھانی، پاسبان کے رہنماؤں اور قانونی ماہرین سے آئینی درخواست کی پذیرائی اور عدالتی فیصلے پر اظہار تشکر کیا ہے۔