تازہ ترین
Home / اہم خبریں / لاک ڈاؤن سے سیاست چلتی رہے گی، معیشت اپاہج ہو جائے گی۔ رہنما پی ڈی پی طارق چاندی والا

لاک ڈاؤن سے سیاست چلتی رہے گی، معیشت اپاہج ہو جائے گی۔ رہنما پی ڈی پی طارق چاندی والا

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کراچی کے چیف آرگنائزر طارق چاندی والا نے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن سے سیاست چلتی رہے گی مگر ملکی معیشت اپاہج ہو جائے گی۔ ویکسینیشن کے لیے مکمل لاک ڈاؤن کرنا بھونڈا طریقہ ہے جو کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کا غیر فطری طریقہ ثابت ہو چکا ہے، کراچی آنے والے مسافروں کو 75 کلومیٹر دور کاٹھور میں اتار دینا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ کورونا کی آڑ میں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی جمہوری رویہ نہیں ہے۔ سندھ حکومت سخت لاک ڈاؤن کرنا چاہتی ہے تو عوام کی ضروریات بھی پوری کرے۔ ضروریات پوری کئے بغیر لاک ڈاؤن جاری رکھنا عوام کے ساتھ انتہائی بدترین ظلم ہے۔ حکومتی اقدامات اور لاک ڈاؤن کے نتیجے میں کئی کارخانے، ملیں، اور فیکٹریاں بند ہوگئی ہیں یا بند ہونے کے عمل میں ہیں۔ مراد علی شاہ کراچی کی معیشت کو وفاق کے ساتھ جھگڑے کے لئے ایندھن نہ بنائیں۔ شہر بھر میں سیوریج کا گندہ پانی کتنی بیماریوں کے وائرس پھیلانے کا سبب بن رہا ہے اس کا وزیر اعلی کو کوئی احساس ہے؟ تاجروں سے ٹیکس لینا مگر اعتماد میں نہ لینا شرمناک ہے۔ لاک ڈاؤن کے نام پر شہر کو کب تک بند رکھا جائے گا؟ ہر شہری کا فرض ہے کہ وہ احتیاط برتے، ماسک کو لباس کا حصہ سمجھے، ملنے جلنے میں احتیاط کرے۔ کورونا کی روک تھام صرف عوام کا ہی فرض نہیں ہے بلکہ حکمرانوں اور سیاستدانوں کو بھی احتیاط کا دامن تھامنا ہوگا۔ جلسے جلوسوں اور سیاسی اجتماعات سے گریز کرنا ضروری ہے۔ گذشتہ دنوں مراد علی شاہ کے دورے کے دوران جس طرح ان کے حلقہ کے عوام نے بنا ایس اوپیز کے ان کا استقبال کیا اس طرح کے اجتماعات کورونا پھیلاؤ کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ حکومت عوام کی سمیں بلاک کرکے، تنخواہیں روک کر ویکسین کے لئے مجبور کر سکتی ہے لیکن ہزاروں کی تعداد میں موجود گداگروں اور افغان پناہ گزینوں کا کیا ہوگا؟ کیا حکومت کے پاس ان سب کا ریکارڈ موجود ہے؟ کیا یہ چلتے پھرتے کورونا بم نہیں ہوسکتے؟ سندھ حکومت ویکسینیشن کے لیے سنجیدہ ہے تو پولیو مہم کی طرح گھر گھر، مارکیٹ مارکیٹ، دفتر دفتر، کارخانے کارخانے جاکر لوگوں کو ویکسین لگائے۔ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں سندھ حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن کے نام پر ایک بار پھر شہر کراچی کو بند کئے جانے کے فیصلے پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے پی ڈی پی کراچی کے چیف آرگنائزر طارق چاندی والا نے مزید کہا کہ سندھ حکومت کی ہدایات پر آج پولیس نے کاٹھور پر بیرون شہر سے آنے والی ہزاروں بسوں کو شہر میں داخلے سے روک دیا۔ عوام سامان ہاتھوں مین اٹھائے، فیملیز کے ساتھ میلوں پیدل چل کر کراچی پہنچے۔ یہ سندھ حکومت کا مسافروں کے ساتھ انوکھا ظلم ہے۔ سندھ حکومت ایک عام انسان کی طرح ایک دن زندگی گذار کر دیکھے، بسوں اور منی بسوں میں سفر کر کے دیکھے، میلوں سامان اٹھا کر پیدل چل کر دیکھے تو اسے عوام کی تکالیف کا اندازہ ہوگا۔ فیکٹریوں کی بندش کی وجہ سے برآمدی آرڈرز کی تکمیل میں رکاوٹیں پیدا ہو گئی ہیں اور ملک میں بیرون سرمایہ کاری کی آمد بھی رک چکی ہے۔ مینوفیکچرنگ کمپنیوں میں سے 60 فیصد سے زائد کمپنیاں اس وقت مکمل بند ہیں۔ موجودہ صورتحال کی وجہ سے ایک خوفناک معاشی منظر نامہ جنم لے رہا ہے۔ ملازمت سے فارغ ہونے سے لے کر بغیر تنخواہ پر چھٹی پر بھیجے جانے والے ملازمین ان لاکھوں دیہاڑی دار مزدوروں کے علاوہ ہیں جو روزانہ کی بنیاد پر اپنا روزگار کماتے ہیں۔ اس وقت بڑے صنعتی اداروں کو بچانے کے ساتھ ساتھ مزدوروں اور ملازموں کو بچانے کی بھی شدید ضرورت ہے۔ دیہاڑی پر کام کرنے والے افراد سب سے زیادہ مشکل میں ہیں۔ کیونکہ یہ واحد طبقہ ہے جس کی کوئی ذمہ داری نہیں اٹھانا چاہتا۔ ڈر ہے کہ کورونا سے پہلے وہ بھوک سے مر جائیں گے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے غریب خاندانوں کے لیئے چار ماہ کے لئے بارہ ہزارروپے کے ریلیف پیکج کا اعلان کیا گیا ہے، ایک خاندان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے یہ رقم ایک مذاق کے سوا کچھ نہیں ہے۔ مہنگائی کی وجہ سے متوسط طبقہ کے لئے بھی اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھنا مشکل ہوگیا ہے ایسے میں غریب اور دیہاڑی دار طبقہ کیسے زندہ رہے گا؟ کروڑوں انسانی جانوں کا معاملہ ہے، مرکز اور صوبہ آپس کی لڑائی اور پوائنٹ اسکورنگ چھوڑ کر ایک پیج پر آجائیں۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے