اسکردو (ویب مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کے مرحوم کوہ پیما علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ اور ان کی ٹیم کو کے ٹو کے بوٹل نیک پر ایک لاش کی نشاندہی ہوئی ہے جبکہ وزیر اطلاعات گلگت بلتستان فتح اللہ خان نے دعویٰ کیا ہے کہ علی سدپارہ سمیت تین کوہ پیما کی لاشیں مل گئیں ہیں۔ بیس کیمپ ذرائع کے مطابق رواں سال فروری میں کے ٹو پر لاپتہ کوہ پیماؤں کی لاشوں کی تلاش کا آپریشن ایک بار پھر جاری ہے۔ مرحوم علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ اور غیر ملکی کوہ پیما سرچ آپریشن میں شریک ہیں۔ بیس کیمپ ذرائع نے بتایا کہ ساجد سدپارہ اور ٹیم آج کیمپ 4 کے قریب پہنچی ہے جہاں ٹیم کو ڈرون کے ذریعے بوٹل نیک کے قریب ایک لاش دکھائی دی ہے۔ بیس کیمپ ذرائع کے مطابق لاش کی شناخت نہیں ہو سکی ہے، دوسری جانب وزیر اطلاعات گلگت بلتستان فتح اللہ خان نے نجی ٹی وی چینل سے گفتگو میں دعویٰ کیا ہے کہ علی سدپارہ سمیت تین کوہ پیماؤں کی لاشیں مل گئیں ہیں، ساجد سدپارہ اور ان کے ساتھ موجود کوہ پیما نے لاشوں کا پتا چلایا۔ انہوں نے کہا کہ ’پہلی لاش کی نشاندہی صبح 9 بجے ہوئی ہے اور وہ لاش جان اسنوری کی ہے جس نے پیلے اور کالے رنگ کے کپڑے پہن رکھے تھے جبکہ دیگر لاشوں کی بھی 12 بجے نشاندہی ہوئی۔ وزیر اطلاعات نے بتایا کہ تین کوہ پیمائوں کی لاشیں بوٹل نیک بیس کیمپ سے ملیں۔ واضح رہے کہ رواں سال فروری میں دنیا کی دوسری بلند چوٹی کے ٹو کی مہم جوئی کے دوران پاکستان کوہ پیما علی سدپارہ اور دو غیر ملکی کوہ پیماؤں لاپتہ ہوگئے تھے۔