کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) دور حاضر کا سب سے بڑا المیہ "منشیات” جس نے زندگی کو مفلوج کر دیا ہے۔ منشیات فروش ملک، قوم و نوجوان نسل کے دشمن ہیں۔ ان بیرونی اور اندرونی دشمنوں کی سازش یہ ہے کہ وہ ہمارے مستقبل کے ضامن نوجوانوں کو جسمانی و ذہنی طور پر اس قدر کھوکھلا کر دیں کہ وہ دنیا میں اپنا متحرک کردار ادا کرنے کے قابل نہ رہ سکیں۔ کتنی اذیت ناک بات ہے کہ نشہ آور اشیاء کی مخالفت تو سب کرتے ہیں، مگر اس لعنت کا سدباب کرنے میں مخلص کوئی بھی نہیں۔ لیکن پاکستان فشر فوک فورم نے ہمیشہ عملی جدوجہد کا مظاہرہ کیا ہے اور اس کے نتیجے میں متعدد کامیابیوں نے اس کے قدم بھی چومے ہیں۔ ہم منشیات کیخلاف عالمی دن کے موقع پر منعقد کی جانے والی یہ پُرامن ریلی عملی اور بھرپور جدوجہد میں تبدیل کرنے کا وعدہ کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان ایکو سوشل موومنٹ کے کنوینر محمد علی شاہ، ابراہیم حیدری کی معزز شخصیت سردار سہیل جاموٹ، پاکستان پیپلز پارٹی منارٹی ونگ کے نائب صدر مکھی اودھا مل، پاکستان فشر فوک فورم کے وائس چیئرمین سعید بلوچ، پاکستان فشر فوک فورم یوتھ آرگنائزیشن سندھ کے صدر مہران علی و دیگر نے کیا۔ 26 جون منشیات کیخلاف عالمی دن کے موقع پر ابراہیم حیدری میں منعقدہ پُرامن ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مورڑو ہال ابراہیم حیدری سے عید گاہ چوک تک نکالی جانے والی پُرامن ریلی میں ابراہیم حیدری، علی اکبر شاہ گوٹھ، چشمہ گوٹھ، علی بروہی گوٹھ، ریڑھی گوٹھ سمیت دیر ماہی گیر بستیوں سے سینکڑوں کی تعداد میں نوجوانوں، عورتوں، بچوں، مردوں، سیاسی و سماجی قائدین، اساتذہ، طلبہ و ہر مکتب فکر سے تعلق رکھنے والوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر پُرامن ریلی کے شرکاء کے ہاتھوں میں بینر، پلے کارڈ اور جھنڈے بھی موجود تھے، جن پر "منشیات پر لعنت، زندگی سے پیار منشیات سے انکار، منشیات مٹاؤ نوجوان نسل بچاؤ، ہمارا عزم منشیات سے پاک معاشرہ” جیسے نعرے درج تھے۔ پاکستان فشر فوک فورم کی طرف سے 26 جون منشیات کیخلاف عالمی دن کے موقع منعقدہ اس پُرامن ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ریلی کے قائدین نے مزید کہا کہ ہمارے معاشرے میں منشیات جیسی لعنت کے دن بہ دن بڑھتے ہوئے اس رجحان نے ہماری نسلوں کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کی 129 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی پر سینکڑوں ماہی گیر بستیاں موجود ہیں اور ان بستیوں کے مستقبل کے ضامن نوجوانوں کو ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت منشیات جیسی لعنت میں مبتلا کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ منشیات فروشی کسی ایک شخص کا ناپاک ارادہ نہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ منشیات فروشوں کو سہولت کاری فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ قانونی اداروں میں موجود چند کالی بھیڑیں بھی اس جرم میں برابر کے شریک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب اس تحریک کے سلسلے میں علی اکبر شاہ گوٹھ، چشمہ گوٹھ، علی بروہی گوٹھ، ریڑھی گوٹھ سمیت تمام ماہی گیر آبادیوں میں منشیات کیخلاف پُرامن ریلیوں کا سلسلہ شروع کیا جارہا ہے، اب یہ طوفان تب تک نہیں تھمے گا جب تک ہمارے معاشرے سے مکمل طور پر منشیات جیسے ناسور کا خاتمہ عمل میں نہیں لایا جاتا۔