تازہ ترین
Home / اہم خبریں / مراد علی شاہ کے بجٹ کی مارکٹنگ اور پیکجنگ اچھی ہے مگر پراڈکٹ کھوکلی ہے۔ پارلیمانی لیڈر سندھ اسمبلی بلال غفار

مراد علی شاہ کے بجٹ کی مارکٹنگ اور پیکجنگ اچھی ہے مگر پراڈکٹ کھوکلی ہے۔ پارلیمانی لیڈر سندھ اسمبلی بلال غفار

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاکستان تحریک انصاف کے سندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر بلال غفار نے پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ کل جمہورت کا ایوان میں جنازہ بڑی دھوم سے نکلا ہے پی پی جمہوری جماعت بننے کے دعوے کرتی ہے مگر کل جمہوریت کی دھجیاں اڑائی گئیں کل بجٹ کے حوالے سے اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کو تقاریر اور تجاویز پیش کرنی تھی جسے پی پی نے ایک سازش کے تحت روکا اور اپنا جھوٹ پر مبنی بجٹ منظور کروایا پریس کانفرنس میں پارلیمانی لیڈر کے ہمراہ اراکین سندھ اسمبلی ارسلان تاج اورعدیل احمد بھی ہمراہ موجود تھے اس موقع پر پارلیمانی لیڈر بلال غفار نے مزید کہا کہ پیپلرز پارٹی کہتی ہے جمہوریت بہترین انتقام ہے مگر بجٹ کے معاملے پر پی پی نے غیر جمہوری روایت کو قائم کرتے ہوئے اپنا بجٹ منظور کیا سندھ حکومت کے اس اقدام کی سخت مذمت کرتے ہیں اگلے ہفتے سے ہم اسمبلی کے اندر اور باہر سندھ حکومت کو ٹف ٹائم دیں گے ہماری حکمت عملی تیار ہے انہوں نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ مراد علی شاہ کا پیش کردہ بجٹ کی مارکٹنگ اور پیکجنگ اچھی ہے مگر پراڈکٹ کھوکلی ہے ہمیں لگتا ہے مراد علی شاہ نے جو اپنی بجٹ تقریر کی ہے درحقیقت انہیں معلوم ہی نہیں ہے کہ انہوں نے اپنی تقریر میں کیا کہا سندھ حکومت کے یہ ناکامی اور نااہلی کے چودہ سال ہیں سندھ حکومت ہمیشہ این ایف سی کے معاملے پر وفاق کیخلاف پروپیگینڈا کرتی ہے سندھ حکومت نے 2023-24 کی کارکردگی میں اپنی ناکامی کا اعتراف کیا ہے سندھ حکو مت نے بجٹ میں واضح کیا ہے کہ 2 سال وہ ریونیو جمع کرنے میں ناکام ہوئے ہیں 2018-19 میں 11 فیصد جبکہ 2019-20 میں 26 فیصد ٹیکس ریونیو میں کمی ہوئی ہے یہ اعداد و شمار ہمارے نہیں بلکہ صوبائی وزیر خزانہ کے ہیں انہوں نے کہا کہ 16 جون کے نمبرز کے مطابق وفاق نے سندھ کو 95 فیصد این ایف سی کے ذریعے پیسے منتقل کیے ہیں 717 ارب سندھ حکومت کو این ایف سی ملنے تھے جس میں 16 جون تک 616 ارب سندھ حکومت کو مل چکے ہیں ایف بی آر نے اپنے ہداف سے زیادہ ٹیکس وصول کیا ہے ممکن ہے صوبوں کیلئے این ایف سی کی رقم میں اضافہ کیا جائے وفاق کسی کے پیسے نہیں روکتا صوبے کو اصل ریونیو کے مطابق رقم دی جاتی ہے سندھ حکومت بار بار بلیم گیم کھیلتی ہے مراد علی شاہ کو بتانا چاہتے ہیں کہ یہ بلیم گیم کا سلسلہ ختم کریں مالی سال 2020-21 میں سندھ حکومت نے اپنا ریونیو 77 فیصد جمع کیا سندھ حکومت نہ براہ راست ٹیکس جمع کرسکی نہ غیر معقول، سندھ حکومت کو براہ راست ٹیکس 21 ارب جمع کرنا تھا جبکہ 5.3 ارب روپے جمع کیا گیا اس سال ذرعی شعبے میں 16 فیصد ٹیکس جمع کیا گیا پراپرٹی ٹیکس کے ہدف کے مطابق صرف 25 فیصد ٹیکس اکھٹا کیا گیا اسی طرح غیر ان ڈائریکٹ ٹیکس کا ہدف 7605 ارب ہے جبکہ حکومت صرف 5 ارب ٹیکس ریونیو جمع کرسکی سندھ حکومت ہر جگہ ٹیکس جمع کرنے میں ناکام رہی ہے اس کے برعکس وفاق نے اپنا مکمل شئیر صوبوں کو منتقل کیا ہے انہوں نے کہا کہ مراد علی شاہ نے 83 ارب کا شارٹ فال بتایا جو کہ جھوٹ ہے مراد علی شاہ ڈھٹائی سے جھوٹ بولتے ہیں 16 جون تک 616 ارب سندھ حکومت کو دیئے جاچکے ہیں صوبائی نااہلی کی وجہ سے نہ صوبے میں ترقی ہو رہی ہے نہ بہتری آرہی ہے انہوں نے اپنے بجٹ میں ایک اور جھوٹ کہا کہ 2.6 فیصد وفاق اپنا شئیر میں اضافہ کریگا مراد علی شاہ کو بتا دیں وفاق پچھلے سال سے 21 فیصد اپنا شئیر زیادہ دے گا جبکہ صوبہ 4 فیصد اپنا شئیر بڑھائے گا مراد علی شاہ کو چیلنج کرتے ہیں کہ 4 فیصد پر بھی ہم سے بحث کرلیں یقیناً یہ اعداد بھی آپ کے غلط ہوں گے ہمیں بتایا جائے کہ یہ ڈبل ٹیکس کس طرح وصول کریں گے جتنا ٹیکس سندھ حکومت نے جمع کیا ہے اس سے زیادہ تو پولیس چالان جمع کرلیتی ہےانہوں نے مزید کہا کہ کراچی کو دنیا کے دس بدترین شہروں میں شمار کیا جاتا ہے صرف کراچی سے 20 ارب پراپرٹی ٹیکس جمع کیا جاسکتا ہے 14 سالوں سے انہوں نے کچھ نہیں سمجھا ہمارے آنے سے انہیں تھوڑا تھوڑا سمجھ آنے لگا ہے، لیکن ہمیں معلوم ہے سندھ حکومت پراپرٹی ٹیکس آئندہ بھی جمع نہیں کرسکتی کیونکہ ان کے پاس کوئی حکمت عملی نہیں ہے یہ ہار بار کہتے ہیں کہ ہم سروے کریں گے، ہم پروگرامز بنائیں گے، ہم ٹیکس جمع کریں گے آخر کب تک یہ مستقبل کی باتیں ہوتی رہیں گی حکومتی وزراء کبھی یہ بھی کہہ دیں کہ ہم نے اپنا ایک منصوبہ مکمل کرلیا، ٹیکس اکھٹا ہوگیا پوری بجٹ کی کتاب میں صرف مستقبل کی باتیں ہوئیں ہیں مراد علی شاہ بتائیں کہ ان کے پاس کونسی جادو کی چھڑی ہے ایک روپیہ جمع نہیں کر رہے اور بات کر رہے ہیں 3 روپے جمع کرنے کی، حکومت چلانے کے خرچے میں اضافہ ہو رہا ہے 954 ارب سے 1 ہزار 90 ارب روپے کا خرچہ ہے سندھ سرکار کو چلانے کیلئے سندھ حکومت کے بابوؤں کی تنخواہ 624 ارب روپے بنتی ہے جبکہ سندھ میں کوئی بہتر کارکردگی دکھائی نہیں دیتی حکومت کا خرچہ بڑھ رہا ہے مگر ترقیاتی کاموں کیلئے بجٹ میں کوئی اضافہ نہیں کیا جارہا سندھ کے سرکاری اداروں سے سیاسی بھرتیوں کے خاتمے کی ضرورت ہے سندھ میں پینشن کا مسئلہ سفید ہاتھی بن چکا ہے سندھ کے 29 اضلاع میں پینے کا صاف پانی موجود نہیں ہے۔ یہ ضلع تو کیا ایک یو سی نہیں بتا سکتے اگر ترقی ہو رہی ہے تو پاپڑ والے کے اکاؤنٹ میں ہو رہی ہے 2014-15-16 کی اسکیمیں ختم نہیں ہوئیں اور نئی اسکیمیوں کا اعلان کر دیا گیا ہے حیرت ہے سندھ حکومت نے 84 ارب نئی اسکیموں پر رکھ دیئےجبکہ تیست کواٹر کی رپورٹ کے مطابق پچھلے 9 ماہ میں ایک روپیہ بھی نئی اسکیموں پر خرچ نہیں کیا گیا سندھ حکومت سندھ کے عوام کو بیوقوف بنا کر خون پی رہے ہیں ایگریکلچرل کے ادارے کو 5 ارب روپے کا بجٹ دیدیا گیا تعلیم کے شعبے پر ساڑے 26 ارب خرچ کرنے کا دعویٰ کیا ہمیں بتائیں کورونا کے دوران کتنی آن لائن کلاسز کی سہولیات دیں اسکولوں میں 6 ارب روپے کا فرنیچر لایا جانا تھا جوکہ کہیں نظر نہیں آرہا کسان کو 25 ہزار قرفہ دینے کی بات کسان کا مزاق بنانا ہے وفاق سے سیکھ لیں مراد علی شاہ کامیاب جوان پروگرام میں وفاق نے لوگوں کو قرضے دیے 25 ہزار میں موٹر سائیکل نہیں آتی یہ مزاق کر رہے ہیں عوام کے ساتھ 5 ایکڑ سے 24 ایکڑ والے زمیندار کو سبسڈی دی جا رہی ہے سبسڈی چھوٹے کاشتکاروں کیلئے ہوتی ہے یہ سبسڈی غریب کاشتکار کیلئے ہے سندھ اسمبلی میں بیٹھے کاشتکاروں کو سبسڈی دی گئی ہے مراد علی شاہ کو بہت تکلیف ہوتی ہے کہ وزیراعظم کیوں گلیوں میں کام کروا رہے ہیں انشاللہ تحریک انصاف ہر گلی میں ترقیاتی کام کروائے گی اور شہر کو مزید آگے لیکر جائے گی سندھ حکومت کے پی ایف سی کے بغیر تیار کردہ بجٹ کو ہم مسترد کرتے ہیں۔ اس موقع پر پی ٹی آئی رکن سندھ اسمبلی ارسلان تاج نے کہا کہ کل ایوان میں غیر جمہوری طور پر بجٹ منظور کیا گیا جس کی مذمت کرتے ہیں سندھ حکومت کے رویئے سے لگا جسے ان کے پاس ہمارے سوالوں کے جواب نہیں ہیں میں نے سوال کیا تھا نیب زدہ فائنانس سیکڑیٹری حسن نقوی کو اپنے منصب پر موجود ہونا چاہیئے مرا د علی شاہ کو اس سوال کا جواب دینا چاہیے تھا چیف جسٹس کے لگائے الزامات کا جواب دینے کیلئے مراد علی شاہ فلور پر آتے اور ہمیں بتاتے کے یہ یونس میمن کون ہے چیف جسٹس نے کہا ہے سندھ میں بدترین حکمرانی ہے اس کا ذمہ دار کون ہے؟ ایجوکیشن اور صحت کا بجٹ کہاں خرچ کیا گیا ناصر شاہ بتاتے کہ سندھ میں بلدیاتی مسائل کیوں بڑھتے جارہے ہیں نواب شاہ ٹھٹھہ بدین کے لوگ حقائق جاننا چاہتے ہیں مراد علی شاہ نے فلور پر آنے کے بجائے منہ چھپانے کو ترجیح دی ہم نے جو بھی مسائل تھے اس پر پارلیمنیٹ میں بات کی اپ پارلیمنٹ میں اور باہر جھوٹ بولتے ہیں مراد علی شاہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ کسی کو جوابدہ نہیں ہیں آپ کہتے ہیں کہ آپ ریاست کے سربراہ کو جوابدہ نہیں ہوں آپ یہ سمجھتے ہیں جو اراکین ایوان میں منتخب ہوکر آئے آپ انہیں جوابدہ نہیں ہیں مگر ایسا نہیں ہے مراد علی شاہ آپ جوابدہ ہیں اور جواب دینا پڑے گا انہوں نے کہا بجٹ میں کاریگری سے سندھ کے عوام کا پیسہ چوری کیا جارہا ہے سندھ حکومت ہر سال تنخواہوں میں اضافہ نئی نوکریاں بڑھاتے ہیں مگر ریونیو بڑھانے میں ناکام رہتے ہیں اور پھر ٹارزن بن کر اعلانات کرتے ہیں سندھ میں صحت اور تعلیم عالمی سطح پر بدنام ہوچکے ہیں اس سال 38 فیصد صحت اور تعلیم پر خرچ کیا گیا جوکہ 435 ارب روپے بنتا ہے جس میں تعلیم کے شعبے میں ہماری شرع خواندگی کم ہوئی ہے صحت کا معیار یہ ہے ویکسین خریدی نہیں گئیں ہمارے ہسپتالوں میں ایمبولینس سروس کا کوئی نظام نہیں ہے این جی اواز چلارہے ہیں گلستان جوہر بلاک 15 میں کروڑوں روپے خرچ کرکے یوتھ کمپلیکس بنایا گیا جو سندھ حکومت نے چپکے سے ایک این جی او کو منتقل کردیا ہمارا سوال یہ ہے کہ جب سندھ حکومت ایک اسکیم چلا نہیں سکتی تو اس پر اربوں روپے خرچ کیوں کرتی ہے 1 ہزار 90 ارب سندھ کے بابوؤں پر خرچ کر رہے ہیں جبکہ یہی بابو نظام کو چلا نہیں سکتے سرکاری بابو پی پی کا سیاسی ونگ بنے ہوئے ہیں انہوں مل کر پی پی کے ساتھ غبن کیا ہے صوبے پر ڈاکہ ڈالا ہےاور ان بابوؤں کے سہولت کار مراد علی شاہ اور حسن نقوی ہیں۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے