کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) سندھ حکومت جامع حکمت عملی بنا کر تعلیم کی صورتحال کو بہتر بنائے ہاری ویلفیئر ایسوسی ایشن کے تحت پولیٹیکل اکانومی آف ایجوکیشن ان سندھ 2020 کی رپورٹ اجراء کے حوالے سے منعقدہ ویبنار میں ملک کے نامور ماہرین تعلیم اور سماجی رہنماؤں نے شرکت کی اس موقعہ پر بیلا رضا جمیل نے سندھ میں تعلیم کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ نے آؤٹ آف اسکول بچوں کا ڈیٹا دینا بند کر دیا ہے جس سے اسکولوں سے دور بچوں کی خواندگی شرح کا اندازہ لگانا مشکل ہوگیا ہے۔ اور اسی بنا پر تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لئے بنائی جانیوالی پالیسیز غیر موثر ہو رہی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ تعلیم کے حوالے سے ہر پہلو کا ڈیٹا عوام کو مہیا کیا جائے۔ حکومت اور پرائیویٹ ایجوکیشن سسٹم انگریز کالونین سسٹم کا تسلسل ہے جو غریب اور امیر کو طبقات میں تقسیم کرنے کا سبب بنتا ہے۔ حکومت قانون تو پاس کر لیتی ہے لیکن اس پر عمل درآمد کی صورتحال صفر ہے ان قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے راست اقدام اٹھائے جائیں۔ معروف ماہر تعلیم صادقہ صلاح الدین نے کہا کہ لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے حکومت کو چاہیے کہ گرلز اسکول میں تمام سہولیات مہیا کرے تاکہ بچیاں اسکول میں کسی قسم کے مسائل کا شکار نہ ہوں جبکہ حکومت کو چاہیے کہ خواتین اساتذہ کی عزت و توقیر کے حوالے سے بھی بہتر اقدامات اٹھائے جائیں جبکہ اسکولوں میں بچوں کو سزاؤں سے زیادہ پیار سے تعلیم مہیا کرنے کیلئے بھی جامع حکمت عملی پر زور دینا ہو گا، ہاری ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر محمد اکرم خاصخیلی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں 60 لاکھ سے زائد بچے اسکول نہیں جاتے جس کی بنیادی وجہ اسکول نہ ہونا اور تعلیمی سہولیات کا میسر نہ ہونا ہے، دیہی علاقوں میں کسانوں اور مزدوروں کے بچوں سے تعلیم کا آئینی حق چھینا گیا ہے ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ تعلیم کی بجٹ میں اضافہ کر کے دیہی علاقوں میں بند اسکولوں کو کھول کر بنیادی سہولیات بہم پہچانے کے اقداما ت اٹھائے جائیں۔ اس موقع پر قاضی خضر حبیب، انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے عابد نیاز خان، بلوچستان کے سماجی رہنما میر بہرام لہڑی، ذوالفقار شاہ، امبرین زہرہ نے کہا کہ تعلیم کے شعبوں میں سیاسی مداخلت ختم کی جائے اور تعلیم کے حوالے سے تمام تر قوانین پر عملدرآمد کر کے لاکھوں بچوں کو اپنا بنیادی آئینی حق دیا جائے۔