تازہ ترین
Home / اہم خبریں / شہریوں کو پانی سے محروم کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ طارق چاندی والا جوائنٹ سیکریٹری پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی

شہریوں کو پانی سے محروم کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ طارق چاندی والا جوائنٹ سیکریٹری پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے جوائنٹ سیکریٹری طارق چاندی والانے کہا ہے کہ کراچی کے شہریوں کو پانی سے محروم کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔ گرمی کی شدت سے بے حال اور پانی کی قلت کا شکار عوام بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ پائپ لائنوں سے فراہم کئے جانے والے عوام کے حصے کا پانی ٹینکرز اور صنعتی علاقوں کو فراہم کیا جا رہا ہے۔ غریب، متوسط طبقے کے عوام کام کاج پر جائیں، روٹی روزی کی فکر کریں یا پانی کی تلاش میں خوار ہوتے رہیں؟ واٹر ٹینکرز کا مفت دیا جانے والا کوٹہ کا پانی بھی عوام کو دستیاب نہیں ہے۔ یہ پانی مہنگے داموں فروخت کیا جا رہا ہے یا من پسند افسران اور ان کے رشتے داروں اور لواحقین کو دیا جا رہا ہے۔ عوام سے اُن کے حصے کا پانی چھین کر ضلعی انتظامیہ کو تقسیم کیا جا رہا ہے۔ ضلع سینٹرل کی انتظامیہ، ڈی سی صاحب کی سربراہی میں عوام کے پانی کی قلت کے مسئلے کو حل کرنے میں بری طرح ناکام ہوگئی ہے۔ طارق چاندی والا نے مطالبہ کیا کہ واٹر بورڈ عملہ کی بدعنوانیوں پر قابو پایا جائے۔ واٹر بورڈ افسران اور ماتحت عملہ، عوام کے ساتھ روا رکھے جانے والے اپنے رویہ کو درست کریں۔ ذاتی مفادات اور اقرباء پروری کے بجائے عوام کی خدمت کا جذبہ کے تحت اپنے فرائض سر انجام دیں۔ پاسبان کے دیرینہ مطالبہ کے مطابق پائپ لائنوں کے ذریعہ عوام کو پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ واٹر ٹینکرز اور ہائیڈرنٹس کو بتدریج ختم کیا جائے۔ جن علاقوں میں پائپ لائنیں نہیں ہیں وہاں عوام کو مفت ٹینکرز کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ پانی اور ٹینکرز کے حصول میں درپیش مشکلات کے حل کے لئے شکایات سینٹرز کا نظام بہتر کیا جائے۔ عوام جاننا چاہتے ہیں کہ بلاول بھٹو زرداری کا سمندری پانی کو میٹھا بنانے کا وعدہ کیا ہوا؟ بجلی، پانی، سیوریج سمیت تمام مسائل کا حل پاسبان کے مطالبے کے مطابق کراچی کو چارٹرڈ سٹی کا درجہ دینے میں ہی ہے۔ طارق چاندی والانے مزید کہا کہ پاسبان ہیلپ لائن پر ضلع وسطی کے درجنوں شہریوں نے رابطہ کر کے آگاہ کیا ہے کہ ڈپٹی کمشنر سینٹرل اور مقامی واٹر بورڈ کے دفاتر میں متعدد مرتبہ چکر لگا کر پانی کی قلت دور کرنے اور لائنوں سے پانی کے حصول کے لئے سینکڑوں درخواستیں دے چکے ہیں، درجنوں فون کالز کر چکے ہیں لیکن کوئی سنوائی نہیں ہو رہی۔ شہریوں نے کہا کہ ڈی سی سینٹرل اور واٹر بورڈ کے مقامی افسران تک عوام کی رسائی ممکن ہی نہیں ہے۔ یہ افسران اکثر اوقات اپنے دفاتر میں موجود ہی نہیں ہوتے، یا ان کا ماتحت عملہ عوام کو ان سے ملنے نہیں دیتا جس کی وجہ سے عوام اپنی شکایات اور مسائل درخواستوں کی صورت ان تک پہنچاتے ہیں لیکن تاحال کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ عوام جائیں تو کہاں جائیں؟ کس سے فریاد کریں؟ صوبہ میں کراچی کو اور کراچی میں سینٹرل کو لاوارث چھوڑ دیا گیا ہے۔ ضلع سینٹرل کے عوام نے پاسبان ہیلپ لائن پر بتایا کہ نئی ڈالی جانے والی پائپ لائنوں سے من پسند یا بھاری رشوت دینے والے افراد کو پانی دیا جا رہا ہے۔ جبکہ عام شہریوں کو پرانی بوسیدہ لائنوں سے ایک آدھ گھنٹہ ہی پانی دیا جاتا ہے۔ واٹر بورڈ کا عملہ سب ٹھیک ہے کا راگ الاپ رہا ہے، نمائشی کارکردگی کی تصاویر اور خبریں سوشل میڈیا پر شیئر کر دی جاتی ہیں۔ کراچی ایڈمنسٹریشن سوسائٹی بلوچ کالونی کے مکینوں نے پاسبان ہیلپ لائن پر رابطہ کر کے بتایا کے ان کے علاقے میں نئی بچھائی جانے والی پائپ لائنوں سے نجانے کن لوگوں کو پانی دیا جارہا ہے؟ عام لوگ پرانی، بوسیدہ اور میعاد پوری ہوجانے والی پائپ لائنوں کا سیوریج ملا بدبودار پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ طارق چاندی والانے کہا کہ واٹر بورڈ کی میٹھے پانی کی بیشتر لائنیں بوسیدہ ہو چکی ہیں اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ واٹر بورڈ عملہ کی لاپرواہی اور بدعنوانی کی وجہ سے روزانہ ہزاروں گیلن صاف استعمال کا پانی ضائع ہو جاتا ہے۔ ضائع ہونے اور چوری کئے جانے والے پانی کی صورتحال کو ہمیشہ کے لئے ختم کرنے کیلئے واٹر بورڈ کوئی ٹھوس حکمت عملی مرتب کرے۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے