تازہ ترین
Home / اہم خبریں / چترال مڈگلشت کے سینکڑوں لوگوں نے 80 سالہ شخص کے اہل خانہ پر دھاوا بول دیا۔ راستے غیر قانونی طور پر بند۔ خواتین اور بچے گھروں میں یر غمال

چترال مڈگلشت کے سینکڑوں لوگوں نے 80 سالہ شخص کے اہل خانہ پر دھاوا بول دیا۔ راستے غیر قانونی طور پر بند۔ خواتین اور بچے گھروں میں یر غمال

چترال (رپورٹ: گل حماد فاروقی) وادی مڈگلشٹ میں تقریبا ً پانچ سو لوگوں نے بال پنچ میں زرام خان اور روزی خان کے گھر پر دھاوا بول دیا۔ ذرام خان کے مطابق یہ لوگ مسلح تھے اور بغیر کسی پیشگی اطلاع کے ہمارے گھروں پر حملہ آور ہوئے۔ ان کے مطابق ان مسلح لوگوں نے نہ صرف چادر و چار دیواری کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے میرے گھر کے خواتین کو بھی زود و کوب کیا اور اسی سالہ بوڑھے کو بھی بری طرح مارا پیٹا۔ بعد میں ان لوگوں نے خواتین سمیت ان لوگوں کو اغواء کرکے مڈگلشٹ لاکر مستانہ خان کے گھر میں بارہ گھنٹے تک حبس بے جا میں رکھ کر یرغمال بنایا بعد میں ایس ایچ او دروش نے پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ پہنچ کر ہمیں وہاں سے بازیاب کروایا۔ ایس ایچ او تھانہ دروش کے مطابق مڈگلشٹ وادی میں دو گروپوں کے درمیان تنازعہ شدت اختیار کرگیا۔ تفصیلات کے مطابق وادی مڈگلشٹ کے بال پنچ علاقے میں ذرام خان ولد نیاز محمد، روزی خان، منور خان وغیرہ پچھلے 80 سالوں سے اس جگہ آباد ہیں۔ انہوں نے شہزادہ سردارالملک سابقہ ڈی جی ہیلتھ سے 294 کنال زمین 80 لاکھ روپے کے عوض خریدی تھی جس کے ساتھ پوشیدین میں ایک چراگاہ بھی شامل ہے۔ مگر مڈگلشت والے پوشیدین والی چراہ گاہ اور زمینات پر غلط طور پر دعویٰ داری کرتے ہیں۔ زرام خان نے مقامی صحافیوں کو بتایا کہ ان کے پاس باقاعدہ قانونی دستاویزات موجود ہیں جبکہ یہ اراضی پچھلے 80 سال سے ان کے قبضہ میں بھی ہے۔ زرام خان کے مطابق 9 جون کو مڈگلشٹ سے تعلق رکھنے والے تقریباً پانچ سو مسلح افراد نے پوشیدین میں ان کے گھر پر بغیر کسی پیشگی اطلاع کے حملہ کیا اور بچے بوڑھے، خواتین سمیت سب کو زود و کوب کرکے زحمی کیا۔ ذرام خان نے مزید بتایا کہ سب لوگ مسلح تھے اور ہمارے اوپر اندھا دھند فائرنگ بھی کھول دی تاہم ہم نے دیوار کے پیچھے خود کو بچالیا۔ انہوں نے مجھے، میرے اسی سالہ بھائی روزی خان اورمیری بیٹی کو شدید زحمی کرنے کے بعد وہاں سے اٹھا کر اغواء کیا اور گھسیٹتے ہوئے ہمیں مڈگلشٹ لایا جو مستانہ خان کے گھر میں ہمیں بارہ گھنٹے تک حبس بے جا میں رکھ کر یرغمال بنایا جو سراسر غیر قانونی اور زیادتی ہے اور درندگی کی شرم ناک مثال ہے۔ ان کے مطابق ہمارے قبیلے نے دروش پولیس کو اطلاع دی اور ایس ایچ او تھانہ دروش پولیس نے بھاری نفری سمیت آکر ہمیں وہاں سے بازیاب کروایا۔ ذرام خان نے مزید کہا کہ یہ لوگ تعداد میں زیادہ تھے اور کراس ایف آئی آر کرانے کیلئے ہوسکتا ہے کہ انہوں نے اپنے بندوں کو بھی زحمی کیا ہو۔ ایس ایچ او تھانہ دروش کے مطابق اس کیس میں تین ایف آئی آر درج ہوئی ہیں جن میں ایک کراس ورژن بھی ہے اور دونوں فریق سے بندے گرفتار بھی کئے ہیں۔ فریق اول سے جعفر حسین، اطہر علی اور نذیر الرحمان کو گرفتار کیا ہے جن پر تعزیرات پاکستان کے تحت دفعہ 342, 506 ,354 ,147 ,149 مد نمبر 6 کے تحت مقدمہ درج ہوچکا ہے۔ جبکہ دوسری فریق سے روزی خان اور ذرام خان کو علت 184 میں زیر دفعہ 324 ,34 کے تحت مقدمہ درج ہوا ہے۔ جبکہ تیسری ایف آئی آر علت 185 برخلاف شیری ترکھان، نوید، سہیل، خطاب وغیرہ پر زیر دفعہ 341 ,354, 504 کے تحت درج کی گئی ہیں۔
اس واقعے کے بعد بدھ کے روز سے مڈگلشٹ کے شر پسند لوگوں نے سرکاری سڑک بلاک کی ہوئی ہے اور بال پنچ میں بچوں اور خواتین سمیت جو پندرہ لوگ اب بھی گھروں میں مقید ہیں ان کے مرد حضرات سمیت کھانے پینے کی سامان کو بھی وہاں جانے نہیں دیتے۔ ہمارے نمائندے نے حقائق جاننے اور اس معاملے کے جانچ پڑتال کیلئے مڈگلشٹ پہنچ کر دونوں فریق کا موقف لے سکے تو وہاں موجود سینکڑوں لوگوں نے نہ صرف بات کرنے سے انکار کیا بلکہ ان کو روک دیا ان کو پریس کارڈ بھی دکھایا گیا مگر ان شر پسندوں نے ایک بھی نہیں سنی اور ان کو وہاں سے روک کر صاف انکا ر کیا۔ حیرانگی کی بات یہ ہے کہ وہاں پولیس کے دو سپاہی بھی موجود تھے جو اسی گاؤں سے تعلق رکھتے تھے اور ان کی موجودگی میں یہ لوگ غنڈہ گردی کرتے ہوئے راستے کو ہر قسم ٹریفک کیلئے بند کیا ہوا ہے۔ ہمارے نمائندے نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سمیرا شمروز خان کو فون پر اس واقعے کی اطلاع دی کہ یہ لوگ نہ صرف بال پنچ کے لوگوں کو نہیں چھوڑتے بلکہ قانون کو ہاتھ میں لیتے ہوئے میڈیا ٹیم کو بھی نہیں جانے دیتے جس پر ڈی پی او نے یقین دہانی کرائی کہ وہ ضرور اس کی پوچھ گچھ کریں گی۔ ہمارے نمائندے نے کالاس پولیس چوکی آکر واقعے کی شکایت کرنا چاہی مگر وہاں ایک سپاہی ضیاء الرحمان بغیر وردی کے موجود تھے اوروہ راستے کی بندش کے بارے میں کسی قسم کی معلومات نہیں دے سکتے تھے۔ ہمارے نمائندے نے تھانہ دروش آکر ملزمان کی گرفتاری اور راستے کی بندش پر پولیس کے رد عمل کے بارے میں جاننا چاہا۔ ذرام خان نے مزید بتایا کہ میڈیا میں ایک غلط خبر چلی ہے کہ مڈگلشٹ والے آب پاشی کرنے کی عرض سے آئے تھے جبکہ وہاں آبپاشی کی کوئی ایسی نہر ہی نہیں ہے جہاں سے یہ لوگ اپنے کھیتوں کو سیراب کرسکیں۔ جبکہ یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے یہ لوگ صرف اور صرف ہمارے گھروں اور زمینات پر قبضہ کرنے کیلئے مسلح ہوکر آئے تھے اور ہم پر حملہ کیا۔ واضح رہے کہ مڈگلشت میں ان شرپسندوں نے ابھی تک راستہ بند کیا ہوا ہے اور کسی بھی طرح قانون کی پاسداری کرنے کو تیار نہیں ہے۔ ذرام خان اور روزی خان نے چیف جسٹس آف پاکستان، چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ، وزیر اعلی خیبر پحتون خواہ اور انسپکٹر جنرل آف پولیس کے پی سے اپیل کی ہے کہ مڈگلشٹ کے سینکڑوں لوگوں نے ہمارے گھروں پر بغیر کسی وجہ کے حملہ کرکے خواتین سمیت بچوں کو زود و کوب کیا ان کے خلاف دہشت گردی کی بھی دفعہ لگائی جائے اور ان کے خلاف سخت سے سخت قانونی کاروائی کرکے ان کو عبرت ناک سزا دی جائے تاکہ آئندہ چترال کی پرامن فضاء کو خراب کرنے کی کوشش نہ کریں۔ ایف آئی آر کی جانچ پڑتال سے پتہ چلا ہے کہ مڈگلشت والوں نے ایک ایسے فرد کا نام بھی ایف آئی آر میں شامل کیا ہے جو سرے سے اس ضلع میں اس دن موجود ہی نہیں تھا۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے