کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) ایمرجنسی آپریشن سینٹر برائے پولیو سندھ کی جانب سے سندھ بھر میں 7 جون سے لے کر 13 جون تک پولیو مہم چلائی جائے گی اس مہم کے دوران سندھ کے 30 اضلاع میں تقریبا 90 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے، 90 لاکھ بچوں میں سے تقریبا 20 لاکھ بچے کراچی میں رہائش پذیر ہیں، ترجمان آئی یو سی سندھ کے مطابق اگست 2020 سے لے کر اب تک تقریبا ہر ڈیڑھ مہینے بعد پولیو مہم چلائی گئی ہے جس کی وجہ سے پولیو کیسز میں کمی آئی ہے اور گٹر کے پانی میں بھی پولیو وائرس کی کمی ائی ہے۔ سندھ میں جولائی دو ہزار بیس سے اب تک ایک بھی پولیو کیس رپورٹ نہیں کیا گیا اور گٹر کے پانی میں بھی پولیو وائرس کی کمی آئی ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر باقاعدگی سے پولیو مہم چلائی جائے اور والدین اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلائیں تو پولیو سے نجات پائی جا سکتی ہے، یہ مہم پورے پاکستان کے مخصوص علاقوں میں چلائی جا رہی ہے جنہیں پولیو کے حوالے سے حساس قرار دیا گیا ہے۔2021 میں پاکستان میں ایک پولیو کیس رپورٹ کیا گیا ہے جس کا تعلق بلوچستان سے ہے، والدین سے گزارش ہے کہ آگے بڑھ کر اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلائیں، گھر آنے والی ٹیموں سے تعاون کریں اور میڈیا سے گزارش ہے کہ اس کے بارے میں آگاہی فراہم کریں، پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن دنیا بھر کے طبی ماہرین اور تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے بڑے علما کی بھی یہی ہدایت ہے کہ اپنے پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلائیں اور عمر بھر کی معذوری سے بچائیں، 2020 میں ملک بھر میں 84 پولیو کیسز رپورٹ کیے گئے جبکہ 2019 میں پولیو کیسز کی تعداد 147 تھی، سندھ میں 2020 میں 22 پولیو کیسز رپورٹ کیے گئے جبکہ 2019 میں پولیو کیسز کی تعداد 30 تھی، ٹیموں کی محنت کی وجہ سے پولیو کیسز پر قابو پایا گیا ہے لیکن ہمیں محنت سے کام جاری رکھنا ہوگا۔