تازہ ترین
Home / اہم خبریں / سندھ میں پانی کی مصنوعی قلت قرارداد پر بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پر پی ٹی آئی کا سندھ اسمبلی میں سخت احتجاج

سندھ میں پانی کی مصنوعی قلت قرارداد پر بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پر پی ٹی آئی کا سندھ اسمبلی میں سخت احتجاج

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) سندھ میں پانی کی مصنوعی قلت قرارداد پر بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پر پی ٹی آئی کا سندھ اسمبلی میں سخت احتجاج، اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ کی قیادت میں اراکین اسمبلی نے احتجاج کیا۔ اپوزیشن کی سندھ میں پانی کی کمی پر سندھ حکومت کے خلاف نعرے بازی ایوان پانی دو کے نعروں سے گونج اٹھا، سندھ کے سب سے بڑے شہر کراچی میں پانی نلکوں میں آتا نہیں ٹینکرز میں ہر جگہ آجاتا ہے، حلیم عادل شیخ کا خطاب۔ اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ نے خطاب کرتے ہوئے کہا آج کراچی کے نمائندوں کی مشترکہ قرارداد تھی، لیکن ہماری نہیں سنی گئی ہے، کراچی پورے پاکستان کو چلاتا ہے، 90 فیصد پورے سندھ کا روینیو کراچی دیتا ہے کراچی سندھ کا سب سے بڑا شہر اور سرمایہ ہے پیپلز پارٹی کو کراچی کی عوام نے ووٹ نہیں دیا جس کی سزا آج عوام کو دی جارہی ہے۔کراچی دشمنی کرنے والے سندھ اور پاکستان دشمنی کے مرتکب ہیں، کراچی میں نلکے میں پانی آتا نہیں ٹینکر میں ختم نہیں ہوتا، ٹینکر مافیا کا سربراہ مراد علی شاہ اور بلاول زرداری ہے، 250 ارب کا پانی ٹینکرز کے ذریعے چوری ہورہا ہے۔ اس وقت سندھ کے حالات خراب ہوچکے ہیں کرپشن کی وجہ سے عوام کو بنیادی سہولیات تک میسر نہیں ہیں۔ بدترین حشر لاڑکانہ، تھر کا ہوچکا ہے، اگر پی پی سے تعلق ہو تو زمینوں کے لئے اور کراچی میں بھی پینے کے لئے پانی موجود ہو جاتا ہے۔ میرے حلقے میں پانی فیکٹریوں میں بیچا جارہا ہے، مرکز میں ہم سندھ کے نمائندے ہیں، کراچی کو سیراب نہیں کیا گیا نہ روڈ نہ کوئی سہولت موجود نہیں، پی پی نے ہمیشہ ملک و جمہوریت دشمنی کا ثبوت دیا ہے۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا سندھ پبلک سروس کمیشن کا سسٹم ٹھیک ہونا چاہیے تھا میرٹ والے افراد دوبارہ آسکتے ہیں، کرپشن اور رشوت خوری کی وجہ سے نوکریوں کی بولیاں لگتی ہیں غریب پڑھے لکھے محنتی نوجوان میرٹ نہ ہونے کی وجہ سے رہ جاتے ہیں، ادارے کو موجودہ حکمرانوں نے تباہ کر دیا ہے۔ حلیم عادل شیخ نے کہا میرے حلقے میں پینے کا پانی نہیں، پانی دینا سندھ حکومت کی ذمہ داری ہے، پہلے ٹینکرز آتے تھے اب میری دشمنی میں ٹینکرز بند کر دیے ہیں، آج سندھ میں یزیدی حکمران آچکے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ نے پانی کو روکا ہوا ہے، مجھ سے جھگڑا ہے ساڑھے 4 لاکھ عوام کو سزا کیوں دی جارہی ہے، اگر پانی نہیں ملا تو ان کا گھیراؤ کریں گے، وفاقی سرکار نے سندھ میں 65 ارب کورونا میں دیے، سندھ کو 1100 ارب سے زیادہ کا پیکیج دیا ہے سندھ کو عوام کو وفاقی حکومت بنیادی سہولیات فراہم کر رہی ہے۔ کامیاب جوان پروگرام کے تحت 10 ارب سندھ کا حصہ ہے،لاکھوں نوکریاں بڑھ چکی ہیں، ہم نے سندھ کی اسکولوں سے بھینسیں نکالی، سندھ کے تعلیمی نظام کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ سندھ حکومت کے وزراء چکنے گھڑے ہیں، رشوت کا پیسہ اپنے آقاؤں تک پہنچاتے ہیں۔ انہوں نے یونیورسٹیاں اور اسکول تباہ کردیے، سندھ میں نااہل عملہ بھرتی کیا گیا، اسپیکر صاحب اسمبلی ریسلنگ کا اکھاڑا نہیں ہے، یہ قانون ساز ادارہ ہے، جہاں کچھ جاہل بیٹھے ہیں،جن میں کوئی تمیز اور برداشت نہیں، اسمبلی ایک رول ماڈل ہو، ہمیں عوام نے منتخب کرکے بھیجا ہے تاکہ عوام کے لئے قانون سازی کر سکیں۔ لیکن یہاں اپوزیشن کی بات سنی نہیں جاتی ہے۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے