کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے ارجنٹ آئینی درخواست کے ذریعے کراچی کے آواری ٹاور والے فاطمہ جناح روڈ کو دوبارہ بند کئے جانے کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی۔ عدالت نے ارجنٹ درخواست کو منظور کر کے فریقین کو 22 جون کو سماعت کے لئے طلب کر لیا۔ درخواست کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس امجد علی سہتو پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔ واضح رہے کہ پاسبان نے کراچی میں چار مصروف سڑکوں کی بندش کو آئینی درخواست نمبر سی پی-2523 کے ذریعے سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ جس میں درخواست گذار پاسبان لائرز فورم کراچی کے صدر خالد صدیقی ایڈووکیٹ نے پاسبان کے وکیل عرفان عزیز ایڈووکیٹ کے ذریعے چیف سیکریٹری سندھ، سیکریٹری داخلہ سندھ، ڈی آئی جی ٹریفک گارڈن ہیڈ کوارٹرز کراچی اور ڈپٹی کمشنرکراچی ساؤتھ کو فریق بناتے ہوئے عدالت کو بتایا تھا کہ شہر کراچی میں مختلف جگہوں پر چھ سڑکوں کو بند کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے سڑکوں پر ٹریفک کا ہجوم رہتا ہے اور وارداتیں بڑھ گئی ہیں۔ ان سڑکوں میں ایمپریس مارکیٹ کے سامنے میر کرم علی تالپور روڈ، آواری ٹاورز کو جانے والا فاطمہ جناح روڈ، کمال عطا ترک روڈ، ایس ایم لاء کالج سے جنگ پریس تک جانے والا روڈ، صوبائی اسمبلی روڈ اور کورٹ روڈ شامل ہیں۔ شہر میں سڑکیں کم اور ٹریفک زیادہ ہے۔ عرفان عزیز ایڈووکیٹ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ سپریم کورٹ کے ’دھرنا‘ کیس میں سنائے جانے والے فیصلے کے تحت کسی بھی حالت میں سڑکیں بلاک نہیں کی جا سکتیں۔ لیکن جواب دہندگان معزز عدلیہ کے احکامات کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ عوام کے وسیع تر مفاد میں اور آئین و قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لئے، معزز عدالت فوری غیر قانونی طور پر بند سڑکوں سے رکاوٹیں ہٹانے اور تمام سڑکوں کو کھولنے کے احکامات جاری کرے۔ عدالت نے جواب دہندگان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے25 مئی کو ہونے والی سماعت میں جواب داخل کرنے کی ہدایت جاری کی تھی جس کے بعد آواری ٹاور والی سڑک کو کھول دیا گیا تھا لیکن مذکورہ تاریخ پر سماعت نہ ہونے کی وجہ سے اس سڑک کو دوبارہ عوام کے لئے بند کر دیا گیا ہے۔