کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) کورونا وائرس کا خوف، سندھ حکومت نے وفاق سے ٹرین سروس اور کارخانے بند کرنے کی درخواست کردی سندھ حکومت کے ترجمان بیرسٹر مرتضی وہاب کہتے ہیں کہ ٹرینوں میں ہزاروں مسافر روزانہ سفر کرتے ہیں جسکی وجہ سے کورونا وائرس کی وبا پھیلنے کا خدشہ بڑھ جائیگا، مارکیٹیں اور ریستوران بند کرنے کے فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائیگی سندھ حکومت نے فلاحی اداروں کی مدد سے راشن تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے کورونا کی عالمی وباء سے چھٹکارے کے لئے سندھ حکومت نے ایک بار پھر عوام سے بھرپور تعاون کی اپیل کی ہے سکھر قرنطینہ میں موجود 9 مزید افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے سندھ بھر میں اب کورونا وائرس مثبت مریضوں کی تعداد 181 ہوچکی ہے خدارا وفاقی حکومت ٹوئیٹر سے باہر نکل کر عملی اقدامات کرے۔ وہ بدھ کو سندھ اسمبلی کمیٹی روم میں نیوز کانفرنس سے خطاب کررہے تھے بیرسٹر مرتضی وہاب نے مزید کہا کہ جو حکومت کا ساتھ نہیں دے سکتے ان سے درخواست ہے کہ وہ شرانگیزی نہ پھیلائیں افسوس ہے کہ کچھ سیاستدان اس موقع پر نامناسب کام کررہے ہیں ہم تو کہہ رہے ہیں کہ ٹرین آپریشن کو روکنے کی ضرورت ہے اگر ٹرین ہزاروں لوگ سفر کریں تو احتیاط کیسے ہوگی گھبرانے کی ضرورت نہیں مگر کورونا وائرس سے پریشان ہونےکی ضرورت ہے کوارنٹائن کرنے کی ذمہ داری وفاقی حکومت کی ہے بلوچستان حکومت کی ذمہ داری نہیں تھی بلوچستان حکومت کا شکریہ ادا کرتا ہوں کورونا وائرس کے شکار 143 تفتان سے آنیوالے زائرین اور دیگر صرف 38 ہیں وفاق ٹوئٹر سے باہر نکل کر کام کر رہا ہوتا حالات ایسے نہ ہوتے انہوں نے کہا کہ ہسپتالوں میں غیر ضروری نقل و حرکت کو کم کرنے کی کوشش کی ہے یہ ایک دو دن کا نہیں طویل پراسس ہے جو کام فوری نوعیت کے نہیں ان کو موخر کر رہے ہیں بدقسمتی سے وفاقی حکومت کی طرف سے مثبت ردعمل نہیں آیا وزیراعظم سے گزارش ہے کہ کورونا وائرس کو سنجیدہ لیں ابھی تک وفاقی حکومت خاموش ہے وفاقی حکومت سے درخواست ہے کہ وہ کورونا وائرس کے تدارک کے لیے فیصلے کرے انہوں نے کہا کہ معروف سماجی شخصیات مخیر حضرات اور اداروں نے مدد، معاونت کے لیے حکومت سے رجوع کیا ہے تمام مخیر حضرات اور اداروں کا شکریہ ادا کرتا ہوں مدد کا آسان طریقہ ہے کہ سب لوگ خود کو 14 روز کے لیے کوارنٹائن کرلیں اگر سب لوگ کوارنٹائن ہوجائینگے تو حکومت اور شہریوں کی مدد کرسکیں گے کورونا وائرس فنڈ کے استعمال اور نگرانی کے لیے تین معروف سماجی شخصیات کو کمیٹی میں شامل کیا ہے فنڈز کی شفافیت کے لیے آڈٹ کرایا جائے گا تجارتی سرگرمیوں پر پابندی کا اطلاق کریانہ، میڈیکل اور جنرل اسٹورز پر نہیں ہوگا حکومت کےفیصلے کو رضاکارانہ قبول کرنے پر شہریوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں، ہوٹلز بند رکھنے کے احکامات پر 100 فیصد عمل نہیں کیا جارہا شہریوں سے درخواست ہے کہ وہ حکومت کی مدد کریں اگر احکامات پر عمل نہیں کیا گیا تو کمشنر کے زریعے سخت اقدامات کرینگے بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا کہ ہمیں کوشش کرکے خود کو محفوظ رکھنا ہے ہمارا ہسپتال کا عملہ خدمت میں مصروف ہے ماضی میں بھی وزیراعظم کو گذارش کی ہے کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھیں کل بھی اچھی امید تھی پر خطاب پر اثر نہیں تھا کورونا وائرس پر اہم اعلانات کی ضرورت ہے ابھی تک خاموشی ہے انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت سے صوبائی حکومت کو صرف 200 کو رونا ٹیسٹ کٹس دی ہیں سندھ حکومت نے ازخود 10 ہزار کورونا ٹیسٹ کٹس امپورٹ کی ہیں سندھ حکومت کورونا ٹیسٹ کٹس سے دس ہزار افراد کے ٹیسٹ کرسکتی ہے بیرسٹر مرتضی وہاب نے بتایا کہ سکھر قرنطینہ میں موجود 9 مزید افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی سندھ بھر میں اب کورونا وائرس پازیٹو مریضوں کی تعداد 181 ہوچکی ہے۔
![]()