کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں آپس کی نورا کشتی بند کریں، کراچی کے عوام کو بیوقوف بنانے اور عدالتوں کے احکامات پر عملدرآمد پر تاخیر کرنا بند کریں۔ کراچی کے تین کروڑ سے زائد عوام کو ٹریفک و ٹرانسپورٹ کے مسائل سے چھٹکارہ دلوانے کے لئے فوری کراچی سرکلر ریلوے کو بحال کیا جائے۔ سرکلر ریلوے سے کراچی کے لوگوں کو سستا اور پرسکون ٹرانسپورٹ نظام ملے گا اور ٹریفک جام کے مسائل حل ہوں گے۔ کراچی میں بڑھتی فضائی آلودگی میں بھی کمی واقع ہوگی۔ پبلک ٹرانسپورٹ نظام کی بہتری سے کراچی کی معیشت سدھر جائے گی لیکن وفاق اور سندھ حکومتوں کا کراچی سرکلر ریلوے کے معاملے میں قطعی سنجیدہ نہ ہونا افسوسناک ہے۔ ان دونوں حکومتوں کی ملی بھگت اور مجرمانہ غفلت اسی طرح جاری رہی تو اگلے 100 سالوں میں بھی کراچی سرکلر ریلوے بحال نہیں ہو سکے گا۔ سرکلر ریلوے کی زمین سے تجاوزات کو فوری ہٹایا جائے۔ ایمپریس مارکیٹ آپریشن بتا چکا ہے کہ حکومتیں سنجیدہ ہوں تو تجاوزات ہٹانا کوئی مسئلہ نہیں۔تجاوزات کے خاتمے کے دوران حقیقی متاثرین کے لئے سیلاب متاثرین کی طرح اسکولوں اور سرکاری عمارتوں میں عارضی کیمپ بنائے جائیں، کھلی جگہوں پر خیمہ بستیاں بنائی جائیں اور ان کی ہر ممکن مدد کی جائے۔ پاسبان پبلک سیکرٹیریٹ میں ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے پاسبان کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا کہ وفاقی حکومت نے کراچی شہر میں ٹرانسپورٹ کے مسائل کے حل کے لئے 1961 میں کراچی سرکلر ریلوے کا آغاز کیا تھا لیکن کراچی میں موجود ٹرانسپورٹ مافیا کی وجہ سے کراچی کے شہری اس سہولت سے بتدریج محروم ہوگئے۔ ٹرانسپورٹ مافیا نے ریلوے کے بدعنوان عملے کی ملی بھگت سے سرکلر ریلوے کو ناکام بنا دیا اور بالآ خر1999 میں اس سہولت کو اس طرح بند کر دیا کہ آج بحالی میں شدید مشکلات حائل ہو گئی ہیں۔ اب 19 سال بعد ٹریفک کے بڑھتے ہوئے مسائل، سڑکوں کی خستہ حالی اور ٹرانسپورٹ مافیا کی من مانیوں سے نجات پانے کے لئے کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی ناگزیر ہو چکی ہے۔ ڈرگ روڈ سے ہوتی ہوئی ماڑی پور تک جاتی کراچی سرکلر ریلوے کی لائن اور اطراف کی زمینوں پر قبضہ گروپ کا راج ہے، سرکلر ریلوے کے بحالی کے لئے اس زمین کو لینڈ مافیا کے قبضے سے مکمل چھڑانا ضروری ہے۔ سرکلر ریلوے کے آس پاس قائم کچی آبادیوں کو گیس، پانی اور بجلی کی فراہمی روک کر اور ان آبادیوں کے رہائشیوں کو متبادل رہائش کے لئے ہنگامی بنیادوں پر مناسب جگہ فراہم کی جائے۔ کراچی سرکلر ریلوے منصوبہ کراچی کے لئے ازحد ضروری اور مفید ہے۔ اس کی بدولت کراچی کے شہریوں کو ٹرانسپورٹ مافیا کی دھاندلیوں، من مانیوں، صدیوں پرانی کھٹارا بسوں اور چنگ چی رکشوں کے اذیت ناک سفر سے نجات مل سکے گی۔ جدید ریلوے ٹرین کے آغاز سے عوام سستے کرایوں میں کم وقت میں اپنی منزل مقصود تک پہنچ سکیں گے۔ حکومت جلد از جلد اس منصوبے کو سرکاری کاغذوں کے پلندے سے نکال کر مکمل کرے تاکہ کراچی کے تین کروڑ سے زائدعوام ٹریفک کے مسائل سے نجات حاصل کر سکیں۔ الطاف شکور نے روشنیوں کے شہر کی رونقیں بحال کرنے کے معاملے پر چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کے احکامات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اظہار تشکر کیا اور وزیر اعظم عمران خان اور تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین سے پر زور اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اہل کراچی کے ساتھ بے اعتنائی نہ برتی جائے۔ وزیر ریلوے شیخ رشید اور وزیر اعلی سندھ کراچی کے شہریوں کو ٹریفک کے مسائل سے چھٹکارہ دلوانے کے لئے ہر ممکن عملی اقدامات کریں کیونکہ یہ چند لوگوں کا نہیں بلکہ ہماری آنے والی نسلوں کی بقا کا سوال ہے۔ الطاف شکور نے اس بات پر زور دیا کہ کراچی کو چارٹر سٹی کے آئینی حقوق دیئے جائیں۔
![]()