سیالکوٹ (رپورٹ: سیدہ نزہت شہناز) سمبڑیال میں ظالموں نے پسند کی شادی کر نے پر حاملہ لڑکی کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ مبشر اور زرینہ ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہوگئے اور گھر والوں کے نہ ماننے پر بھاگ کر شادی کر لی، مکار ملزمان نے صلح کے بعد قتل کر دیا۔ تھانہ بیگووالہ کے علاقہ کوپرہ خورد کے رہائشی مبشر اور زرینہ آپس میں محبت کرتے تھے اور گھر والوں نے اپنی لڑکی کا رشتہ دینے سے انکار کر دیا تھا جس پر مبشر اور زرینہ نے گھر سے بھاگ کر شادی کرلی اور ملتان میں رہائش پذیر ہوگئے۔ شادی کے چند ماہ گزرنے بعد لڑکی کا والد معززین علاقہ کیساتھ ملتان اپنی بیٹی سے ملنے کے لیے گیا اور گاؤں میں اپنی بیٹی اور داماد کو واپس آنے کے لیے زور دیا جس پر زرینہ نے انکار کر دیا اور اس نے اپنے خاوند کو کہا کہ میر ے گھر والے وہاں لیجا کر مجھے قتل کر ڈالیں گے لیکن علاقہ کے لوگوں نے ذمہ داری لی کے ایسا کچھ نہیں ہوگا اور پنچائت کے افراد نے مبشر سے سفید کاغذ پر انگوٹھا لگوالیا اور کہا کہ ہم تمہاری بیوی کو ساتھ لیجا رہے ہیں اور تم ایک ہفتہ بعد آجانا وہ زرینہ کو اپنے ساتھ لیکر کوپرہ خورد آگئے۔ کچھ روز بعد ہی مبشر کو زرینہ کے گھر سے کال آئی کہ ہماری بیٹی کو طلاق دیدو اور یہاں واپس نہ آنا نہیں تو تم کو قتل کر دینگے جس پر مبشر نے طلاق دینے سے انکار کر دیا۔ مبشر نے الزام لگایا کہ ملزمان سعید خان، علی احمد، قمر زمان اور طارق وغیرہ نے میری حاملہ بیوی کو قتل کرکے نعش غائب کر دی ہے جبکہ پولیس تھانہ بیگووالہ نے مقدمہ تو درج کرلیا لیکن ملزمان بااثر ہونے کی وجہ سے نہ تو ان کی گرفتاری ڈالی گئی اور نہ ہی زرینہ کی نعش کو بر آمد کیا گیا ہے۔ دوسری جانب ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مبشر کو ڈرا دھمکا کر خاموش کروا دیا گیا ہے اور اس واردات کا مقدمہ پولیس کی مدعیت میں ملزمان پر درج کر دیا گیا ہے۔
![]()