ڈیرہ اسماعیل خان (رپورٹ: گوہر غنچہ) پاکستان تحریک انصاف کے منشور کی دھجیاں بکھیر دی گئیں، محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیرہ اسماعیل خان میں اندھیر نگری چوپٹ راج قائم ہوگیا، دفتر میں لوٹ مار کا بازار گرم، نان کسٹم اور دو نمبر گاڑیوں پر سرکاری نمبر پلیٹس لگا کر کلاس فور سے ای ٹی او تک کے زیر استعمال ہونے کا انکشاف، پرفیشنل ٹیکس کی وصولی میں کرپشن کی انتہاء کردی گئی، پراپرٹی ٹیکس کی وصولی میں من مانیاں کھلے عام جاری، تفصیلات کے مطابق محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیرہ اسماعیل خان میں طویل عرصہ سے لوٹ مار کا بازار گرم ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں پکڑی جانے والی نان کسٹم اور دونمبر گاڑیوں پر سرکاری نمبر پلیٹس لگا کر انہیں کلاس فور سے لے کر افسران تک کے استعمال میں لایا جارہا ہے۔ از روئے قانون پکڑی گئی ٹمپرڈ مشکوک گاڑی کو پرچہ دے کر اسے مزید جانچ پڑتال کے لئے فوری طور پر ایف ایس ایل لیبارٹری بھیجا جائے گا جس کی رپورٹ پر اصل چیسز نمبر کی رجسٹریشن کی معلومات پر مالک کا پتہ کرکے اسے مطلع کیا جائے گا، اگر کاغذات بوگس پائے جائیں اور اس کی ویری فیکشن کرکے اس کے نتائج سے ڈی جی ایکسائز کو آگاہ کیا جائے گا۔ اگر گاڑی کسی ایف آئی آر میں مطلوب ہوئی تو متعلقہ تھانے کو اطلاع دی جائے گی، گاڑی کلیئر ہونے پر ایکسائز ریکارڈ کے مطابق اصل مالک کے حوالے کی جائے گی جبکہ دو نمبر گاڑی ایکسائز ویئر ہاﺅس اور نان کسٹم گاڑی کو کسٹم وئیر ہاﺅس کے حوالے کرنا لازم قرار دیا گیا ہے۔ اس ضمن میں سپریم کورٹ کے بھی واضح احکامات موجود ہیں کہ محکمہ پولیس اور ایکسائز سمیت دیگر ادارے پکڑے گئی گاڑیوں کو اپنے پاس رکھ کر زیر استعمال نہیں لا سکتے بلکہ فوری طور پر انہیں متعلقہ ویئر ہاﺅس کے حوالے کیا جائے، ڈیرہ اسماعیل خان پولیس کی جانب سے پکڑی گئی تمام نان کسٹم پیڈ گاڑیاں اور سامان کسٹم حکام کے حوالے تو کیا جارہا ہے لیکن محکمہ ایکسائز میں اب تک الٹی گنگا بہہ رہی ہے اور ایکسائز دفتر میں اب بھی چھ سے آٹھ ماہ کے دوران پکڑی گئی گاڑیاں کثیر تعداد میں موجود کھڑی ہیں جنہیں دفتر کے کلاس فور سمیت دیگر افسران انہیں سرکاری نمبر پلیٹس لگا کر اپنے ذاتی استعمال میں لارہے ہیں۔ ایکسائز عملے پر لازم ہے کہ روڈ پرناکہ بندی کے دوران آنے اور جانے کی متعلقہ تھانہ کو اطلاع دے کر روزنامچہ رپورٹ میں اپنا اندراج کر ائیں گے لیکن محکمہ ایکسائز کے اہلکاروں نے تمام قانونی تقاضوں کو پس پشت ڈال کر لوٹ مار کا بازار گرم کیا ہوا ہے۔ محکمہ ایکسائز ڈیرہ اسماعیل خان کے اہلکاروں نے پروفیشنل ٹیکس کی وصولی میں بھی کرپشن کی انتہاء کر رکھی ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے پروفیشنل ٹیکس کا نفاذ کا 28 جولائی سال 2019 کو باقاعدہ نوٹیفکیشن کے ذریعے کیا گیا لیکن ایکسائز عملہ تاجروں کو ڈرا دھمکا کر مبینہ جعلی چالان بکس کے ذریعے بقایاجات شامل کرکے گزشتہ دو سالوں کے پرفیشنل ٹیکس وصول کررہا ہے ذرائع کے مطابق ایکسائز انسپکٹرز نے اس کام کے لئے پرائیویٹ افراد کو سرکاری وردیاں پہنا کر اپنے ساتھ لگا رکھا ہے جن کے ذریعے اب تک لاکھوں روپے تاجروں سے بٹور کر اپنی جیبیں بھرلی گئی ہیں، ایکسائز عملہ کی پراپرٹی ٹیکس کی وصولیوں میں بھی من مانیا عروج پر ہیں اور بڑے پیمانے پر بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ عام شہریوں سے سرکاری مقرر ریٹ سے زائد جبکہ من پسند اور بااثر افراد کے علاوہ کروڑوں روپے مالیت کے بنگلوں کے مالکان کو تھوڑی سی رشوت کے عوض انتہائی کم پراپرٹی ٹیکس لگا کر سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا جارہا ہے۔ ذرائع کے مطابق محکمہ ایکسائز میں ٹینور پالیسی کی دھجیاں بکھیر دی گئی ہیں، افسران اور اہلکاروں عرصہ دراز سے ایک ہی جگہ تعینات ہیں جنہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔
![]()