کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی نے محتسب کے عہدے کی تقرری کا اختیار وفاق سے چھین کر وزیر اعلی سندھ کو سونپ دیئے جانے کے ایکٹ کو سندھ ہائی کورٹ میں آئینی درخواست 929/2020 کے ذریعے چیلنج کر دیا ہے۔ درخواست میں چیف سیکریٹری سندھ، اسپیکر سندھ اسمبلی، وزیر اعلی سندھ اور گورنر سندھ کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سندھ حکومت نے بدنیتی پر مبنی ایک اور بل کو عجلت میں سندھ اسمبلی سے پاس کروا کر ایکٹ کی شکل دے دی ہے۔ پاسبان نے درخواست میں معزز عدالت سے استدعا کی ہے کہ پہلے مرحلے میں اسمبلی کے اجلاس کی تفصیلات طلب کی جائیں کیونکہ اس ایکٹ کو بغیر کسی سیاسی بحث و مباحثے اور نامکمل کورم کے ساتھ پاس کروا کر اسمبلی میں نمائندگی کا غلط استعمال کیا گیا ہے۔ بعد ازاں اسے غیر آئینی، غیر قانونی اور کالعدم قرار دیا جائے۔عدالت کی جانب سے پاسبان کی آئینی درخواست کی سماعت کے لئے 12 فروری کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ صوبائی محتسب کا ادارہ جب وفاق کے ماتحت تھا تو سرکاری محکموں کیخلاف شکایات پر فوری کاروائی کر کے عام آدمی کو باآسانی سستا انصاف فراہم کیا جا تا رہا ہے۔ لیکن اب ہر معاملے اور ہر محکمے میں صوبائی حکومت کی مداخلت ہو گی اور اداروں کی نااہلی پر کاروائیوں پرانصاف کے تقاضوں کے برخلاف صوبائی حکومت کی مرضی چلے گی۔ صوبائی حکومت سندھ کو وفاق سے جدا اور تنہا کر رہی ہے تاکہ سندھ میں وڈیرہ شاہی، لٹیرا شاہی، کرپشن اور محکموں کی نااہلی کے خلاف کسی قسم کی آواز بلند نہ کی جاسکے جبکہ پاسبان وفاق اور صوبے کا تعلق قائم رکھنا چاہتی ہے۔ اس موقع پر پاسبان کے چیئرمین الطاف شکور اور پاسبان کے وکیل عرفان عزیز نے پریس چوک پر میڈیا کے نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو سستے اور آسان انصاف کی فراہمی سے محروم نہیں ہونے دیں گے۔ سندھ اسمبلی نے محتسب کے عہدے کی تقرری کا اختیار وزیر اعلی کو تفویض کر کے صوبے کا نظام درہم برہم کرنے کی جو سازش کی ہے اسے پاسبان نے سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ کیونکہ وزیر اعلی کا مقرر کردہ محتسب کس کا احتساب کرے گا؟ سسٹم کو صاف و شفاف بنانے، میرٹ کا قتل عام روکنے اور بدعنوانی کی روک تھام کے لئے اس ایکٹ کو ختم کیا جانا ضروری ہے۔ صوبہ سندھ میں ہر محکمے میں کرپشن پہلے ہی عروج پر ہے۔ اس کرپشن کو مزید قانونی اور جائز بنانے کی جو سازش کی جارہی ہے اس کے خلاف پاسبان نے یہ قدم اٹھایا ہے۔ پاسبان اس ظالمانہ نظام کے خلاف آواز بلند کر چکی ہے اور انشاء اللہ اس نظام کو کامیاب نہیں ہونے دے گی۔
![]()