Home / اہم خبریں / کھلے تیل کی فروخت سے صحت عامہ کو شدید خطرات لاحق ہیں فوری اور سخت کریک ڈاؤن کیا جائے۔ صدر کاٹی شیخ عمر ریحان کا اظہار خیال

کھلے تیل کی فروخت سے صحت عامہ کو شدید خطرات لاحق ہیں فوری اور سخت کریک ڈاؤن کیا جائے۔ صدر کاٹی شیخ عمر ریحان کا اظہار خیال

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) ڈائریکٹر جنرل سندھ فوڈ اتھارٹی امجد علی لغاری نے کہا ہے کہ کھلے خوردنی تیل کی فروخت غیر قانونی قرار دی جاچکی ہے، اس کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کی جائے گی، اندرون سندھ سے کراچی آنے والا ایک لاکھ لیٹر غیر معیاری دودھ ضبط کیا جاچکا ہے، رینجرز کی مدد سے ہائی وے پر چیک پوسٹ قائم کی جائیں گی۔ انہوں نے کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے ظہرانے سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔ اس موقعے پر کاٹی کے صدر شیخ عمر ریحان، نائب صدر سید واجد حسین، کاٹی کی قائمہ کمیٹی برائے فوڈ سیفٹی اینڈ ہیلتھ محمد عمر قاسم عمرسن، احتشام الدین، شیخ فضل جلیل اور دیگر نے بھی اظہار خیال کیا۔ ڈی جی ایس ایف اے امجد علی لغاری کا کہنا تھا کہ پورے ملک کے لیے یکساں اسٹینڈرائزیشن پر عمل پیرا ہیں، سائنٹفک پینل میں صنعت کاروں کو نمائندگی دی جائے گی اس کے لیے کاٹی کو بھی اپنا فوکل پرسن مقرر کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری اوّلین ترجیح خوردنی اشیا کے معیار کو برقرار رکھنا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ہم بزنس کی اہمیت سے بھی پوری طرح آگاہ ہیں اس لیے اتھارٹی کی کارروائیوں کو مشتہر نہیں کیا جاتا۔ قبل ازیں صدر کاٹی شیخ عمر ریحان نے کہا کہ فوڈ اتھارٹی کا قیام خوش آئند قدم ہے اس کی مدد سے صحت عامہ کے مسائل پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ کھلا خوردنی تیل صحت کے لیے انتہائی مضر ہے اور تاحال اس کی فروخت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سینکڑوں ٹن ناقص کھلا تیل بازاروں میں عام دستیاب ہے، اس کے خلاف فوری اور سخت کریک ڈاؤن کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اتھارٹی خوراک کے معیار کی بہتری کے لیے جو قدم اٹھائے گی اس کا ساتھ دیں گے تاہم اچھی ساکھ رکھنے والے صنعت کاروں اور بزنس مین اور جعل سازوں کے مابین امتیاز برقرار رہنا چاہیے۔ عمر ریحان نے کہا کہ مثبت طریقے سے کام ہوگا تب ہی بہتری آئے گی اس لیے اتھارٹی کے حکام کا صنعت کاروں کے ساتھ رویہ بھی مثبت ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے ملکی اداروں کو جتنا مضبوط کریں گے ہمارا ملک اتنا ہی ترقی کرے گا۔ عمر قاسم عمرسن کا کہنا تھا کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان ملک میں سیاحت کے فروغ پر بہت زیادہ توجہ دے رہے ہیں اس کے لیے ہوٹل، ریستورانوں اور فوڈ انڈسٹری میں معیارات کا نفاذ انتہائی ضروری ہے تاکہ غیر ملکی سیاحوں کو کھانے پینے کی اشیا سے متعلق شکایات پیدا نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہیں ان کے خلاف کارروائی کے ساتھ معیارات پر عمل کرنے والوں کی تحسین بھی ضروری ہے۔ بعدازاں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی ایس ایف اے نے کہا کہ کھلے خوردنی تیل کی فروخت کو غیر قانونی قرار دیا جاچکا ہے، سب سے زیادہ ناقص تیل حیدرآباد میں فروخت ہورہا ہے اس حوالے سے بڑے پیمانے پر کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کھلے دودھ کی فروخت کو بھی ضابطے کے تحت لایا جارہا ہے، حیدرآباد، دادو اور لاڑکانہ وغیرہ سے کراچی لائے جانے والے کیمیکل ملا ایک لاکھ لیٹر ناقص دودھ ضبط کیا جا چکا ہے۔ اس موقع پر ایس ایف اے کے ڈائریکٹر فنانس سید شاہ حسین نے بتایا کہ 18 ماہ میں اتھارٹی لائسنس فیس کی مد میں 3 اور جرمانوں کی مدد میں 2 کروڑ روپے جمع کر چکی ہے۔ اس موقع پر پی وی ایم اے کے سینئر نائب صدر شیخ باسط اکرم نے خوردنی تیل سے متعلق مسائل سے بھی ایس ایف اے کے وفد کو آگاہ کیا، جبکہ کاٹی کے ممبران نے سی فوڈز سے متعلق کہا کہ اس میں کاسٹک سوڈے کا استعمال بھی زیادہ ہونے لگ گیا ہے جوکہ انسانی صحت کے لئے بہت نقصان دہ ہے۔ ایس ایف اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر برائے ملیر، کورنگی امتیاز علی ابڑو نے اتھارٹی کی کارکردگی اور ضابطوں سے متعلق تفصیلی بریفنگ بھی دی۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

ایم ڈی اے وفد کا پریس کلب کا دورہ، رہائشی اسکیم میں مکمل تعاون کی یقین دہانی

کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین/اسٹاف رپورٹر) ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے) کے ڈائریکٹر جنرل یاسین …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے