کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی نے ون وے اور رانگ وے خلاف ورزیوں پر ٹریفک پولیس کی مہم میں درج ہونے والی تمام ایف آئی آر اور مقدمات ختم کرانے کے سلسلے میں ایک اور اہم پیشرفت کر دی ہے۔ غلط سمت ڈرائیونگ کے خلاف کراچی پولیس کے قائم کئے گئے دو ہزار سے زائد مقدمات اور درج کی گئی ایف آئی آر ختم کرانے کے لئے سندھ ہائی کورٹ میں ایک اور ارجنٹ درخواست جمع کرا دی جس کی سماعت جسٹس محمد اقبال کلہوڑو اور جسٹس ارشاد علی شاہ پر مشتمل دو رُکنی بینچ نے کی۔ سماعت کے بعد معزز عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل اور پراسیکیوٹر جنرل کو نوٹس بھیج کر 20 فروری کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ اس موقع پر پاسبان کے چیئرمین الطاف شکور، پاسبان کے وکیل عرفان عزیز ایڈووکیٹ اور متاثرین کی بڑی تعداد بھی کمرہ عدالت میں موجود تھی۔ سماعت کے بعد سندھ ہائی کورٹ میڈیا چوک پر بریفنگ دیتے ہوئے الطاف شکور نے کہا کہ کراچی پولیس نے گذشتہ دنوں ون وے اور رانگ وے ڈرائیونگ کے خلاف کراچی کے شہریوں پر بھاری جرمانے عائد کئے، 2200 سے زائد ایف آ ئی آر درج کیں، لوگوں کو گرفتار کرکے لاک اپ میں بند کیا اور جیل بھی بھجوایا۔ بعض متاثرین سے تھانوں میں رشوت وصول کی گئی۔ جس کے خلاف پاسبان نے کراچی کے عوام کے مفاد کے پیش نظر فوری قدم اٹھاتے ہوئے ایک آئینی درخواست جمع کرا دی۔ جسے درست تسلیم کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ نے متعلقہ محکموں کو نوٹس جاری کر دیئے۔ نوٹس جاری ہونے کے فوری بعد سندھ حکومت کی جانب سے پولیس و ٹریفک پولیس کو ایف آئی آر کے اندراج اور گرفتاریوں سے روک دیا گیا۔ بعد ازاں پاسبان نے ایک اور ارجنٹ درخواست جمع کرائی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ جن لوگوں کی ایف آئی آر درج کی گئی تھیں انہیں ختم کیا جائے۔ کراچی کے عوام پر قائم مقدمات اور ایف آئی آر کا ریکارڈ ختم کیا جائے تاکہ تمام متاثرہ نوجوانوں کا مستقبل برباد ہونے سے بچایا جا سکے۔ الطاف شکور نے میڈیا کے توسط سے کراچی کے شہریوں سے بھی یہ اپیل کی کہ وہ ٹریفک قوانین کی پابندی کریں، حتی الامکان ون وے اور رانگ وے جانے سے گریز کریں۔ عوام، پولیس اور ٹریفک پولیس کے ساتھ ہر ممکن تعاون کرکے امن پسند شہری ہونے کا ثبوت دیں۔ پاسبان غلط ایف آئی آر اور مقدمات ختم کروانے کے لئے ہر ممکن جدوجہد کر رہی ہے اور انشاء اللہ اسے ختم کروا کر ہی دم لے گی۔ الطاف شکور نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کراچی کو چارٹر سٹی کا درجہ دلوا کر ایک ایسا خوشحال کراچی بنائیں گے جو دنیا کے کسی بھی منظم اور جدید شہر کا مقابلہ کر سکے۔ پاسبان کے وکیل عرفان عزیز ایڈووکیٹ نے میڈیا کو بتایا کہ پاسبان کی جانب سے ون وے خلاف ورزیوں کے خلاف درج شدہ ایف آئی آر رکوانے کے لئے داخل پٹیشن پر عدالت نے فوری احکامات دیتے ہوئے متعلقہ محکموں کو نوٹسز جاری کئے تھے جس کے بعد وزیر اعلی سندھ کا فوری بیان آیا اور مقدمات قائم کرنے اور گرفتاریوں کا سلسلہ رک گیا تھا۔ لیکن ایف آئی آر میں دفعہ 279 لگانے کی وجہ سے کراچی کے ہزاروں متاثرہ نوجوانوں کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے جو آئندہ زندگی کے مختلف مراحل میں انتہائی منفی اثرات مرتب کرے گا۔ لہذا فوری ان مقدمات اور ایف آئی آرزکا ختم کیا جانا ضروری ہے۔ پاسبان نے معزز عدالت سے استدعا کی کہ ان مقدمات کو ختم کر کے اور تمام ریکارڈ ڈیلیٹ کرکے کراچی کے نوجوانوں کا مستقبل محفوظ بنایا جائے تا کہ سرکاری نوکریوں کے حصول اور بین الاقوامی سفر کے وقت کسی بھی قسم کامنفی لیبل رکاوٹ نہ بنے۔ پاسبان کے موقف کو درست تسلیم کرتے ہوئے معزز عدالت نے دوبارہ ایڈووکیٹ جنرل اور پراسیکیوٹر جنرل کو نوٹس بھجے ہیں اور 20 فروری کو جواب داخل کرنے کا حکم دیا ہے۔
![]()