کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) سندھ یونیورسٹی ترمیمی ایکٹ کے خلاف پاسبان نے سندھ ہائی کورٹ میں حکومت سندھ کے اعتراضات کا جواب داخل کر ادیا۔ جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس یوسف سعید پر مبنی دو رُکنی بنچ نے پاسبان کے وکیل عرفان عزیز کو سندھ حکومت کی جانب سے آئینی کیس کے خلاف اٹھائے گئے اعتراضات کا جواب جمع کرنے کی اجازت دی۔ یہ درخواست پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے داخل کی ہے۔ حکومت سندھ، پاسبان کی درخواست پر ابھی تک یونیورسٹی ترمیمی بل کے حق میں سندھ اسمبلی کی کاروائی کا کوئی دستاویزی ثبوت پیش کرنے میں ناکام ہوگئی۔ واضح رہے کہ پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے یونیورسٹی ترمیمی بل یونیورسٹی اممندمنٹ بل جو اب ایکٹ بن چکا ہے، کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں آئینی درخواست زیر سماعت ہے۔ سماعت کے موقع پر پاسبان کے چیئرمین الطاف شکور بھی موجود تھے جنہوں نے بعد ازاں میڈیا چوک پر بریفنگ دی۔ اس ایکٹ کے تحت صوبائی اسمبلی میں عجلت میں پاس کرائے گئے ایک بل کے تحت گورنر سندھ سے سارے اختیارات چھین کر وزیر اعلی سندھ کو سونپ دئے گئے تھے۔ جس کے مطابق سندھ کی 24 جامعات کے چانسلر کے حقوق وزیر اعلی سندھ کو حا صل ہونگے۔ پاسبان کا موقف ہے کہ آئین کسی بھی قانون کے ذریعے گورنر کے فرائض چھیننے کی اجازت نہیں دیتا۔ سندھ کو چھوڑ کر پاکستان کے دیگر تمام صوبوں میں، گورنر ہی حکومت کے زیر انتظام یونیورسٹیوں کے چانسلر ہیں۔ گورنر ریاست کا نمائندہ، غیر جانبدار اور غیر سیاسی شخصیت ہوتی ہے۔ وزیر اعلی سندھ ایک سیاسی شخصیت ہیں اور کوئی سیاسی شخصیت کسی یونیورسٹی کا چانسلر نہیں ہوسکتا۔ پاسبان کے وکیل عرفان عزیز نے بتایا کہ جواب دہندگان کے پاس بد نیتی پر مبنی اس بل کو پاس کرانے کا مقصد سندھ میں تعلیم کا جنازہ نکالنا ہے۔ اس ترمیمی بل کی آڑ میں بدعنوان عناصر سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری ایجوکیشن کے بورڈز کو تباہ کرنے کے بعد اب اعلی تعلیمی اداروں میں بھی میرٹ کا قتل عام کریں گے۔ یہ بل سندھ کی نوجوان نسل کو تعلیم سے محروم رکھنے اور ان کے مستقبل کو تباہ کرنے کی ایک گھناؤنی سازش ہے۔ پاسبان کا یہ بھی موقف ہے کہ یہ بل عام طلبہ کو اعلی ومعیاری تعلیم حاصل کرنے سے محروم کر رہا ہے۔ یہ واضح رہے کہ پاسبان کے چیئرمین الطاف شکور کی آئینی درخواست کے جواب میں حکومت سندھ اور وزیر اعلی سندھ نے ایک جوابی اعتراض جمع کرایا۔ اس اعتراض کے جواب میں پاسبان کے وکیل عرفان عزیز ایڈووکیٹ نے مزید ایک جواب داخل کراتے ہوئے معزز عدالت کی توجہ حکومت سندھ کی غیر ذمہ داری کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت اور وزیر اعلی سندھ نے کورم پورا کئے بغیر، ووٹ ڈالے بغیر عجلت میں سندھ اسمبلی میں ایک ایسا بل پاس کروا یا ہے جو قانون کے دائرہ اختیار سے باہر ہے اور اب تک مدعا علیہان نے اس بل کے حق میں کسی قسم کا ثبوت اور کاغذات جمع نہیں کرائے ہیں۔
![]()