کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی نائب صدر و سندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ نے سندھ حکومت کی کارکردگی پر چارج شیٹ پیش کرتے ہوئے کہا پولیس آفیسر ڈاکٹر رضوان نے کچھ کلین شیو وزراء پر الزامات لگائے ہیں۔ عوام وزاء کی رپورٹس پر پریشان ہیں کس طرح وزاء ایسے کام کرتے ہیں رپورٹس میں کوئی وزیر ڈاکوؤں کا سرپرست ہے تو کوئی منشیات فروشوں کا سرغنہ بنا ہوا ہے۔ ہم نہیں کہتے کہ الزامات درست ہوں وہ بھی ہمارے پارلیمینٹیرین ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ جن وزراء کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے تو وہ الزامات کی جوڈیشنل تحقیقات کروائیں۔ ڈاکٹر رضوان کے الزامات پر جوڈیشنل کمیشن بنایا جائے یا رینجرز کی سربراہی میں پولیس و دیگر محکموں اداروں سے انکوائری کرائی جائے تاکہ الزامات درست یا غلط ثابت ہوسکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیس رپورٹس پر تو سندھ حکومت کو اعتماد نہیں اس کی انکوائری نہیں ہوسکتی۔ چنیسر گوٹھ منشیات کاروبار سمیت کچے کے ڈاکوؤں پر تحقیقات کرائی جائے کون سرپرست ہے اور کس نے عوام کے حقوق کا تحفظ کا حلف لینے کے بعد بھی ایسےکام کرے ہیں۔ ہم عوام کے نمائندہ ہیں ہماری ذمہ داری ہے ہم سندھ حکومت کی کارکردگی پر روزانہ چارج شیٹ پیش کریں گے۔ صحت، تعلیم، بلدیات، سمیت تمام محکموں میں کرپشن جو بے نقاب کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئی جی سندھ کو کوئی نہیں ہٹا رہا کلیم امام ہی آئی جی کی سیٹ پر کام کریں گے۔
![]()