چترال (رپورٹ: گل حماد فاروقی) چترال میں جب برف باری ہوتی ہے تو کاروبار زندگی ٹھپ ہوکر رہ جاتا ہے۔ لوگ شدید سردی کی وجہ سے گھروں میں قید ہوکر رہ جاتے ہیں، سڑکوں پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر اور بازار میں رش بہت کم ہوتا ہے۔ یہاں کے لوگ خود کو سردی سے بچانے یعنی خود کو گرم رکھنے اور کھانا پکانے کیلئے عام طور پر لکڑی استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے جنگلات کی بے دریغ کٹائی ہوتی ہے۔ جبکہ گیس پلانٹ کا پچھلی حکومت میں افتتاح بھی ہوا تھا اور سینگور کے مقام پر کوئی چالیس کنال زمین بھی خریدی گئی تھی، موجودہ حکومت نے اس پر کام روک دیا۔ بجلی کی نرح آئے روز مہنگے ہوتے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے لوگ بجلی نہایت احتیاط سے خرچ کرتے ہیں۔ جب برف باری رکتی ہے تو لوگوں کو ایک اور دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یعنی وہ اپنے گھروں کے چھتوں سے خصوصی طور پر لکڑی سے بنے ہوئے بیلچوں سے برف ہٹاتے ہیں تاکہ ان کی چھت گرنے سے بچ جائے اور برف زیادہ دیر تک چھت پر پڑے رہنے سے ان کے مکانات ٹپکتے ہیں۔ سردی کی وجہ سے پینے کی پائپ تک پھٹ جاتے ہیں۔ اور لوگوں کو پانی کی بھی قلعت کا مسئلہ درپیش ہوتا ہے۔ محکمہ جنگلات کے ڈویژنل فارسٹ آفیسر شوکت فیاض خٹک کا کہنا ہے کہ چترال میں جنگلات کی پیداوار بہت کم ہے جبکہ اس کا استعمال بہت زیادہ ہے اور متبادل ایندھن نہ ہونے کی وجہ سے یہاں کے لوگ لکڑی جلاتے ہیں جس سے جنگلات پر بہت بوجھ پڑتا ہے اور اگر متبادل توانائی یا ایندھن کا بندوبست نہیں کیا گیا تو اگلے تیس سالوں میں کوئی درخت نظر نہیں آئے گا۔ مقامی لوگ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ چترال میں گیس کے منصوبے پر فوری طور پر دوبارہ کام کا آغاز کیا جائے اور ان کو مفت یا سستی بجلی فراہم کی جائے تاکہ یہ لوگ خود کو سردی سے بچانے اور کھانا پکانے کیلئے گیس یا بجلی کا ہیٹر استعمال کریں تاکہ جنگلات پر بوجھ کم پڑے اور جنگلات کی بے دریغ کٹائی کی وجہ سے قدرتی آفات آنے سے بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان ہوتا ہے۔ اگر حکومت اربوں روپے کا معاوضہ دینے کی بجائے واپڈا یا پیسکو کو صرف چند کروڑ روپے دے تاکہ اس کے عوض لوگوں کو سستی بجلی فراہم کی جاسکے تو جنگلات بچ جائیں گے اور قدرتی آفات کم سے کم آئیں گے۔
![]()