ٹنڈو آدم (رپورٹ: رضوان احمد) ٹنڈو آدم کے مختلف علاقوں میں قائم بھینسوں کے باڑوں کی وجہ سے شہری دہرے عذاب میں مبتلا گوبرسے گلی محلوں میں گندگی اورتعفن پھیلنے سے مختلف بیماریاں جنم لے رہی ہیں درجنوں بھینسوں کے باڑے جوکہ علاقہ مکینوں، کونسلروں اور میونسپل کمیٹی انتظامیہ کے لیے درد سر بنے ہوئے ہیں بھینسوں کے باڑے کے مزدود روزانہ گوبر راستوں پر پھینک دیتے ہیں باڑوں کی صفائی کے دوران بھینسوں کا گوبر نالیوں، سیوریج لائنوں میں بذریعہ پریشر کے پانی سے بہادیتے ہیں جس سے سیوریج کی لائنیں بند ہونا معمول بن چکا ہے کروڑوں روپے مالیت سے ڈالی گئی سیوریج تباہ حال ہوچکی ہیں میونسپل کمیٹی جدید مشینریوں کی مدد سے لائنیں صاف کرتے ہیں بار بار صفائی کے بعد سیوریج چاک رہتی ہیں بھینسوں کے گوبر سے اٹھنے والا تعفن شہریوں کے لیے وبائی امراض کا باعث بھی بنا ہوا ہے بھینس باڑے مالکان بھینسوں کو نہلانے کے لیے باڑے سے نکال کر شہروں پر لے جاتے ہیں یہ معمول بھی دن میں دوبار کا ہے شاہراہوں سے گزرنے والی بھینسیں شہریوں کی جان اور روڈ رستے نہروں کے پشتے کیلئے خطرناک صورتحال اختیار کررہے ہیں میونسپل کمیٹی کی انتظامیہ کونسلرز کی بھرپور کوششوں کے باوجود عوام صفائی کی سہولت سے محروم ہے سیاسی و سماجی، مذہبی حلقوں اور اہل علاقہ نےاس ضمن میں چیئرمین میونسپل کمیٹی، ڈپٹی کمشنر سانگھڑ، اسٹنٹ کمشنر ٹنڈو آدم اور ڈی ایس پی ٹنڈو آدم کو بھینسوں کے باڑوں کو شہرسے باہر منتقل کرنے کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے اور مقامی و ضلعی انتظامیہ کو بھی بھینسوں کے باڑوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے کیونکہ بھینسوں کے باڑے شہریوں کے لیے خطرناک امراض کا باعث ہیں اور شہر کی صفائی کو بھی ناممکن بنا رکھا ہے ہر صورت میں بھینسوں کے باڑوں کو شہرسے باہر منتقل ہونا ہوگا۔
![]()