چترال (رپورٹ: گل حماد فاروقی) چترال میں عام طور پر لوگ گھروں، دفاتر میں، ہوٹل، اداروں میں سردی سے بچنے اور کھانا پکانے کیلئے جلانے کی لکڑی استعمال کرتے ہیں۔جس کی وجہ سے جنگلات پر بہت دباؤ ہے اور جنگلات بہت تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔ حال ہی میں چند لوگوں نے سٹیزن پورٹل پر ایک شکایت کی تھی کہ زیریں چترال سے بالائی چترال کو غیر قانونی طور پر جلانے کی لکڑی اسمگل ہورہی ہے جس سے نہ صرف بازار میں لکڑیوں کی قلعت پیدا ہوتی ہے بلکہ اس کی قیمت بھی بڑھتی ہے۔ اس شکایت پر متعلقہ اداروں کے افسران نے جواب دیا کہ جلانے کی لکڑی ایک ضلع سے دوسرے ضلع لے جانا قانونی طور پر ممنوع نہیں ہے تاہم ڈپٹی کمشنر دفعہ 144 لگاکر لکڑی کی فراہمی بند کرسکتا ہے۔ مگر مسئلے کا حل یہ نہیں ہے۔ اس مسئلے پر اس وقت قابو پایا جاسکتا ہے جس وقت چترال میں متبادل ایندھن کا انتظام کیا جائے جس سے نہ صرف لوگوں کو آسانی ہوگی بلکہ چترال کے جنگلات کی بے دریغ کٹائی بھی رک کر ہم قدرتی آفات کی شکل میں تباہی سے بھی بچ جائیں گے۔ سابقہ حکومت میں رکن قومی اسمبلی شہزادہ افتحار الدین کے مطابق ان کی کوششوں سے چترال میں ایل این جی / ایل پی جی گیس کی منظوری ہوئی تھی جس کیلئے سینگور کے مقام پر زمین بھی محتص کی گئی جس پر بورڈ بھی لگا ہے کہ یہ زمین گیس کیلئے محتص کی گئی ہے مگر وہ منصوبہ بھی گرم چشمہ روڈ کی طرح سیاست کی نظر ہوا جس کو نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو حوالے کرکے اس کی تعمیر کیلئے آٹھ ارب روپے منظور ہوکر باقاعدہ ٹینڈر بھی ہوا تھا مگر بعد میں اسے منسوح کیا گیا۔ ہمارے نمائندے نے اس مسئلے کا حل جاننے کیلئے ڈویژنل فارسٹ آفیسر شوکت فیاض خٹک سے مل کر ان سے معلومات حاصل کی انہوں نے انکشاف کیا کہ چترال میں سالانہ 4186000 من لکڑی کی ضرورت ہے جبکہ پیداوار اس سے انتہائی کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب جلانے کی لکڑی نہیں ملتی تو لوگ مجبوراً آس پاس علاقوں میں دیار کی لکڑی جلانے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ دیار کی لکڑی کی پیداوار دس سال میں 550000 فٹ ہے اس کی بڑھوتری بہت سست اور ضرورت سے بہت کم ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سیٹزین پورٹل پر جو شکایت آئی تھی اس کے جواب میں انہوں نے تجویز پیش کی تھی کہ جنگلات کو بچانے اور بازار میں جلانے کی لکڑی کی قلعت حتم کرنے کیلئے متبادل ایندھن، توانائی کا بندوبست کیا جائے جس میں گیس بھی شامل ہے یا گولین بجلی گھر سے لوگوں کو مفت یا سستی بجلی فراہم کی جائے تاکہ لوگ خود کو گرم رکھنے اور کھانا پکانے کیلئے بجلی کے ہیٹر استعمال کریں۔ انہوں نے کہا کہ چترال میں شاہ بلوط جسے مقامی زبان میں بانج دار کہتے ہیں اس کا جو سٹاک ہے یا جنگل ہے وہ اگلے تین چار سالوں میں ختم ہوجائے گا کیونکہ شاہ بلوط کی بڑھوتری نہایت کم ہے اور اس کی ضرورت پیداوار سے سو گنا زیادہ ہے۔ جب شاہ بلوط ختم ہوگا تو لوگ مجبورا دیار کی لکڑی استعمال کریں گے۔ ڈی ایف او نے حطرناک انکشاف کیا کہ اگر جلانے کی لکڑی کا استعمال اسی شرح سے جاری رہا اور لوگوں کو متبادل ایندھن نہیں دیا گیا تو اگلے تیس سالوں میں لکڑی دور بین میں نظر نہیں آۓ گی۔ اس سلسلے میں چترال کے چند عمائدین سے بھی بات کی گئی جس میں شہزادہ سراج الملک کا کہنا ہے کہ جس طرح ہنزہ اور ملاکنڈ بجلی گھر کے قریب لوگوں کو سستی بجلی دی جاتی ہے جہاں کے لوگ گرمیوں میں بجلی سے ائیر کنڈیشن اور سردیوں میں بجلی کا ہیٹر استعمال کرتے ہیں جس سے اس علاقے کے جنگلات محفوظ ہیں اسی طرز پر چترال کو بھی سستی بجلی دی جائے۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ چترال بازار کے لکڑیوں کے ٹالوں میں جلانے کی لکڑی کی نہایت قلعت ہے اور چھ سو روپے فی من بڑی مشکل سے لکڑی ملتی ہے۔ تاہم سینگور میں جو گیس منصوبے کا افتتاح ہوا تھا اس پر نہ جانے کیوں ہمارے منتحب نمائندوں کو سانپ نے سونگھا ہے اور وہ مکمل خاموش ہیں۔ چترال کے سیاسی اور سماجی طبقہ فکر نے وزیر اعظم پاکستان سے پر زور مطالبہ کیا ہے کہ جس طرح ا ن کی خواہش ہے کہ ملک میں جنگلات بڑھائیں جائیں اور جنگلات کی کٹائی کی وجہ سے ہم قدرتی آفات سے بچ جائیں تو چترال میں جو پچھلے حکومت میں گیس منصوبے کا افتتاح ہوا تھا اس پر فوری طور پر کام شروع کیا جائے اور دروش، بروز، آیون، چترال، سینگور، گرم چشمہ، بونی، مستوج، یارخون، ملکہو، تورکہو اور مڈگلشٹ میں فوری طور پر گیس منصوبے اور گیس ڈپو قائم کیا جائے تاکہ جنگلات پر قابو پایا جاسکے۔ اگر چترال میں گیس پلانٹ فوری تعمیر نہیں ہوا اور لوگوں کو سستی بجلی فراہم نہیں کی گئی تو پھر ہم پر یہ شعر لاگو ہوگا کہ جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملے۔ پھر درخت اور جنگل کی تصویر صرف کتابوں میں ملے گی۔
![]()