کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے ترکی، ایران، ملائیشیا اور دیگر اسلامی ممالک کو ملائیشیا میں ہونے والی کوالالمپور کانفرنس میں شرکت پر پاکستانی قوم کی جانب سے مبارکباد دی ہے، جس کا مقصد اسلامو فوبیا اور مسلمان ممالک کے مسائل کو حل کرکے انہیں متحد کرنا اور اپنے پیروں پر کھڑا کرنا ہے، کیونکہ اسلامی دنیا بے پناہ وسائل سے مالا مال ہے۔ لیکن پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے اس کانفرنس میں شرکت نہ کرکے اس بات کا ثبوت دیا ہے کہ وہ سیاسی طور پر نابالغ، مستقبل کی بصیرت سے نابلد اور بزدل ہیں۔ انہوں نے پوری قوم کو مایوس کیا ہے۔ وزیر اعظم نے سیاسی غلطی کرکے ملائیشیا نہ جا کر امریکہ اور مودی کو خیر سگالی کا پیغام دیا ہے جو پاکستان کو مسلسل عدم استحکام سے دوچار رکھنا چاہتے ہیں اور بیرونی مفادات کی خاطر پاکستان کو عالمی برادری میں تنہا کر رہے ہیں۔ الطاف شکور نے وزیر اعظم کی حماقت پر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ مستقبل قریب میں ملک میں پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کی حکومت قائم ہوگی تو پاکستان بھی ان ممالک کی صف میں شامل ہوگا جو مسلم دنیا کی قیادت کی صلاحیت رکھتے ہیں اور پاکستانی قوم فخر سے سر اٹھا کر چلے گی۔ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں الطاف شکور نے 19 دسمبر سے 21 دسمبر تک کوالالمپور میں ہونے والی اسلامی سربراہی کانفرنس میں پاکستان کے وزیر اعظم کے شرکت نہ کرنے کے فیصلے پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ترکی، ایران اور ملائیشیا کا ساتھ دینا مسلم دنیا کے مفاد میں ہے کیونکہ پاکستان کے سیاسی و تجارتی مفادات مسلم ممالک سے جڑے ہوئے ہیں۔ کشمیر کے مسئلے میں ترکی اور ملائیشیا نے ببانگ دہل ہمارا ساتھ دیا تھا۔ ان ممالک سے خود کو لاتعلق کرنا بھی کشمیر کاز سے سنگین غداری ہے۔ الطاف شکور نے سوال کیا کہ کشمیری عوام عمران خان کی تقریرکا تعویز کب تک گھول کر پیتے رہیں؟ عمران خان نے عالمی سیاست میں پاکستان کے جاندار کردار ادا کرنے کا ایک بہترین موقع ضائع کردیا ہے۔ امریکا کے ٹکڑوں پر پلنے والے سابقہ حکمرانوں نے قوم کو ہمیشہ مایوس کیا ہے۔ ایسے کڑے وقت میں جبکہ پاکستا ن اپنے اندرون خانہ انتشار پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہے، چاروں جانب سے دشمنوں کی سازشوں میں گھرا ہو اہے، اس وقت برادر اسلامی ممالک کا ساتھ نہ دینا سراسر نادانی ہے۔ اس وقت او آئی سی اسلامی ممالک کے حل میں بری طرح ناکام ہوگئی ہے۔ امریکہ، اسرائیل اور انڈیا کو خطرہ پیدا ہوگیا تھا کہ اس کانفرنس کے ذریعے ایک نئے مضبوط اسلامی بلاک کے بننے کا آغاز ہو رہا ہے اور پاکستان کو اس سے الگ رکھنا ضروری ہے، وزیر اعظم نے ملکی مفاد کے بجائے بیرونی مفاد کا ساتھ دیا۔ ایک مسلمان ملک کے سربراہ کی حیثیت سے وزیر اعظم کو اسلامی سربراہ کانفرنس میں شرکت کرکے فلسطین، شام اور کشمیر کے مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کی ضرورت تھی تاکہ اسلام دشمن قوتوں کو اسلام کی اصل طاقت کا علم ہو سکے۔
![]()