کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) آج سندھ ہائیکورٹ میں کے الیکٹرک کی مجرمانہ غفلت کے خلاف سماجی کارکن فرحان وزیر نے سماجی کارکن جبران ناصر اور چار شہیدوں کے لواحقین جس میں ڈیفنس کے تین اور ایک کھارادر والوں کے ہمراہ پٹیشن جمع کروا دی، وزارت پانی و بجلی، نیپرا اور کے الیکڑک کو پارٹی بناتے ہوئے جے آئی ٹی بنانے کی درخواست کی ہے، تاکہ کے الیکڑک کی غفلت سے قتل ہونے والے شہیدوں کے لواحقین کو انصاف مل سکے، فرحان وزیر کا کہنا ہے کہ کے الیکڑک کا انفراسٹرکچر آڈٹ اور کراچی کو کے الیکڑک جیسے منظم مافیا سے محفوظ کیا جاسکے۔ وزارت پانی و بجلی کا کراچی میں کے الیکٹرک کی مجرمانہ غفلت سے ہونے والی اموات پر بے حسی کے تکیہ میں منہ چھپانا قابل مذمت ہے۔ نیپرا نے ہمارے شور کرنے پر 6 ستمبر کی پریس ریلیز میں 35 میں سے 19 شہداء کا ذمہ دار کے الیکڑک کو بنایا مگر آج تک کے الیکڑک کے خلاف کوئی جامع کاروائی عمل میں نہیں آئی۔ جب کہ شہید ہونے والے 50 سے زائد ہیں امید ہے کہ جے آئی ٹی نیپرا سے دیگر اموات کی انکوئری بھی کروائے گی اور عدالت سب لواحقین کے زخموں پر مرہم رکھے گی۔ سندھ اسمبلی میں قرارداد پاس ہونے کے باوجود بھی کے الیکڑک کے کان پر جوں بھی نہیں رینگی۔ پارلیمنٹ کی یہ کمزوری مدینہ کی ریاست کے خواب کو اندھیروں میں لیجاتی نظر آتی ہے۔ سٹی کورٹ میں 120 دن گزارنے کے باوجود بھی ڈیفنس میں کے الیکٹرک کی مجرمانہ غفلت سے ہونے والے شہید حمزہ، طلحہ اور فیضان کا چالان نہیں جمع ہوا جو کہ سی سی پی او کراچی پر سوالیہ نشان ہے۔ جو المونیم کی ارتھنگ کراچی میں کے الیکٹرک کر رہا ہے وہ سب کا سب دھوکا ہے، کھمبوں کو اگر ابھی بھی تانبے سے ارتھنگ نہ کی گئی تو کیا پتہ اگلا شہید آپ یا میرے گھر سے ہوگا۔ افسوس ناک بات ہے کہ گذشتہ ہفتے لیاری میں ایک اور 28 سالہ نوجوان جس کی 2 سالہ بچیاں بھی ہیں وہ کے الیکڑک کے کھمبے کے کرنٹ سے شہید ہوا۔ کراچی میں جب تک کے الیکڑک رہے گا تب تک کراچی محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اگر ہمیں اپنے آنے والی نسلوں کو انسان دوست اور ایماندار معاشرہ دینا ہے تو کے الیکڑک جیسے منظم مافیا سے جان چھڑانا ہوگی۔
![]()