کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) سٹی حکومت کراچی کے سٹی وارڈنز کو مئی 2018 سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور جونیئرز سٹی وارڈرنز کو سیاسی بنیادوں پر مستقل ملازمت پر رکھنے کے خلاف اور تمام عارضی ملازمین کو مستقل ملازمت کی فراہمی کے لئے پاسبان کے وکیل خرم لاکھانی ایڈوکیٹ کے توسط سے سندھ ہائیکورٹ میں پاسبان کی دائر کردہ درخواست کی سماعت ہوئی۔ مقدمے کی سماعت جسٹس محمد شفیع صدیقی اور جسٹس ذوالفقار احمد خان پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔ سندھ ہائیکورٹ کے احکامات کے بعد پہلی بار کے ایم سی کی جانب سے وکیل عذرا مقیم نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان ملازمین کے معاہدے کی مدت میں دو سال کی توسیع کر دی گئی ہے۔ جس وقت ان ملازمین کو ہائر کیا گیا تھا اس وقت معاہدے میں بی پی ایس یعنی بیسک پے اسکیل کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا تھا اورنہ ہی مستقل بنیادوں پر رکھنے کی بات ہوئی تھی۔ اگر انہیں باقاعدہ یا مستقل ہونا ہے تو عمر میں نرمی کی حد کے لئے موجود سرٹیفکٹ پر کر کے جمع کروانا ہوگا۔ جس کے بعد انہیں مستقل کر دیا جائے گا۔ پاسبان کی درخواست میں سٹی وارڈنز ملازمین کا موقف ہے کہ ان کی اکثریت نے پہلے ہی یہ سرٹیفکیٹس پرکر کے جمع کرا دیئے ہیں لیکن چھ ماہ سے زائد کاعرصہ گذرنے کے باوجود انہیں نہ تو مستقل کیا گیا ہے اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی پیش رفت ہوئی ہے۔ اگر ایسا کچھ ہوتا تو پرانے لوگ اصولا مستقل ہو چکے ہوتے۔ واضح رہے کہ سٹی وارڈرنز کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور جونیئر سٹی وارڈنز کو مستقل کئے جانے کے خلاف پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور کی ہدایت پر سندھ ہائیکورٹ میں ایک مقدمہ دائر کیا گیا تھا جس میں متاثرہ سٹی وارڈرنز کی جانب سے موٗقف اختیار کیا گیا تھا کہ 15 فروری 2010 کو ہمیں سٹی وارڈن میں عارضی طور پر ملازمت دی گئی اور ہر سال ہماری ملازمت کی معیاد میں ایک سال تک کی توسیع کی جاتی رہی۔ ہم 2010 سے مستقل خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ عارضی ملازمت کو مستقل کرنے کا دلاسہ دے کر کراچی میونسپل کارپوریشن نے ہم سے ہماری خدمت کا سلسلہ جاری رکھنے کی ہدایت کی تھی مگر 14 مئی 2018 سے ہماری تنخواہیں بند کردی گئیں ہیں۔ سینئر سٹی وارڈنز کا مطالبہ ہے کہ ہماری تنخواہیں بحال کی جائیں اور ہمیں مستقل ملازمت فراہم کی جائے۔
![]()