کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) ترجمان سندھ حکومت اور مشیر قانون و ماحولیات بیرسٹر مرتضٰی وہاب نے گورنر سندھ کے ایک نجی ٹیلی ویژن پر بیان نشر کرنے پر ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ گورنر سندھ کو سرکاری دستاویزات کا مطالعہ کرنے میں کوئی دقت پیش آرہی ہے تو سندھ حکومت ان کو قانونی مشاورت فراہم کرنے پر تیار ہے کیونکہ سندھ حکومت ہی گورنر سندھ اور گورنر ہاؤس کے اخراجات برداشت کرتی ہے لیکن گورنر صاحب سندھ حکومت کے خلاف ہی ہرزہ سرائی کررہے ہیں، انہوں نے کہا کہ کل گورنر عمران اسماعیل نے انٹرویو میں میری زات پر غلط اور بے بنیاد الزم لگایا اس الزم کا حقیقت سے تعلق نہیں گورنر ایک عزت مآب عہدہ ہے اس عہدے پر فائز شخص کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیئے اور گورنر کے عہدے کو سیاسی نہ بنایا جائے، ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ حکومت سندھ نے رحم کی اپیل کی جو سمری گورنر سندھ کو ارسال کی اس میں سیکریٹری داخلہ، مشیر جیل خانہ جات، چیف سیکرٹری اور وزیراعلی سندھ کے دستخط ہیں اس سمری میں میرا نام کہیں نہیں ہے مگر گورنر سندھ کہتے ہیں کہ یہ سمری مجھے مرتضیٰ وہاب نے بھیجی ہے کیا انہوں نے سرکاری دستاویزات کا مطالعہ بھی کیا یا صرف بریکنگ نیوز بننے کے شوق میں اس طرح کے بیانات داغ رہے ہیں، بیرسٹر مرتضی وہاب نے گورنر سندھ کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے اس غیر ذمہ دارانہ بیان کو فی الفور واپس لینا چاہیئے اور اخلاقی اقدار کو مدنظر رکھتے ہوئے معافی بھی مانگنی چاہیے کیونکہ وہ ریاست مدینہ کے پیروکار ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر ان کا قول و فعل اس کی نفی کرتا ہے، انہوں نے کیا کہ منافقانہ رویوں کے پیروکار کون ہیں یہ ملک کا ہر باشندہ اچھی طرح جانتا ہے مگر حکومتی عہدوں پر براجمان اشخاص بچگانہ حرکتیں کر رہے ہیں۔
![]()