ملتان (بیورو رپورٹ) ملتان سیاسی و سماجی شخصیت راؤ محمد خالد نے اہم بیان مین کیا ہے کہ کسی بھی مُلک کی معیشت کی مضبوطی کا انحصار اُسکی ایکسپورٹ پر ہے۔ دنیا کی کامیاب معیشتوں کا جائزہ لینے کے بعد یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ انہوں نے اپنی معیشتوں کی ترقی ایکسپورٹس گروتھ سے حاصل کی جو اس وقت دنیا کا کامیاب ماڈل ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں 10 سرفہرست ایکسپورٹس ممالک میں پہلے نمبر پر چین ہے جس کی ایکسپورٹس 2000 ارب ڈالر ہے، دوسرے نمبر پر امریکہ 1450 ارب ڈالر، تیسرے نمبر پر جرمنی 1320 ارب ڈالر، چوتھے نمبر پر جاپان 635 ارب ڈالر، پانچویں نمبر پر جنوبی کوریا 512 ارب ڈالر، چھٹے نمبر پر فرانس 507 ارب ڈالر، ساتویں نمبر پر ہانگ کانگ 502 ارب ڈالر، آٹھویں نمبر پر نیدرلینڈ 495 ارب ڈالر، نویں نمبر پر اٹلی 454 ارب ڈالر اور دسویں نمبر پر برطانیہ 407 ارب ڈالر ہے۔ بھارت 268 ارب ڈالر ایکسپورٹس کے ساتھ 20 ویں نمبر پر آتا ہے انہوں نے کہا کہ 2018 میں پاکستان کی مجموعی ایکسپورٹس صرف 23.6 ارب ڈالر رہی اور جنوبی ایشیائی ممالک میں آبادی کے لحاظ سے فی کس 120 ڈالر بنتے ہیں انہوں نے کہا کہ خطے کے دیگر ممالک بالخصوص بنگلہ دیش کی ایکسپورٹس 42.2 ارب ڈالر ہے جو آبادی کے لحاظ سے 270 ڈالر فی کس بنتے ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کی ایکسپورٹس خطے کے دیگر ممالک کی طرح بڑھنے کے بجائے کم کیوں ہوئیں؟
![]()