چترال (رپورٹ: گل حماد فاروقی) صوبائی محکمہ پبلک ہیلتھ نے پہلی بار چترال میں کامیاب تجربہ کرکے سینگور کے مقام پر شمسی توانائی سے چلنے والی آب نوشی سکیم مکمل کروائی۔سینگور کے مقام پر ڈاکٹر کالونی کے قریب دس فٹ چوڑا اور ایک سو اسی فٹ گہرا کنواں کھودا گیا۔ اس منصوبے پر تقریباً ڈھائی کروڑ روپے لاگت آئی۔ جس سے میراندہ، سینگور، سین جال اور شاہ میراندہ کے مکینوں کو پینے کا صاف پانی فراہم کیا جائے گا۔ یہ منصوبہ اپنی نوعیت کا پہلا تجربہ ہے جو اتنی گہرائی سے شمسی توانائی سے چلنے والی موٹر کے زریعے پانی نکال کر 450 فٹ کی اونچائی پر ٹینکر میں ڈالا جاتا ہے جہاں سے ان چار دیہات کو پینے کا صاف پانی فراہم کیا جائے گا۔ ہمارے نمائندے سے باتیں کرتے ہوئے ایگزیکٹیو انجنیر محمد یعقوب نے کہا کہ اسے ایک چیلنج سمجھ کر ہم نے شروع کیا تھا اور تجرباتی بنیادوں پر اسے چلاکر کامیاب کریں گے اور اگر یہ پہلا منصوبہ کامیاب ہوا تو اس کے بعد چترال کے طول و عرض میں شمسی توانائی سے چلنے والے اس قسم کے اور منصوبے بھی شروع کروایں جائیں گے جس میں نہ تو بجلی خرچ ہوتی ہے نہ ڈیزل بلکہ ایک دفعہ سولر پینل لگا کر اس کے ذریعے بیٹری چارج ہوتی ہے اور اس سے طاقتور موٹر بھی چلتی ہے۔ اس منصوبے کے تکمیل پر سینگور اور مضافاتی علاقے کے لوگوں نے خوشی کا اظہار کیا کیونکہ اس کی کامیابی پر ان علاقوں میں پینے کی صاف پانی کا مسئلہ مستقل طور پر حل ہوگا۔ علاقے کے لوگوں نے صوبائی حکومت اور محکمہ پبلک ہیلتھ انجنئرنگ کا شکریہ ادا کیا ہے جنہوں نے عوام کا دیرینہ مسئلہ حل کیا۔
![]()