کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین الطاف شکور نے کہا ہے کہ سبز پاسپورٹ کی دنیا بھر میں عزت و وقار کی بحالی کا دعوی ہوا ہوگیا ہے۔ مہنگائی اور بے روزگاری سے تنگ آکر عوام ملک سے باہر فرار ہو رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے کہ حکمران خوشحالی کے بلند و بانگ دعوؤں میں مصروف ہیں جبکہ دوسری جانب عوام بھوک، افلاس اور بے روزگاری سے تنگ آکر انسانی اسمگلروں کے ہتھے چڑھ کر نہ صرف زندگی بھر کی جمع پونجی سے محروم ہو رہے ہیں بلکہ اپنی جان جوکھم میں ڈال کر معذور، گرفتار اور موت سے ہمکنار ہو رہے ہیں۔ وزیر اعظم پاکستان، وفاقی کابینہ اور انسانی اسمگلنگ روکنے پر مامور اداروں کے سربراہان اور اہلکاروں کے لئے فرانسیسی پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہونے والے 31 پاکستانیوں کا واقعہ لمحہ فکریہ ہے۔ ملک میں موجود قدرتی و معدنی وسائل اور زمینی راستوں کا مارکیٹ ریٹ پر معاوضہ کی پالیسی پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے۔ روزگار کے مواقع بڑھائے جائیں۔ سی پیک منصوبے کا فائدہ عام آدمی تک منتقل کیا جائے اور آئی ایم ایف سے جان چھڑا کر عام آدمی کو عزت کے ساتھ اپنے ملک میں دو وقت کی روٹی کمانے کے لئے ٹھوس معاشی منصوبہ بندی شروع کی جائے۔ خود کفالت کی منزل تک پہنچنے کے لئے پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے تجویز کردہ محب وطن معاشی ماہرین سے مدد لی جائے۔ پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں الطاف شکور نے کہا کہ گذشتہ اتوار کے دن اٹلی سے فرانس میں ٹرک کے ذریعے داخل ہونے والے 31 پاکستانی شہری فرانسیسی پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہوئے ہیں۔ اس سے قبل ہزاروں افراد بیرون ملک جانے کے لئے ہمارے ملک سے ایران اور ترکی تک پیدل یا ٹرانسپورٹ کے ذریعے اور اس سے آگے اٹلی تک خطرناک سمندری سفر کے ذریعے اموات کا شکار ہو چکے ہیں۔ ایجنٹ حضرات ملک سے باہر جانے کی کوشش کرنے والے ان لاکھوں افراد سے گذشتہ برسوں میں اربوں کھربوں روپے کی جمع پونجی ہتھیا کر انہیں ہمیشہ کیلئے مفلس، قلاش اور معذور کر چکے ہیں۔ پی ٹی آئی حکومت نے پاکستان کے سبز پاسپورٹ کی عزت و وقار کی بحالی کے دعوے کئے تھے لیکن دیگر وعدوں اور دعوؤں کی طرح یہ دعوی بھی ہوا ہو گیا اور عوام جوق در جوق ملک سے فرار ہونے کے لئے مجبور ہو گئے ہیں۔
![]()