تازہ ترین
Home / اہم خبریں / نیٹو ممالک اپنی امن فوج مقبوضہ کشمیر میں بھیجیں تاکہ وہاں کے 80 لاکھ مسلمانوں کو بھارتی جبر سے چھٹکارہ مل سکے۔ مولانا حامد الحق حقانی سربراہ جمعیت علماء اسلام (س)

نیٹو ممالک اپنی امن فوج مقبوضہ کشمیر میں بھیجیں تاکہ وہاں کے 80 لاکھ مسلمانوں کو بھارتی جبر سے چھٹکارہ مل سکے۔ مولانا حامد الحق حقانی سربراہ جمعیت علماء اسلام (س)

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) جمعیت علماء اسلام (س) کے سربراہ اور دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین مولانا حامد الحق حقانی نے کہا ہے کہ گزشتہ 80 دنوں سے کشمیری عوام انتہائی کسم پرسی کی زندگی گزار رہی ہے ، ان پر بھارتی افواج کی جانب سے، بربریت کے نتیجے میں شہادتیں، قائدین کی نظربندیاں، خواتین اور بچوں کو ادویات سے محروم کرنا اور مسلسل کرفیوں کے نفاذ سے ہندوستان کے سیکولیزم کا پردہ پوری طرح دنیا کے سامنے بے نقاب ہوچکا ہے، ہندوستانی افواج کے مظالم نے چنگیز خان اور ہٹلر کے مظالم کو بھی مات دے دی، دنیا کے طاقتور ممالک کمزور اسلامی ممالک پر اپنی فوج بھیج کر قبضہ جمالیتے ہیں، آج امریکہ اقوام متحدہ اور نیٹو کو بھارتی مظالم نظر آنے کے باوجود ان کا کردار شرمناک ہیں، اقوام متحدہ خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے، نیٹو ممالک اپنی امن فوج مقبوضہ کشمیر میں بھیجیں تاکہ وہاں کے 80 لاکھ مسلمانوں کو بھارتی جبر سے چھٹکارہ مل سکے، کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے اور سلامتی کونسل اپنا کردار ادا کرے، مسئلہ کشمیر کا حل جہاد ہی کے بدولت ممکن ہے، ان خیالات کا اظہار جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا حامد الحق حقانی نے کراچی پریس کلب کے میٹ دی پریس سے خطاب کرتے ہوئے کہا انہوں نے کہا کہ عالمی استعمار مسلمانوں کو کمزور کرنے کیلئے ان کو مسالک اور زبان کی بنیادوں پر لڑانے کی کوشش کر رہے ہیں، عرب ممالک میں شیعہ سنی سعودی عرب، ایران، یمن اور شام کو امریکہ اور اسکے اتحادی ان ممالک کو لڑانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، سعودی عرب مسلمانوں کا مرکز ہے، مدارس کے خلاف نت نئی سازشیں ہو رہی ہیں لیکن پاکستان کے غیور عوام ان کا ڈٹ کر مقابلہ کررہے ہیںِ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت آنے کے بعد پاکستان کی معیشت دن بدن کمزور ہو رہی ہے، غریب آدمی کا زندگی گزارنا مشکل ہوگیا ہے، ہر مکتبہ فکر کے افراد حکومت کی پالیسی سے نالاں ہیں کپتان کی کمزور ٹیم کی وجہ سے اکثر وزراء کے محکمے تنزلی کا شکار ہیں، دھرنے کے اعلان کے بعد سے ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا ہوگیا ہے دھرنے کو روکنے کیلئے حکومت طاقت کے استعمال سے گریز کرے اور افہام و تفہیم کے ذریعہ پاکستان کی تمام سیاسی مذہبی جماعتوں کے مشورے کے ذریعہ اس مسئلہ کا حل نکالے، احتجاج کرنا ہر سیاسی مذہبی جماعت کا حق ہے، طاقت کے استعمال سے ملک میں مزید افراتفری پھیلے گی، جمعیت علماء اسلام نے تمام صورتِ حال پر غور حوض کے لئے 26 اکتوبر کو مرکزی شوریٰ کا اجلاس طلب کیا ہے، اس موقع پر کے پی کے کے امیر مولانا سید یوسف شاہ، مولانا اقبال اللہ، حافظ احمد علی، حضرت ولی ہزاروی، مفتی حماد مدنی، مفتی عابد، حافظ عبدالوہاب انقلابی، احسان اللہ بھی موجود تھے۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

وفاقی اردو یونیورسٹی میں مبینہ لاقانونیت کے خلاف اساتذہ کا کراچی پریس کلب پر احتجاج، آصف زرداری سے نوٹس لینے کا مطالبہ

کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین) وفاقی اردو یونیورسٹی کے عبدالحق کیمپس کی انجمن اساتذہ کے زیر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے