کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) کراچی میں بدامنی نے ایک بار سر اٹھانا شروع کردیا۔ ٹارگٹ کلنگ اغوا برائے تعاون، ڈکیتی اور بھتہ خوری کی واردتوں، اسٹریٹ کرائم، گاڑیوں کے چھینے اور چوری کی وارداتوں میں اضافہ ہوگیا تاجروں اور صنعتکاروں میں خوف ہراس پیدا ہوگیا۔ آل سٹی تاجر اتحاد ایسوسی ایشن نے امن وامان کی صورتحا ل کو تشویشناک قرا ر دیا اس حوالے سے سی پی ایل سی نے ستمبر 2019 میں ہونے والے جرائم کے اعداد و شمار جاری کردئیے کراچی میں 26 گاڑیاں اسلحے کے زور پر چھینی گئیں اور 163 چوری ہوئیں، 147 موٹر سائیکلیں اسلحے کے زور پر چھینی گئیں اور 2806 چوری ہوگئیں، 1735 موبائل فونز اسلحے کے زور پر ڈاکوؤں نے چھینے اور 2542 موبائل فونز چوری ہونے کے واقعات رپورٹ ہوئے، شہریوں کے 200 موبائل فونز برآمد بھی کرلئے گئے، اغواء برائے تاوان کا ایک واقعہ رونماء ہوا، بھتہ خوری کے تین واقعات رپورٹ ہوئے 18 افراد فائرنگ اور پرتشدد واقعات میں جان بحق ہوئے، آل سٹی تاجر اتحاد ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری محمد احمد شمسی کا کہنا ہے کہ شہر میں جرائم میں اضافے سے تاجر عدم تحفظ کا شکار ہیں اسٹریٹ کرائم، بھتہ خوری، گاڑیوں کے چھینے اور چوری کے واقعات بڑھ گئے امن و امان کی صورتحال دن بہ خراب ہورہی ہے اس حوالے میں سی پی ایل سی کے اعداد و شمار تشویشناک ہیں اور پولیس کا کردار سوالیہ بن گیا، مارکیٹوں میں تاجر عدم تحفط کا شکار ہیں رینجرز امن و امان کے حوالے سے بہتر خدمات انجام دے رہے ہیں، شہری اور تاجروں کو رینجرز پر مکمل بھروسہ ہے انہوں نے اپیل کہ حکومت سندھ اور رینجرز امن و امان کی صورت حال کو بہتر بنائے انہوں نے کہا کہ کراچی سے 70 فی صد ریونیو اکٹھا ہوتا ہے تاجر اور صنعتکار بھاری ٹیکس دینے کے باوجود امن و امان کی خراب صورتحال سے پریشان ہیں کارروبار ٹھپ ہوچکا ہے، آل سٹی تاجر اتحاد ایسوسی ایشن کے رہنما محمد سعید نے بتایا کہ امن و امان کی خراب صورتحال سے شہری پریشان ہیں خریدار خوف کے مارے مارکیٹوں میں نہیں آرہے، مارکیٹوں میں سناٹے چھاگئے ہمارا کاروبار ٹھپ ہوچکا ہے، آل سٹی تاجر اتحاد ایسوسی کے رہنما چوہدری ایوب نے کہا کہ شہر کا ایک بار پھر امن تباہ کیا جارہا ہے اسٹریٹ کرائم، بھتہ خوری، اغواء برائے تعاون، گاڑیوں کے چھینے اور چوری کی وارداتوں میں تیزی سے اضافہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کیلئے سوالیہ بن گیا ہے، تاجر رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اکراچی میں اسٹریٹ کراٸمز کا جن بے قابو، کراچی ایک عرصے سے جراٸم پیشہ افراد کی جنت بنا ہوا تھا چوری، ڈکیتی، ٹارگٹ کلنگ، اغو١ براۓ تاوان، بھتہ خوری، ہڑتالیں اور دہشت گردی اس شہر کی پہچان بن چکی تھی۔ کراچی کے بہت سے علاقے نو گو ایریا بن چکے تھے جہاں عوام تو درکنار قانون نافذ کرنے ولے ادارے بھی جانے سے کتراتے تھے اس کی بڑی وجہ پولیس میں سیاسی مداخلت اور سیاسی جماعتوں کی جراٸم کی پشت پناہی بھی تھی۔ دن دہاڑے بھتے کی وصولی کے لئے مصروف مارکیٹوں سے تاجروں کو اغوا کرلیا جاتا تھا بھتہ نہ دینے کی پاداش میں کٸ تاجروں کو جان سے ہاتھ دھونے پڑے تاجروں پر فاٸرنگ اور دستی بم مارنے کے بے شمار واقعات ہوۓ غرض وہ دور تاجروں کے لئے ایک بھیانک خواب کی مانند ہے۔ایک ایک دن میں درجنوں بے گناہ لوگ مارے گئے۔ اس کے بعد رینجرز کو اس بد امنی سے نمٹنے کے لئے خصوصی اختیار دیے گئے، پولیس میں بھی کچھ اصلاحات کی گٸیں اور کراچی میں امن و امان کے قیام کے لئے اکتوبر 2013 میں ایک موثر آپریشن کیا گیا جسمیں کچھ دہشت گرد مارے گئے کچھ روپوش ہوگئے، عوام اور تاجروں نے سکون کا سانس لیا اور شہر میں کاروباری سرگرمیاں بحال ہونا شروع ہوٕٸیں۔ اب پھر چند مہینوں سے ان جراٸم پیشہ افراد اور دہشت گردوں نے سر اٹھایا ہے اور شہر میں خاص طور پر اسٹریٹ کراٸم کا جن بے قابو ہوتا نظر آرہا ہے جس میں اسٹریٹ کرمنل دن دھاڑے سرعام بغیر کسی خوف کے لوٹ مار کرتے نظر آرہے ہیں بلکہ مزاہمت کے شبے میں لوگوں کی جان لینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ عوام اور تاجر روزانہ لاکھوں روپے، سینکڑوں موباٸل فون، قیمتی اشیإ اور اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں وارداتوں کے مقابلے میں مجرم پکڑے جانے کا تناسب بہت کم ہے پولیس نے اسٹریٹ کراٸم کے لئے خصوصی فورس بنانےکا دعوہ کیا لیکن بے نتیجہ اب تو آئی جی سندھ کی فیملی بھی ڈاکوؤں کے ہاتھ لٹ جاتی ہے امن و امان قاٸم کرنےکے دعووں کی قلعی سی پی ایل سی کی اس ماہ ستمبر کی رپورٹ نے کھول دی ہے جس کے مطابق 26 گاڑیاں اسلحہ کے زور پر چھینی گٸیں 163 چوری ہوٸیں۔ 147 موٹر ساٸیکلیں چھینی گٸیں اور 2806 چوری ہوٸیں۔ 1735 موباٸل فون چھینے گئے اور 2542 چوری ہوۓ جبکہ صرف 200 برآمد کیے گئے۔ اغوا براۓ تاوان کا ایک واقع ہوا بھتہ خوری کے تین جبکہ 18 افراد فاٸرنگ و پرتشدد واقعات میں جاں بحق ہوۓ۔
![]()