تازہ ترین
Home / اہم خبریں / وزیر اعظم، گورنر سندھ اور دو وفاقی وزراء کو گھوٹکی میں الیکشن کمیشن کے کوڈ آف کنڈیکٹ کی خلاف ورزی پر نوٹس کی بجائے انہیں وہاں الیکشن تک معطل کیا جائے۔ وزیر بلدیات سندھ سعید غنی

وزیر اعظم، گورنر سندھ اور دو وفاقی وزراء کو گھوٹکی میں الیکشن کمیشن کے کوڈ آف کنڈیکٹ کی خلاف ورزی پر نوٹس کی بجائے انہیں وہاں الیکشن تک معطل کیا جائے۔ وزیر بلدیات سندھ سعید غنی

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ وزیر اعظم، گورنر سندھ اور دو وفاقی وزراء کو گھوٹکی میں الیکشن کمیشن کے کوڈ آف کنڈیکٹ کی خلاف ورزی پر نوٹس کی بجائے انہیں وہاں الیکشن تک معطل کیا جائے۔ نیب اور اس کا چیئرمین اس وقت حکومت کے ہاتھوں یرغمال ہیں اور ان سے کوئی بعید نہیں کہ وہ کسی کو بھی اور کبھی بھی گرفتار کرسکتی ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ ہی رہیں گے اور ان پر پارٹی کے تمام ارکان کا مکمل اعتماد ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز سندھ اسمبلی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ صحافیوں کے سوالات کے جواب میں وزیر بلدیات سندھ نے کہا کہ میڈیا میں آج اس بات کو واضح کیا گیا ہے کہ گذشتہ روز وزیر اعظم نے گورنر سندھ اور دیگر دو وفاقی وزراء اور کچھ ایسے ارکان کے ساتھ گھوٹکی میں تعزیت کے نام نہ صرف وہاں الیکشن لڑنے والے امیدوار سے ملاقات کی ہے بلکہ اس امیدوار نے وزیر اعظم سے کچھ مطالبات کئے تو اس پر انہوں نے انہیں گورنر سندھ سے رابطے میں رہنے کی بھی ہدایات دی ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ یہ اچھی بات ہے کہ اس بات کی شکایت پر عمران خان کو نوٹسدیا ہے لیکن نوٹس پر کچھ نہیں ہونا ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ الیکشن کمیشن اس خلاف ورزی پر وزیر اعظم، گورنر سندھ اور ان دو وفاقی وزراء جو ان کے ساتھ ہیں ان کی رکنیت اس وقت تک معطل کرے جب تک وہاں الیکشن مکمل نہیں ہوجاتے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم اور دیگر وہاں الیکشن پر اثر انداز ہونے گئے تھے اور ہم صرف نوٹس پر اظمینان نہیں کرسکتے۔ ایک اور سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ گھوٹکی میں ملاقات کے دوران پارٹی کے ارکان کی وہاں موجودگی کو ڈسپلن کی خلاف ورزی ہم اس لئے تصور نہیں کرتے کہ وہ اس فیملی کے ممبران میں سے بھی ہیں۔ قومی اسمبلی میں سابق صدر اور پارٹی کے شریک چیئرمین اور سعد رفیق کے پروڈیکشن آرڈرجاری ہونے اور دیگر دو ارکان کے نہ ہونے اور اسمبلی کی کارروائی پرسکون ہونے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ پروڈیکشن آرڈر آئینی طور پر ہر اس رکن کا حق ہے، جو منتخب ہوکر آیا ہے اور جن دو ارکان کے آرڈر جاری نہیں کئے گئے ہیں یہ آئین کی مکمل خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں 3 روز کے بعد بجٹ پر کارروائی کا آغاز ہونا خوش آئند ہے اور ایوان میں کارروائی چلنی چاہیے۔ وزیر اعلیٰ سندھ کی گرفتاری کی خبروں کے حوالے سے سوال کے جواب میں وزیر بلدیات سندھ نے کہا کہ عمران نیازی اینڈ کمپنی جس کو چاہے گرفتار کروا سکتی ہے، کیونکہ نیب اور اس کا چیئرمین اس وقت ان کے ہاتھوں یرغمال ہے اور وہ جسے چاہیں گرفتار کروا دیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ ہی ہیں اور رہیں گے اور ان پر تمام ارکان اسمبلی کا مکمل اعتماد ہے۔ان کی گرفتاری کی صورت میں پارٹی کے لائحہ عمل کے سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہوا تو ہم آئین اور قانون کے تحت تمام راستہ اختیار کریں گے تاہم ابھی یہ صرف خبریں ہی ہیں۔

 

About admin

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے