Home / اسلام آباد / ملک میں 67 لاکھ منشیات عادی، 47 لاکھ منشیات کے بغیر نہیں رہ سکتے، سینیٹ قائمہ کمیٹی انسداد منشیات میں انکشاف

ملک میں 67 لاکھ منشیات عادی، 47 لاکھ منشیات کے بغیر نہیں رہ سکتے، سینیٹ قائمہ کمیٹی انسداد منشیات میں انکشاف

اسلام آباد (رپورٹ: محمد جواد بھوجیہ) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسداد منشیات میں انکشاف ہوا ہے کہ ملک میں 67 لاکھ لوگ منشیات استعمال کرتے ہیں جن میں سے 47 لاکھ منشیات کے بغیر نہیں رہ سکتے، ملک میں منشیات استعمال کرنے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، 30 سال سے کم 17 فیصد نوجوان منشیات کے عادی ہیں۔ کمیٹی نے ایچ ای سی کی جامعات میں منشیات کے استعمال کے حوالے سے رپورٹ مسترد کرتے ہوئے تین رکنی سب کمیٹی بنادی جو جامعات کا دورہ اورطلبہ سے ملاقاتیں کرے گی، وزارت انسداد منشیات کے سیکرٹری نے کمیٹی کو بتایا کہ سب سے زیادہ منشیات کے استعمال کے حوالے سے شکایات لمز یونیورسٹی لاہورسے آرہی ہیں مگر یونیورسٹی کی انتظامیہ بار بار کہنے کے باوجود یونیورسٹی میں انسداد منشیات کے حوالے سے سیمینار کی اجازت نہیں دی رہی ہے۔ کمیٹی نے ایچ ای سی حکام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جامعات میں منشیات کا استعمال ناسور ہے میڈیا میں خبر نہ آنے سے حقیقت نہیں بدل سکتی ہے، ایچ ای سی نے صحیح کام کیا ہوتا تو صرف 0.03 فیصد جعلی ڈگریاں نہ پکڑی جاتیں جعلی ڈگری والوں کو نوکریوں پر کوئی حق نہیں ہے۔ منگل کو سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے منشیات کنٹرول کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر سردار محمد شفیق ترین کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں 25 فروری 2019 کو ہونے والے کمیٹی اجلاس میں دی گئی سفارشات پر عمل درآمد، اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں طالبعلمو ں کو منشیات کے استعمال سے روکنے کیلئے فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات، ہائر ایجوکیشن کمیشن کی طرف سے یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کو اداروں میں منشیات کے استعمال کو روکنے کے حوالے سے جاری کی گئی ہدایات کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ سفارشات پر عملدآمد کے حوالے سے سیکرٹری منشیات کنٹرول عارف نواز نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ پسنی میں اے این ایف کا پولیس اسٹیشن قائم کرنے کے حوالے سے 25 فیصد اور سست میں 15 فیصد عملی کام ہو چکا ہے۔ ہیلی کاپٹروں کی مرمت کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ ہیلی کاپٹرز کی مرمت کیلئے سپلیمنٹری گرانٹ کی ضرورت ہے اس کے لئے تین سالوں سے درخواست کر رہے ہیں مگر فنڈ نہیں ملے مرمت کیلئے تقریبا 48 لاکھ ڈالر درکار ہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ گوادر میں آر ڈی کوسٹل قائم کرنے کیلئے چار ایکٹر زمین درکار ہے اس کا پی سی ون بن چکا ہے۔ خالی آسامیوں کو پر کرنے کے حوالے سے بتایا گیا کے پروسیس جاری ہے۔ افرادی قوت کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ ادارے کے پاس کل 29 سو انفرادی قوت ہے مگر چاروں صوبوں اور وفاق سمیت دیگر علاقوں کے لئے کم از کم 10ہزار انفرادی قوت کی ضرورت ہے گزشتہ حکومت نے اسکی منظوری دی تھی مگر وزارت خزانہ کی عدم دلچسپی کی وجہ سے اس میں پیش رفت نہیں ہو سکی جس پر قائمہ کمیٹی نے اس حوالے سے کی گئی خط و کتابت، منظوری اور سیکرٹری خزانہ کو آئندہ اجلاس میں طلب کر لیا۔ منشیات کے عادی افراد کے لئے ضلعی ہیڈ کواٹرز میں دس بیڈ مخصوص کرنے کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ وزارت صحت کو خط لکھ دیا گیا جوا ب کا انتظار ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ چمن، دکی، لورالائی، قلعہ سیف اللہ اور ژوب میں انسداد نارکوٹکس فورس کے لئے پولیس اسٹیشن قائم کرنے کیلئے کام جاری ہے۔ قائمہ کمیٹی کو انسداد منشیات کے لئے بنائی گئی پالیسی بارے تفصیلی آگاہ کیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ پہلی دفعہ پالیسی کی منظوری کیبنٹ سے حاصل کی گئی ہے یہ ایک جامع پالیسی ہے جسے 35 وزارتوں، چاروں صوبوں اور متعلقہ ادروں کی مشاورت سے مرتب کیا گیا ہے۔ باڈر کنٹرول کو زیادہ سے زیادہ موثر بنایا گیا ہے منشیات کی فروخت اور استعمال کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ لوگوں میں منشیات کے خلاف زیادہ سے زیادہ شعور اجاگر کرنے کیلئے سوشل، پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کا بھرپور استعمال کیا جائے گا۔بچوں اور خواتین کا خصوصی خیال رکھا جائے گا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایسی منشیات جن کا اثر ذہین پر زیادہ ہوتا ہے اس کا استعمال بڑھ گیا ہے اس کے مطابق پالیسی میں اقدامات اٹھائے گئے ہیں کمیٹی اجلاس میں انکشاف کیا گیا کہ ملک میں 67 لاکھ لوگ منشیات استعمال کرتے ہیں جن میں سے 47 لاکھ منشیات کے بغیر نہیں رہ سکتے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 15 سے 19 سال کہ منشیات کے عادی 2 فیصد، 20 سے 24 سال کے چھ فیصد، 25 سے 29 سال کے 9 فیصد 30 سے 34 سال کے 11 فیصد اور 35 سے 40 سال کے 11فیصد افراد نشے کے عادی ہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ جب تک وسائل اور انفرادی قوت میں اضافہ نہیں کیا جائے گا منشیات کو کنٹرول کرنا ممکن نہیں ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ منشیات کی سپلائی روکنے کیلئے 34 ممالک سے معاہدے کئے ہیں اور 8 ممالک کے ساتھ معاہدوں کا عمل جاری ہے۔ملک میں منشیات کی سپلائی کو روکنے کیلئے متعلقہ اداروں کا تعاون ناگزیر ہے اور ملک میں فرانز ک لیبارٹریاں مزید قائم کرنا ہونگی۔ منشیات اسمگلنگ کرنے والوں کے خلاف سزاؤں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ منشیات کے مضر صحت اثرات بارے مضامین نصاب میں شامل کرد یئے گئے ہیں اور جیلوں میں قیدیوں کے ٹیسٹ کرانے اور منشیات کنٹرول کے لئے ایک پروگرام فنڈ کی کمی کی وجہ سے مکمل نہیں ہو سکا جس پر رکن کمیٹی لیفٹینٹ جنرل (ر) سینٹر عبدالقیوم نے کہا کہ پہلے تعین کیا جائے کہ منشیات کا کہاں سے خطرہ ہے، کتنی فورس اور وسائل درکار ہے، صوبوں اور وفاق میں کیا نیٹ ورک استعمال ہوگا اور پارلیمنٹ بہتری کیلئے کیا اقدامات کرسکتا ہے، تجاویز تیار کر کے کمیٹی کو فراہم کی جائے۔ چیئرمین و اراکین کمیٹی نے کہا کہ پالیسیاں بن جاتی ہیں مگر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے بہتری نظر نہیں آتی۔ قائمہ کمیٹی نے ہدایت کی کہ جو پالیسی اختیار کی جائے اس پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے حکام نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ 15یونیورسٹوں سے معلومات حاصل کی ہیں ادارے کو منشیات اور سموک فری بنانے کیلئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں اس حوالے سے شعور اگاہی مہم، سیمینار اور کانفرنسز کا انعقاد کیا گیا ہے۔ قائداعظم اور نسٹ یونیورسٹیوں میں منشیات استعمال کرنے والے کے خلاف ایکشن لیے گئے ہیں جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ جو تفصیلات فراہم کی گئی ہیں وہ درست نہیں ہیں تعلیمی اداروں میں منشیات کا استعمال بہت بڑھ گیا ہے بہتر یہی ہے کہ ایک ذیلی کمیٹی تشکیل دی جائے کہ جو یوتھ کے مسائل اور حل کے لئے نہ صرف دورے کرے بلکہ متعلقہ تعلیمی اداروں اور انتظامیہ سے مشاورت کرے۔ سینیٹر عبدلقیوم کی سربراہی میں ذیلی کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں سینیٹرز سکندر میندرو اور سلیم ضیا کو ممبران بنایا گیا۔ کمیٹی نے ایچ ای سی حکام پر برہمی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ جامعات میں منشیات کا استعمال ناسور ہے میڈیا میں خبر نہ آنے سے حقیقت نہیں بدل سکتی ہے، ایچ ای سی نے صحیح کام کیا ہوتا تو صرف 0.03 فیصد جعلی ڈگریاں نہ پکڑی جاتیں جعلی ڈگری والوں کو نوکریوں پر کوئی حق نہیں ہے۔ ایچ ای سی کے حکام نے موقف اختیار کیا تھاکہ جعلی ڈگریوں پر میڈیا میں خبروں کے بعد پاکستانیوں کو بیرون ملک مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا اس لیے منشیات کے حوالے سے اگر خبریں میڈیا میں آئیںگی تو جامعات میں طلبہ داخل نہیں ہوںگے ای ای سی نے اب تک صرف 0.03 فیصد جعلی ڈگریاں پکڑی ہیں جبکہ بھارت میں مسئلہ اس سے سنگین ہے مگر انہوں نے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ سینیٹرعبدالقیوم نے کہا کہ ڈرگ ٹیسٹ لینا ضروری ہے اس کا رزلٹ بچے، ادارے اور صرف والدین کو دیکھنے کی اجازت ہونی چاہیے تاکہ اس کا حل کیا جاسکے۔ آنکھیں بند کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ وزارت انسداد منشیات کے سیکرٹری عارف نواز نے کمیٹی میں انکشاف کیا کہ سب سے زیادہ منشیات کے استعمال کے حوالے سے شکایات لمز یونیورسٹی لاہورسے آرہی ہیں مگر یونیورسٹی کی انتظامیہ بار بار کہنے کے باوجود یونیورسٹی میں انسداد منشیات کے حوالے سے سیمینار تک کی اجازت نہیں دی رہی ہے۔ ڈائریکٹر سکول اسلام آباد نے قائمہ کمیٹی کو بتایا اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں منشیات کے تدراک کیلئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں 422 تعلیمی اداروں کے ہیڈز کو تربیت دی ہے جو اپنے ٹیچنگ اسٹاف کو تربیت دے کر کام کررہے ہیں بسوں اور اسکولوں میں منشیات کے مضر اثرات بارے بینرز بھی لگائے ہیں نصاب میں بھی تبدیلی کی ہے۔ آئی جی اسلام آباد پولیس کی کمیٹی اجلاس میں عدم شرکت کی وجہ سے قائمہ کمیٹی نے ان کے حوالے سے ایجنڈے کو آئندہ اجلاس تک موخر کر دیا۔ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرز سلیم ضیا، لیفٹینٹ جنرل (ر)عبدالقیوم، کامران مائیکل، انور لال دین، ڈاکٹر سکندر میندرو، بریگیڈیئر (ر) جان کنتھ ویلمز اور حاجی مومن خان آفریدی کے علاوہ سیکرٹری نارکوٹکس کنڑول عارف نواز، جوائنٹ سیکرٹری وزارت نارکوٹکس کنڑول، ڈائریکٹر ہیڈ کوارٹر اے این ایف بریگیڈیئر صغیر کامران، ممبر ایچ ای سی، ڈی جی ایچ ای سی اور ڈی ایجوکیشن اسلام آباد کے علاوہ دیگر اعلی حکام نے شرکت کی۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

ایچ بی ایل پی ایس ایل 11: 26 میچز کے بعد پوائنٹس ٹیبل نہایت دلچسپ مرحلے میں داخل

کراچی، (رپورٹ، ذیشان حسین/اسپورٹس رپورٹر) ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ 11 کے 26 میچز …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے