اسلام آباد (بیورو رپورٹ) حکومت پاکستان نے بھارتی جارحیت کا جواب دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جگہ اور وقت کا تعین خود کریں گے جبکہ اس حوالے سے بھارت کا جھوٹا پراپیگنڈہ بے نقاب کرنے کیلئے قومی اور بین الاقوامی میڈیا کو فوری طور پر موقع پر لے جانے، پارلیمانی قیادت کو اعتماد میں لینے کیلئے تین رکنی کمیٹی کے قیام اور بین الاقوامی قیادت کو اعتماد میں لینے کیلئے رابطے کرنے کافیصلہ کیا گیا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا پاک فوج کی بروقت کارروائی سے بھارتی طیاروں کو بھاگنا پڑا، اگر ہمارے طیارے لیٹ ہوتے تو وہ بھاگتے ہی کیوں؟ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ حکومت پاکستان نے نیشنل کمانڈ اتھارٹی کا اجلاس کل طلب کر لیا ہے اور فیصلہ کیا گیا ہے کہ کہ چونکہ ہم ایک جمہوریت ہیں اور جمہوریت میں پارلیمان کی اہمیت بھی ہے اور اس کا احترام بھی لازم ہے، چنانچہ پارلیمینٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے گا۔ اس کے علاوہ وزیر دفاع، وزیر خارجہ اور وزیر خارجہ پر مشتمل کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو پارلیمانی قیادت سے رجوع کرے گی تاکہ پاکستان کی سیاسی قیادت کو اس صورتحال پر اعتماد میں لیا جائے اور ان سے بھی مشاورت کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی اور انٹرنیشنل میڈیا کو موقع پر لے جانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس وقت ہیلی کاپٹرز تیار ہیں، موسم اگر اجازت دیتا ہے تو ان کے ذریعے انہیں فوری طور پر موقع پر لے جایا جائے گا تاکہ وہ خود دیکھیں اور ہندوستان کا پراپیگنڈہ بے نقاب کریں کیونکہ اب تو اندرونی آوازیں بھی آنا شروع ہو گئی ہیں اور محبوبہ مفتی کا بیان آپ کے سامنے ہے کہ یہ جو کہانی پیش کی جا رہی ہے وہ حقائق کے برعکس ہے۔ اس کے علاوہ انٹرنیشنل لیڈرشپ کے ساتھ رابطے کئے جانے کا فیصلہ کیا ہے اور وزیراعظم و دفتر خارجہ روابطہ کر کے انہیں صورتحال سے آگاہ کریں گے۔ اس پریس کانفرنس سے پہلے ابھی میری ترکی کے وزیر خارجہ سے تفصیلی گفتگو ہوئی ہے جنہیں ساری صورتحال سے آگاہ کیا ہے، آج پاکستان کی درخواست پر جدہ میں ایک ہنگامی اجلاس او آئی سی کشمیر کانفرنس گروپ کا اس وقت جاری ہے، اور اس میں ہماری سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نمائندگی کر رہی ہیں جو پاکستان کا نقطہ نظر وہاں بیان کریں گی۔انہوں نے کہا کہ میری کل شام سات بجے متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزیر خارجہ سے تفصیلی گفتگو ہوئی ۔ یکم اور دو مارچ کو کونسل فار منسٹرز کے ابوظہبی کے شیڈول اجلاس میں شرکت کیلئے بھارت کی وزیر خارجہ کی شرکت کیلئے رجوع کیا تھا، میں نے اس کے بارے میں نے اپنا اور پاکستان کا نقطہ نظر ان کی خدمت میں پیش کیا اور تشویش کا اظہار کیا کہ اس اجلاس کے انعقاد پر پاکستان سے مشاورت نہیں کی گئی، میں یہ بھی بتاتا چلوں کہ بھارت کے اعلان پر پہلے میڈیا نے اور پھر ان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس کی تصدیق کر دی جس کے بعد یو اے ای کے ایشیاءکے انچارج نے ہمارے نمائندے سے رابطہ کیا۔ بھارتی وزیر خارجہ سشما سووراج کو افتتاحی سیشن میں خطاب کرنے کیلئے مدعو کیا گیا ہے جس حوالے سے ایک روز پہلے جب میری ان سے بات ہوئی تو انہوں نے اس کا تذکرہ نہیں کیا تھا جس کے بعد میں نے یو اے ای میں اپنے سفیر سے رابطہ کیا تو ان سے بھی کوئی رابطہ نہیں ہوا تھا۔ میں یو اے ای قیادت کی کسی بات پر شبہ نہیں کروں گا کیونکہ پاکستان سے محبت اور تعلق گہرا ہے اور ہمارا باہمی احترام کا رشتہ ہے لیکن میں صرف عرض کرنا چاہتا ہوں کہ انہیں تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان کا نقطہ نظر پیش کیا۔ اس کیساتھ ساتھ وزیراعظم پاکستان نے یو اے ای کے ولی عہد محمد بن زاہد اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے بھی ٹیلی فونک گفتگو کی اور او آئی سی کے اجلاس سے متعلق اپنا نقطہ نظر پیش کیا اور پاکستان کے جذبات اور تاثرات سے آگاہ کیا۔ میری سعودی وزیر خارجہ ڈاکٹر عادل الجبیر سے بھی بات ہوئی اور پاکستان کا نقطہ نظر اور تشویش ان کی خدمت میں پیش کیا لیکن آج صورتحال قدرے بدل چکی ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کل میں تاریخ کی بات کر رہا تھا اور کل میرا ذکر یہ تھا کہ او آئی سی کے نان ممبر کو بلا مشاورت اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ او آئی سی کا پہلا اجلاس 1969ء میں ہوا تھا، اس کا اور پھر 1984ء اور 2004 کے حوالے دئیے جس پر انہوں نے کہا کہ وہ مزید مشاورت کر کے رابطہ کریں گے، میں ابھی ان سے دوبارہ رابطہ کروں گا کیونکہ آج صورتحال یکسر تبدیل ہو چکی ہے، آج ایک او آئی سی کے بانی ممبر کیخلاف ناصرف جارحیت کی گئی ہے بلکہ ہندوستان کے مسلمانوں پر جو اس وقت کیفیت ہے اور کشمیر کے مسلمانوں کو جس طرح نشانہ بنایا جا رہا ہے، وہ بھی سب کے سامنے ہے، واقعہ پلوامہ میں ہوتا ہے لیکن ردعمل ہندوستان کی 10 ریاستوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔
اس واقعے کے بعد سکالرشپ پر تعلیم حاصل کرنے کیلئے بھارت جانے والے کشمیری نوجوانوں کو دھکیلا جاتا ہے اور حملے کئے جاتے ہیں جس پر انہیں کمروں میں چھپ کر جان بچانی پڑتی ہے، نئی دہلی میں نوجوانوں پر حملے کئے جاتے ہیں اور انہیں زدوکوب کیا جاتا ہے، مسلمان صحافی پر حملہ کیا جاتا ہے، اس کو پیٹا جاتا ہے جس کا پلوامہ سے کوئی تعلق نہیں جڑتا لیکن اس کا قصور یہ ہے کہ وہ کلمہ گو اور کشمیری ہے، اس کیفیت میں وہ ادارہ جو مسلمانوں کی آواز ہے، کس طرح جارحیت کرنے اور مسلمان پر ظلم کرنے والے ملک کو شرکت کی دعوت دے سکتا ہے؟ ایسے ملک کو جس نے کشمیر پر مسلسل آنے والی قراردادوں کو ردی کی ٹوکری میں پھینکا، آج جو کیفیت ہے، اس میں اس کی کوئی گنجائش نہیں رہتی اور میں ان سے درخواست کروں گا کہ اس نئی صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے وہ اس معاملے پر نظرثانی کریں۔ ان حالات میں نے پچھلے چند روز میں بہت سے وزرائے خارجہ کے ساتھ رابطے کئے جس کا مقصد انہیں آگاہ کرنا اور یہ بتانا تھا کہ میں ہندوستان کے عزائم کیا دیکھ رہا ہوں اور پڑھ رہا ہوں، بھارت الیکشن کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی نہ کوئی مس ایڈونچر کرنے کی ضرورت محسوس کر رہا ہے کیونکہ پانچ ریاستوں میں جو انتخابی نتائج آئے اور جس انداز میں بی جے پی کو مسترد کیا گیا، اس سے ظاہر ہوا کہ انہیں اپنی سیاسی بقاءکیلئے کوئی نہ کوئی مس ایڈونچر کی ضرورت ہے۔
![]()