یونان/ ایتھنز (رپورٹ: ملک فیصل سمرالہ) پاکستان میں ایک کلچر پروان چڑھ رہا ہے جس کو رات و رات امیر بننا ہے چاہے وہ کسی بھی طریقے سے ہو اس سلسلہ میں سب سے آسان اور جائز طریقہ دیار غیر میں کمائی کو سمجھا جاتا ہے ڈالر، پونڈ، یورو، درھم، دینار کی گڈیاں اور یورپ کی چکا چاند روشنیاں پاکستانی نوجوانوں کیلئے مقناطیس کا کام کرتی ہیں یہاں تقریباً جوان ہونے والا ہر نوجوان بیرون ملک جانے کا خواہاں ہے اس کی دوسری اہم وجہ اپنے علاقے کے بیرون ملک بسنے والوں کی دولت ہے یہ احساس محرومی اور مقابلے کا رجحان ہے جو انسان میں پایا جاتا ہے اس کا فائدہ انسانی سمگلر اٹھاتے ہیں اور سادہ لوح لوگوں کو سہانے خواب دیکھا کر سستے داموں یورپ لے جانے کا جھانسہ دیتے ہیں اس مقصد کے لئے ایران، ترکی اور یونان جانے کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے جسے حرف عام میں” ڈنکی” کہتے ہیں ترکی اور یونان کے بارڈر پر ایک نہر واقع ہے لوگ اسے تیر کر پار کرتے تھے اب تو موٹر بوٹ بھی استعمال ہوتی ہے اس لئے اس کا نام ڈنکی پڑا یونان جا کر پناہ گزیں کیمپوں میں پناہ لیتے تھے جسے سائلم اپلائی کرنا کہتے ہیں یہ بھی ایک لمبا اور تکلیف دہ نظام ہے جس میں پانچ سال یا اس سے بھی زیادہ عرصہ متعلقہ ملک میں رہنا پڑتا ہے یعنی جس بچے کو آپ بھیج رہے ہیں اگر وہ ان پر خطر راستوں کو عبور کرکے زندہ پہنچ جاتا ہے تو بھی اسے دس سال کے لئے بھول جائیں ہاں یورو کی امید رکھ سکتے ہیں ویسے آج کل یورپ میں ریسیشن کے بعد اس کی بھی امید کم ہے پہلے تو ترکی یونان بارڈر پر لاشیں آتی تھیں جو بارڈر سیکورٹی فورسز کا نشانہ بنتے تھے ایسا ہی ایک واقعہ اس وقت پیش آیا جب سمبڑیال کے موضع ڈھلم بلگن کا رہائشی 20 سالہ حسنین ولد اختر قوم انصاری یونان جانے کی غرض سے ترکی کے راستے بارڈر کراس کرنے کی کوشش میں تھا کہ اچانک سیکیورٹی فورسز کیجانب سے فائر کھول دیے گئے ذرائع کیمطابق حسنین کو تین فائر لگے ہیں جسے اسکے ساتھی زخمی حالت میں راستے میں ہی پھینک کر فرار ہوگئے حسنین کیمطابق جب اسے ہوش آئی تو وہ ترکی کے شہر دوگوبیاس کے ایک ہسپتال کے بیڈ پہ تھا جہاں وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں ہے۔
![]()