کراچی (رپورٹ: زیشان حسین) کراچی پریس کلب میں پیرامیڈیکل اسٹاف جوائنٹ ایکشن کمیٹی (سندھ) کے عہدیداروں نے پریس کانفرنس کرتے ہوۓ کہا کہ ہم انتہائی دکھ کے بیان کر رہے ہیں کہ محکمہ صحت سندھ میں کام کرنے والے پیرامیڈیکل اور دیگر ملازمین انتہائی مشکلات میں اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں- محکمہ سندھ میں کام کرنے والے ملازمین اپنے معاشی مسائل کے باوجود اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈال کر اپنے فرائض بلا تفریق رنگ و نسل سر انجام دے رہے ہیں، ہمارے بہت سے پیرامیڈیکل ملازمین اپنے فرائض سر انجام دیتے ہوۓ مختلف موذی امراض کا بھی شکار ہوجاتے ہیں-، محکمہ صحت سندھ کے ملازمین کے ساتھ انتہائی غیر منصفانہ رویہ روا رکھا گیا ہے اور ملازمین کو ان کے جائز حقوق سے محروم رکھا گیا ہے- 18 ترمیم کے بعد جناح ہسپتال، این آئی سی ایچ میں ملازمین کو ہیلتھ انشورنس دیا گیا گئی جس پر ہم ان کو مبارکباد پیش کرتے ہیں لیکن سندھ بھر کے دیگر ہسپتالوں کے ملازمین ہیلتھ انشورنس اور دیگر مراعات سے محروم ہیں، ڈاکٹرز، نرسز اور فارماسسٹ کو بھی ہیلتھ الاؤنس اور دیگر تمام مراعات ہیں لیکن پیرامیڈیکل اسٹاف اور اگر ملازمین جو صحت کے شعبے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ان کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جارہا ہے- محکمہ صحت پاکستان بھر کے ہسپتالوں میں کام کرنے والے ملازمین پنجاب، کے پی کے، بلوچستان کے ملازمین کو ہیلتھ الاؤنس اور دیگر تمام سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں لیکن سندھ میں حکومت وقت نے صحت کے ملازمین کے لئے آنکھیں بند رکھی ہیں شاید محکمہ صحت سندھ کی نظر میں دیگر ملازمین نہیں ہیں یا ان کے معاشی مسائل نہیں ہیں، ہم متعدد مرتبہ اپنے ہیلتھ الاؤنس اور دیگر مسائل کو لے کر وزیر صحت سندھ، سیکریٹری صحت اور دیگر اعلی حکام تک جاتے رہے ہیں اور تحریری طور پر بھی اگاہ کرتے رہے ہیں لیکن تاحال ہمارے مسائل کو سنجیدگی سے نہیں سنا گیا- ہم سندھ بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں کام کرنے والی پیرامیڈیکل اسٹاف کی نمائندہ تنظیموں جس میں پیپلز پیرامیڈیکل، سندھ پیرامیڈیکل، آل سندھ پیپلز پیرامیڈیکل، پاکستان پیرامیڈیکل RP2076، میڈیکل ایڈ کمیٹی شامل ہیں ایک پیرامیڈیکل جوائنٹ ایکشن کمیٹی تشکیل دی ہے- ہم آج کی پریس کانفرنس کے توسط سے آپ صحافی حضرات کے ذریعے اپنی بات محکمہ صحت سندھ کے اعلی حکام تک پہنچانا چاہتے ہیں ہم آج اپنی جدوجہد کے آئندہ کے لائحہ عمل کا بھی اعلان کر رہے ہیں- جس طرح محکمہ صحت صوبہ سندھ میں ڈاکٹرز، نرسنگ اسٹاف، فارماسسٹ، جناح اور این آئی سی ایچ لو پیرامیڈیکل اور دیگر ملازمین کو ہیلتھ پروفیشنل الاؤنس مراعات دی جارہی ہیں ٹھیک اسی طرح محکمہ صحت سندھ کے تمام ملازمین کو بھی ہیلتھ الاؤنس سمیت دیگر تمام مراعات دی جائیں تاکہ ملازمین میں پائی جانے والی بے چینی و احساس محرومی کا خاتمہ ہوسکے ہم آپ کو بتاتے چلیں ایک صوبے میں دوہرا معیار روا رکھا گیا ہے کچھ ملازمین کو ہیلتھ پروفیشنل الاؤنس اور دیگر مراعات دی جارہی ہیں لیکن باقی پورے سندھ میں سرکاری ہسپتالوں میں ملازمین کو ہیلتھ پروفیشنل الاؤنس سے محروم رکھا گیا ہے- ہم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی جانب سے چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو، کو چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی آصف علی زرداری، وزیر اعلی سندھ، وزیر صحت، چیف سیکریٰٹری سندھ، سیکریٰٹری صحت سندھ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمیں فوری طور پر ہیلتھ پروفیشنل الاؤنس سمیت دیگر تمام جائز حقوق دیئے جائیں- ہم چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کرتے ہیں کہ ہمارے جائز حقوق پر از خود نوٹس لیں تاکہ ہمارا معاشی قتل عام بند ہو، ہم تمام صحافی برادری جو ریاست کا اہم ستون ہے ان سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ ہمارے جائز حقوق کے لئے ہمارا ساتھ دیں ہم امید کرتے ہیں کہ آپ صحافی حضرات غیر جانبدارانہ رپورٹنگ کرکے ہمارے جائز حقوق کے لئے ہمارا ساتھ دینگے- ہم انسانی حقوق کی تنظیموں سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ محکمہ صحت سندھ کے ملازمین کا ساتھ دیں تاکہ ہم اپنے بنیادی حقوق حاصل کر سکیں- ہم اس پریس کانفرنس کے ذریعے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ایجنسیز کو بھی آگاہ کر رہے ہیں کہ ہم ایک پر امن احتجاج کے ذریعے اپنے جائز حقوق مانگ رہے ہیں- آج ہم اپنی جدوجہد کے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کر رہے ہیں-
اگر ہمارا ہیلتھ الاؤنس اور دیگر مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو ہم کراچی سمیت سندھ بھر کے سرکاری اور دیگر مراکز صحت میں احتجاجی تحریک چلائیںگے- ہم محکمہ صحت سندھ کو 15 دن کا الیٹی میٹم دیتے ہیں کہ ہمارے جائز مطالبات منظور کئے جائیں بصورت دیگر ہم 15 فروری کو کراچی پریس کلب پر احتجاج کا اعلان کرتے ہیں- 16 فروری سے 20 فروری روزانہ 2 گھنٹے ٹوکن اسٹرائیک اور بازؤں پر سیاہ پٹیاں بندہ کر کام کریںگے، اس کے بعد 21 فروری سے 25 فروری تک تمام او پی ڈیز کام بند کردیا جائے گا اگر پھر بھی ہمارے مطالبات نہ مانے گئے تو ہم تمام ہسپتالوں میں سوائے ایمرجنسی کے تمام ڈیپارٹمنٹ کا بائی کاٹ کریںگے اور ہسپتالوں کی تالا بندی کا اعلان کریں گے-

مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو ہم کراچی سمیت سندھ بھر کے سرکاری اور دیگر مراکز صحت میں احتجاجی تحریک چلائیںگے- پیرامیڈیکل اسٹاف جوائنٹ ایکشن کمیٹی (سندھ) فائل فوٹو