تازہ ترین
Home / اہم خبریں / حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے آج میڈیا ورکرز سڑکوں پر آچکے ہیں اگر یہ سلسلہ نہیں رکا تو کل ان کی تحریک ملک گیر تحریک میں بدل سکتی ہے۔ ڈاکٹر فاروق ستار

حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے آج میڈیا ورکرز سڑکوں پر آچکے ہیں اگر یہ سلسلہ نہیں رکا تو کل ان کی تحریک ملک گیر تحریک میں بدل سکتی ہے۔ ڈاکٹر فاروق ستار

کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) متحدہ قومی موومنٹ بحالی کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ حکومت اور میڈیا مالکان کو مل کر میڈیا ورکرز کے مسئلے کا حل نکالنا ہوگا حکومت کو چاہیے کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ مل کر سرکاری اشتہارات کے واجبات کی ادائیگی کا ایسا میکنزم بنائے کہ حکومت سے ملنے والی رقم صرف میڈیا ورکرز کی بحالی اور تنخواہوں کی ادائیگی پر خرچ ہو میڈیا ہاوسز سے ورکرز کی جبری برطرفیوں، تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور کٹوتی کے خلاف جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے تحت کراچی پریس کلب میں احتجاجی کیمپ سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے آج میڈیا ورکرز سڑکوں پر آچکے ہیں اگر یہ سلسلہ نہیں رکا تو کل ان کی تحریک ملک گیر تحریک میں بدل سکتی ہے جس میں سیاسی جماعتیں، مزدور تنظیمیں اور سول سوسائٹی بھی شامل ہوگی ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ جبری برطرفی کا دکھ سمجھ سکتا ہوں کیونکہ میں خود بھی جبری برطرف کیا گیا ہوں انہوں نے کہا کہ میں میڈیا ورکرز کے تمام مطالبات کی حمایت کرتا ہوں اور ان کی تحریک کا حصہ ہوں۔ کراچی یونین آف جرنلسٹس کے تینوں گروپس اورکراچی پریس کلب کی جوائںٹ ایکشن کمیٹی کے تحت کراچی پریس کلب میں مستقل احتجاجی کیمپ قائم ہے منگل کو بھی صحافیوں، اخباری کارکنوں، مختلف مزدور تنظیموں اور سول سوسائٹی کے افراد کی بڑی تعداد نے اظہار یکجہتی کے لیے کیمپ کا دورہ کیا کیمپ کے شرکا تمام وقت اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی کرتے رہے۔ کیمپ سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ ایک سازش کے تحت میڈیا انڈسٹری کے حالات خراب کیے گئے ہیں حکومت کو آئی ایم ایف کے پاس جانے کے لیے جواز چاہیے تھا اور اس کے لیے میڈیا انڈسٹری میں بحران پیدا کیا گیا میڈیا مالکان اس سازش میں حکومت کا حصہ ہیں لیکن ملک بھر کی صحافی برادری اور اخباری کارکن اب ایک پیج پر آچکے ہیں اور اپنے اتحاد سے اس سازش کو ناکام بنائیں گے مقررین کا کہنا تھا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی مالکان کی جنگ نہیں لڑے گی حکومت سے سرکاری اشتہارات کے بقایا جات کی ادائیگی کا مطالبہ بھی اس شرط کے ساتھ ہے کہ ہر ادارے کو ملنے والی رقم ایک علیحدہ سیلری اکاونٹ کھول کر اس میں منتقل کی جائے گی اور یہ رقم صرف جبری برطرف کیے گئے ملازمین کی بحالی اور تنخواہوں کی ادائیگی پر خرچ ہوگی اس موقع پر اے آر وائی نیوز اور نائنٹی ٹو نیوز کی انتظامیہ کے اقدامات کی تعریف کی گئی جہاں سے نہ تو کسی میڈیا ورکر کو جبری برطرف کیا گیا ہے اور نا ہی تنخواہوں میں تاخیر یا کٹوتی کی جارہی ہے احتجاجی کیمپ سے پی ایف یو جے دستور کے سیکریٹری جنرل سہیل افضل، جوائنٹ ورکرز ایکشن کمیٹی کے کنوینر کرامت علی، کراچی یونین آف جرنلسٹس کے صدر فہیم صدیقی، کے یو جے کے جنرل سیکریٹری عاجز جمالی، کراچی پریس کلب کے سابق سیکریٹری مقصود یوسفی، اے ایچ خانزادہ، کراچی پریس کلب کے سیکریٹری ارمان صابر، جوائنٹ سیکریٹری حنیف اکبر، معروف مزدور رہنما لیاقت ساہی، منظور رضی، ہوم بیسڈ ورکرز فیڈریشن کی جنرل سیکریٹری زہرہ اکبر خان، فرینڈز آف لیاری کے رہنما حبیب جان، ممتاز کاروباری شخصیت یحیِی پولانی ودیگر نے خطاب کیا جبکہ نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن کے جنرل سیکریٹری ناصر منصور، ڈیموکریٹک وومن ایسوسی ایشن کی جنرل سیکریٹری کلثوم جمال میڈیا ورکرز آرگنائزیشن کے چیئرمین عرفان علی، جاوید پریس ایمپلائز یونین سی بی اے کے جنرل سیکریٹری رانا یوسف اور سول سوسائٹی کے دیگر افراد بھی اس موقع پر موجود تھے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے تحت کراچی پریس کلب میں مستقل احتجاجی کیمپ قائم ہے جبکہ جمعہ کو جوائنٹ ورکرز ایکشن کمیٹی کے تحت ابراہیم حیدری کے قریب میڈیا ہاوس کے باہر احتجاجی کیمپ لگایا جائے اور دھرنا دیا جائے گا۔

About admin

یہ بھی پڑھیں

کمالیہ شہر کے اندر پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش کو ختم کیا جائے

    ملازمین نے ڈپٹی کمشنر ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نام تحریری درخواست دے دی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے