کراچی (رپورٹ: ذیشان حسین) فشریز سیکٹر کے اسٹیک ہولڈرز نے نئی وفاقی فشریز پالیسی کو مسترد کرتے ہوئے اس کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کردیا۔ جمعرات کو کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس میں ماہی گیروں، لانچ مالکان، فیکٹری مالکان اور بیوپاریوں کے نمائندوں نے نگراں دور حکومت میں خاموشی سے نئی پالیسی کی منظوری اور نفاذ کو مقامی لانچ مالکان کے خلاف سازش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی سمندر کو غیر ملکی فشنگ کمپنیوں کو حوالے کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس کے خلاف سخت مزاحمت کی جائے گی- حکومت سالانہ 50 ارب روپے سے زائد زر مبادلہ کمانے والے فشریز شعبے کو تباہ ہونے اور لاکھوں افراد کو بے روزگار ہونے سے بچانے کے لئے فوری اقدمات کرے۔ پریس کانفرنس سے فشر مین کو آپریٹو سوسائٹی کے چیئرمین عبدالبر، وائس چیئرمین ابو زر ماڑی والا، صدر سی فوڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن اخلاق حسین عابدی، سرپرست سندھ ٹرالرز آنرز اینڈ فشرمین ایسوسی ایشن (اسٹوفا) سرور صدیقی و صدر حبیب اللہ نیازی، صدر مول ہولڈرز ایسوسی ایشن بابو اسماعیل صدر نیٹو آئی لینڈر فشر مین ایسوسی ایشن آصف بھٹی و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عبوری دور حکومت میں نئی فشریز پالیسی بنائی گئی جس میں اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں نہیں لیا اور نہ ہی مشاورت کا حصہ بنایا گیا ہمیں نئی پالیسی کا اس وقت معلوم ہوا جب اس پالیسی کے تحت پاکستان میری ٹائم سیکورٹی ایجنسی نے ایک لانچ کو تحویل میں لیا اور سوار تمام افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کردی گئی جب کہ وفاقی ادارے میرین فشریز ڈپارٹمنٹ سے استفسار پر انکشاف ہوا کہ انہوں نے انتہائی رازداری سے فشنگ لائنس کے لئے اشتہار بھی دیدیا تھا جس کے مطابق درخواست دینے کے لئے 15روز دئے گئے تھے جو ختم ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئی فشریز کو ایک منظم سازش کے تحت نافذ کردیا گیا ہے جس کے زریعے مخصوص عناصر کے زاتی مفادات حاصل کرنا چاہتے ہیں اسلئے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس کی تحقیقات کی جائے۔ حافظ عبدالبر کا کہنا تھا کہ سی فوڈ انڈسٹری تیزی سے فروغ پا رہی ہے بلوچستان حکومت کی جانب سے بھی گزشتہ ایک ماہ سے کراچی سے جانے والی لانچوں کو شکار سے روکا جارہا ہے اور اب نئی وفاقی فشریز پالیسی سامنے آنے سے پوری انڈسٹری جمود کا شکار ہوگئی ہے، ہم طویل عرصے سے سندھ کے کریکس میں ممنوعہ جالوں کے زریعے شکار اور غیر قانونی جیٹیوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کررہے ہیں جس پر متعلقہ ادارے توجہ نہیں دے رہے لیکن ملکی سی فوڈ انڈسٹری میں ریڑھ کی ہڈی کی حییثت رکھنے والے ماہی گیروں اور لانچ مالکان کے خلاف متحرک ہوگئے ہیں۔ حبیب اللہ نیازی کا کہنا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ کوئی مافیا حالات خراب کرکے حکومت کو ناکام کرنے کی کوشش کررہی ہے وفاقی حکومت کو اس صورتحال کا نوٹس لینا چاہیے۔ اخلاق حسین عابدی نے کہا کہ سمندر میں جس طرح تین روز بنائے گئے ہیں اس سے 80 فی صد لینڈنگ معطل ہوجائے گی اس لئے ہم ان اقدامات کو کسی طور قبول کرنے کو تیار نہیں اور اس کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کرینگے- بابو اسماعیل نے کہا کہ کراچی کے لانچوں کو بلوچستان کے سمندری حدود میں روکنے سے نفرتیں جنم لیں گی ایک ہی ملک ہے اور ایک ہی سمندر ہے حکومت کو قومی پالسیساں مرتب کرنی چاہیے، دریں اثنا کراچی پریس کلب کے باہر ماہی گیروں اور لانچ مالکان نے بڑی تعداد میں مظاہرہ بھی کیا اور نئی فشریز پالیسی کے خلاف نعرے بازی کی اور حکومت سے مقامی انڈسٹری کو بچانے کے لئے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا-
![]()