ڈیرہ اسماعیل خان (رپورٹ: گوہر غنچہ) ڈیرہ اسماعیل خان میں مضر صحت اور ملاوٹ شدہ دودھ ، دہی کی فروخت کا سلسلہ جاری، ڈیال روڈ کے رہائشی میاں بیوں اور بچوں سمیت پانچ افراد مضر دودھ استعمال کرنے سے تشویشناک حالت میں ہسپتال پہنچ گئے۔ ڈیرہ اسماعیل خان شہر میں مضر صحت اور ملاوٹ شدہ دودھ، دہی کی فروخت کا سلسلہ عروج پر پہنچ گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق دودھ فروش کیمیکل اور کھاد سمیت دیگر ناقص اور غیر معیاری اشیاء کا استعمال کرکے مصنوعی دودھ تیار کرتے ہیں پھر باآسانی شہرکی مختلف دکانوں، ہوٹلوں اور گھروں میں فروخت کردیتے ہیں۔ مذکورہ مضرصحت اور ناقص دودھ کے استعمال سے شہریوں کی بڑی تعداد مختلف بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں۔ ڈیال روڈ خیبر آباد کالونی میں مضرصحت کیمیکل ملا دودھ استعمال کرنے سے وہاں کے رہائشی سید جاوید شیرازی، اہلیہ اور تین بچوں کی حالت انتہائی خراب ہوگئی، ان کے پیٹ میں شدید درد کے ساتھ انہیں الٹیاں وراسہال شروع ہو گئے جنہیں انتہائی تشویشناک حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں طبی امداد کے کے بعد ان کی حالت خطرہ سے باہر بتائی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے علاقہ ڈیال روڈ پر واقعہ دودھ فروش سے دودھ خریدا اور اہلیہ نے گھر میں اس دودھ سے چائے بنائی۔ جونہی سب نے چائے پی تو بچوں سمیت سب کی حالت خراب ہوگئی اور انہیں ہسپتال منتقل ہونا پڑا۔ اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ فوڈ اتھارٹی کے ذمہ داران نے ناقص وغیر معیاری مضر صحت دودھ سپلائی کرنے والے گوالوں کو کبھی چیک کرنے کی ضرورت محسوس ہی نہیں کی جس کی وجہ سے دودھ فروش اور گوالے دیدہ، دلیری سے اندورن شہر سمیت مضافاتی علاقوں میں مضر صحت دودھ فروخت کرکے شہریوں کو بیماریوں میں مبتلا کررہے ہیں اور شہری ان لوگوں کی وجہ سے مضر صحت دودھ کے استعمال پر مجبور ہیں۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر ڈیرہ سمیت دیگر اعلی عہدیداروں سے مضر صحت دودھ فروخت کرنے والے دکانداروں اور گوالوں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
![]()